Daily Mashriq

جیتے ہیں اُمید پہ لوگ

جیتے ہیں اُمید پہ لوگ

گھوڑے کو چابک نہیں مارنی چاہئے‘‘ یہ بات پرانے اور سیانے لوگوں نے اپنے برسہا برس کے تجربات کی بنیاد پر کہی ہے اور ان کی زبان سے ادا ہونے والی یہ بات پتھر پر کھنچی یا کندہ کی جانے والی لکیر کی طرح سینہ در سینہ اور نسل در نسل سفر کرتی ایک ضرب المثل کا روپ دھار گئی۔ ضرب الامثال کا تعلق اگرچہ علم وآگہی کے شعبہ لسانیات سے ہے، تاہم اسے لوک ادب اور ثقافت کا حصہ بھی گردانا جاتا ہے۔ چلتے یا دوڑتے گھوڑے کو اگر آپ نے چابک رسید کی تو عین ممکن ہے وہ ناراض ہوکر دوڑنا، بھاگنا یا چلنا چھوڑ دے اور احتجاج کرنے پر اُتر آئے۔ کہتے ہیں کہ گھوڑا ایک وفادار جانور ہے۔ وہ اتنا جلدی احتجاج کرنے پر نہیں اُترتا۔ گھوڑوں کی بہت سی قسمیں اور نسلیں ہیں جن میں عربی نسل کے گھوڑے اعلیٰ ترین اور نہایت قیمتی سمجھے جاتے ہیں۔ عام طور پر گھوڑوں کی چار ٹانگیں اور ایک دم بھی ہوتی ہے۔ لیکن عہد حاضر میں دو ٹانگوں والے گھوڑے بھی دریافت ہو چکے ہیں جن کا آج کل بہت زیادہ چرچا ہے اور یہ گھوڑے اصیل اور اچھی نسل والے گھوڑوں سے زیادہ قیمتی گردانے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہئے کہ گھوڑے جس اور جیسی نسل سے تعلق رکھتے ہوں ان کے رشتے داروں یا آباؤ اجداد میں گدھے، خچر، زیبرے اور ٹٹو بھی شامل رہے ہیں۔ ان سب جانوروں میں اگر کوئی قدر مشترک ہے، تو وہ یہی ہے کہ ناراض ہونے یا اپنا دفاع کرنے کی غرض سے وہ دولتیاں بھی رسید کرنے لگتے ہیں۔ اس لئے گھوڑے کو چابک مارتے وقت ان کے دولتیوں مارنے کے اندیشے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ گھوڑے کو چابک مارنے کے بعد اچھا بھلا چلتا بھاگتا اور دوڑتا گھوڑا اڑیل گھوڑا بن کر پچانوے کے گھاٹے کا سبب بن جائے اور یوں لینے کے دینے پڑ جائیں اور چابک رسید کرنے والے کو نانی جی کا گھر یاد آجائے اور مزہ تو تب ہے جب نانی جی کا گھر اتنا دور ہو کہ وہاں گھوڑے بنا پہنچنے کا چارہ ہی نہ ہو لیکن ہم جس عہد میں زندگی کی سانسیں گن رہے ہیں وہ گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا عہد نہیں تاہم ہماری سڑکوں پر گھوڑوں، گدھوں اور گھوڑیوں سے کھینچی جانے والی ٹریفک جام کرنے اور ٹریفک کا قانون کے احترام کی دھجیاں اڑانے والی مادر پدر آزاد گدھا گاڑیوں اور ریڑھے ریڑھیوں کی کوئی کمی نہیں۔ اس حوالے سے بغیر پٹرول یا سی این جی استعمال کئے سڑکوں پر دندنانے والی ان گدھا گاڑیوں کو ہم اپنے ہاں چلنے والی شاہی سواری بھی کہہ سکتے ہیں، جن کی پیداوار میں ہم اچھے خاصے خود کفیل ہو چکے ہیں، بات گھوڑے کو چابک مارنے کے محاورے یا ضرب المثل سے شروع ہو کر جا پہنچی اپنے ہاں دندناتی اور ٹریفک جام کرتی گدھا گاڑیوں کی ریل پیل تک۔ اس سلسلہ میں اگر مجھ سے کسی گھوڑے یا اس قبیل کے کسی جانور یا ان سے ہمدردی رکھنے والے کسی فرد یا گروہ کی دل آزاری ہوئی ہو تو الابلا پہ سر ملا کے مصداق اس کا تمام تر ملبہ شہناز شوکت کے سر تھوپ دونگا، وہ جو میرے ساتھ اپنے بیٹے شہساز علی کی گاڑی میں سوار نوشہرہ ڈسٹرکٹ کے واپڈا ٹاؤن سے میونسپل انڈسٹریل ہوم پشاور میں اپنے فرائض منصبی ادا کرنے جارہی تھی، مجھے ایک جرم ناکردہ کی پاداش میں کورٹ پہنچنے کی جلدی تھی جبکہ شہساز اور شہناز کے علاوہ بیگم شہساز کو بھی اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر مقررہ وقت پر پہنچنے کی عجلت فکرمند کئے جارہی تھی لیکن گاڑی جام ٹریفک کے ہجوم سے نکل پانے کا سوال ہی حل نہیں کر رہی تھی، اگر ہم ایک جگہ پر جام ہونے والی ٹریفک سے بمشکل نکلتے تو تھوڑی دور چل کر ایک بار پھر ٹریفک جام کا مسئلہ درپیش آجاتا۔ یہ سب اس توڑ پھوڑ اور توڑ پھوڑ کے بعد جوڑ توڑ کے مرحلوں کی وجہ سے ہو رہا تھا جسے بی آر ٹی کا نام دیا جارہا ہے، اچھی بھلی سڑکیں تھیں ہم وقت پر اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر پہنچ جاتے تھے، عمران خان کی حکومت نے اتنا بڑا منصوبہ یا میگا پراجیکٹ شروع کر کے چلتے گھوڑے کو چابک ماری ہے، تسبیح رولتی شہناز کے منہ سے یہ بات سن کر میں نے سورۃ یاسین کا پارہ بند کر کے گاڑی کے طاق پر رکھا اور اس کی گفتگو میں شریک ہو کر کہنے لگا کہ کہتی تو تم سچ ہو لیکن ہمیں عمران حکومت کے گھوڑے کو ماری جانے والی اس چابک کے نتیجے میں بھگتی جانے والی اس اذیت کا خرمہ اور ثواب، اللہ نے چاہا تو بہت جلد مل جائے گا، آہ کب آئے گا وہ وقت میری بہو بولی، مجھے یوں لگا جیسے وہ کہہ رہی ہو

آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک

کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

اُمید پر دنیا قائم ہے گاڑی کے سٹیئرنگ پر قابو پاتے ہوئے شہساز نے جواب دیا اور پھر میں شہساز کی اس بات کے جواب میں راقم السطور ہم بولیں اور سنا کرے کوئی کے مصداق عمران خان اور اس کی پارٹی کی پالیسیوں کے حق میں تقریر نما باتیں کرنے لگا، اگر عمران کی صوبائی حکومت یہ سب کچھ نہ کرتی تو لوگ کہتے کہ اس نے دھرنوں پر وقت ضائع کر دیا ہے، لوگوں کا کیا، باتیں کرنے والے باتیں کرتے رہتے ہیں، ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ عمران خان کی حکومت صرف باتیں نہیں کر رہی، کام بھی کرتے نظر آرہی ہے۔ شہساز نے پی ٹی آئی پارٹی سے وابستگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ ہمیں تنقید کی بجائے اچھے وقت کا اتنظار اور اچھے دنوں کی اُمید رکھنی چاہئے، شہساز کی یہ بات سن کر میں منہ ہی منہ میں بڑ بڑانے لگا

کہتے ہیں جیتے ہیں اُمید پہ لوگ

ہم کو جینے کی بھی اُمید نہیں

متعلقہ خبریں