Daily Mashriq

اسرائیل اور سعودی عرب کا مشترکہ دشمن !

اسرائیل اور سعودی عرب کا مشترکہ دشمن !

کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے اتنا جانتا ہوں کہ قرآن وسنت کی رو سے مسلمانوں کا دوست بھی اوردشمن بھی ایک ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ’’مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ‘‘اس پر گواہ اور ناقابل تردید ثبوت کے طور پر قیامت تک موجود رہے گا ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مسلمانوں کے درمیان اُخوت اور بھائی چارہ کمزور ہوتا چلا گیا اور آپس کے تعصبات اور دشمنیاں بڑھتی چلی گئیں ۔ اوریہ سب کچھ تب ہوتا ہے جب مسلمان اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات بھول جاتے ہیں یا قصداً عمداً پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔اسلامی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہوتی ہے کہ مسلمانان عالم نے جب کبھی اور جس دور اور خطے میں بے اتفاقی اور نا چاقیوں کا مظاہرہ کیا ہے ، اُنہوں نے بہت بڑا نقصان اُٹھا یا ہے ہماری تاریخ میں یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ مسلمان تخت وتاج اور اقتدار و مفادات کے حصول کے لئے ایک دوسرے کو ختم کرنے کے درپے رہے ہیں ۔ سپین سے لیکر افریقہ ، مشرق وسطیٰ اور ہندوستان میں جب مسلمانوں کی حکومتیں گری ہیں اور سقوط غرناطہ سے لیکر سقوط ڈھاکہ ، بغداد اور کابل تک سب زوال و بربادی کی ایک ہی داستان ہے ۔ نفاق ، عدم اتفاق اور آپس کا انتشار ہمیشہ سے مسلمانوں کی قرآن کریم کے الفاظ میں ’’ہوا‘‘ نکالنے کا سبب بنا ہے ۔ اس وقت عالم اسلام میں جو شدید بحران جاری ہے ، اس کے پیچھے بھی یہی عناصر و عوامل کار فرما ہیں۔ ذاتی مفادات‘ اقتدار کی دوامیت کی لالچ اور نفسانفسی نے مسلمان امت کا وہ تصور عنقا کردیا ہے جس کا ذکر قرآن و سنت میں ہے ۔ اس حوالے سے دو مسلمان ملکوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تاریخ ، دین ، تہذیب و ثقافت اور اب علاقائی اور عالمی سیاست ومفادات کے اختلاف نے ایک ایسی گہری خلیج حائل کردی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہری اور وسیع ہوتی جارہی ہے ۔ کہنے والے تویہاں تک بھی کہتے ہیں کہ ایرانی اپنے ماضی کی روایات کے تحت جنگ قادسیہ کے اثرات لئے ہوئے چلے آرہے ہیں ۔ عراق ایران جنگ کے دوران بھی سعودی عرب نے ایران کی مخالفت میں صدام حسین کی نہ چاہتے ہوئے بھی مدد کی تھی حالانکہ چاہیئے تو یہ تھا کہ سعودی عرب کا کردار مصالحانہ ہوتا ۔ اس قسم کی تلخیوں کے علاوہ بھی سعودی عرب کو رضا شاہ پہلوی بادشاہ ہونے کے سبب امام خمینی اور اُس کے انقلاب کے مقابلے میں زیادہ قابل قبول تھا ۔ اس پس منظر کے ساتھ جب 9/11کا واقعہ ہوا تو ان دو اہم اسلامی ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ سے کشیدہ تر ہوتے چلے گئے۔ یمن ،شام اور بحرین کے معاملات نے تو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو باقاعدہ اور شدید پراکسی جنگ میں تبدیل کرلیا ۔ ان دونوں میں یقینا ایک دوسرے کے مفادات پر ضرب لگانے میں پہل کس نے کی ۔ یہ لا یعنی بحث ہے کیونکہ ہر ایک اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے لئے ہزار دلائل رکھتا ہوگا ۔۔۔ میں نہ اس پوزیشن میں ہوں اور نہ ہی مجھے دونوں ملکوں کے سارے حالات و معاملات معلوم ہیں ۔ لیکن اتنی بات جانتا ہوں کہ ایران انقلابی ملک ہونے کے ناتے خلیجی اور عرب ممالک میں اثر ورسوخ بڑھانے کے لئے کئی ایک معاملات میں حد سے تجاوز کرتا رہا ہے ۔۔ لیکن اس کے ردعمل میں سعودی عرب نے گزشتہ چند مہینوں میں جو کچھ کیا وہ یقینا اُس سب کچھ سے زیادہ ہے جوایران ابھی تک کرتا آیا تھا ۔ امریکی صدر نے ریاض میں سعودی بادشاہ اور اُس کے وزراء اور بہت ساری اہم شخصیات کی موجودگی میں ایران کے بارے میں جو کچھ کہا وہ کسی طور بھی پسندیدہ نہیں کہلایا جا سکتا اور اب چند دن قبل سعودی عرب کے ولی عہد نے امریکہ کے دورہ پر وہاں کی بااثر یہودی کمیونٹی سے ملاقات کے دوران جو کچھ کہا وہ عالم اسلام اور فلسطینی عوام ، اتھارٹی اور بالخصوص حماس کے مئوقف اور جدوجہد کے خلاف ہے ۔ ترکی کے مجاہد صدر نے بیت المقدس کے حوالے سے اپنے مئوقف کی جس انداز میں وضاحت کی ہے وہ پوری امت کی آواز ہے ۔ اس لئے بعض ممالک بالخصوص خلیجی ممالک اور مصر کے حکمران اُن کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اُن کے عزائم دوبارہ خلافت کے قیام کے ہیں ۔ اللہ کرے کہ طیب اردوان کو یہ توفیق حاصل ہو لیکن وہ شاید ابھی دور کی بات ہے ۔ اہم اور بہت خطرناک بات سعودی پرنس کی ہے کہ اُنہوں نے اسرائیل اور سعودی عرب کا دشمن مشترک قرار دیا ہے اور ان کا اشارہ ایران کی طرف ہے ۔ اس بات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ کیونکہ اسرائیل بیت المقدس اور فلسطین پر ناجائز قابض ہونے کے سبب ساری اُمت مسلمہ کا دشمن ہے جب تک بیت المقدس کو آزاد کرکے اور فلسطینی زمین پر فلسطینیوں کے حق کو قبول نہ کرے ۔ ایران کے ساتھ ہزار اختلافات کے باوجود کوئی بھی مسلمان شاید اُسے اسرائیل کے مقابلے میں غیر مشروط سپورٹ دینے کا حامی ہوگا ۔اور ہم پاکستانی تو پڑوسی کی حیثیت سے اسرائیل کے مقابلے میں ہمیشہ دامے درمے سخنے ہر لحاظ سے مدد کریںگے ۔ بس ایران کو بھی چاہیئے کہ پاکستان کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے برادرانہ تعلقات استوار کر کے افغانستان اور کشمیر مسئلہ پر پاکستان کی کھل کر حمایت کرے تاکہ اس خطے میں غیر غماز کو ہاتھ مارنے کا موقع نہ ملے ۔

متعلقہ خبریں