Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک مرتبہ غسان کی ریاست کا شہزادہ جوکہ عیسائی تھا‘ حضور اقدسؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے ایک درخواست کی کہ میں آپؐ کو کچھ ہدیہ دینا چاہتا ہوں۔ آپؐ نے تالیف قلب (اس کا دل اسلام کی طرف مائل کرنے) کے لئے اس کی درخواست کو قبول کر لیا‘ لیکن اس نے کہا کہ اس وقت ہدیہ میرے پاس نہیں ہے‘ مدینے سے سات میل دور میرا پڑاؤہے وہاں میرے سامان کیساتھ ہدیہ پڑا ہے۔ آپؐ ایک آدمی میرے ساتھ بھیجیں جو ہدیہ لے آئے۔حضور اکرمؐ نے حضرت معاویہؓ کو بھیجا۔ تعمیل حکم میں سیدنا معاویہؓ فوراً شہزادے کے ساتھ چل پڑے اور جوتا بھی نہیں پہنا۔ شہزادہ سواری پر سوار تھا اور حضرت معاویہؓ پیدل۔ عرب کی گرمی‘ ریتلی زمین‘ صحرا پر سفر اور دوپہر کا وقت۔ جب چند قدم چلے تو سیدنا معاویہؓ کے پاؤں جلنے لگے‘ شہزادے سے کہا کہ: ’’مجھے اپنے ساتھ سوار کرلے یا جوتے دے دے۔‘‘تو اس نے کہا: ’’میں شہزادہ! اور تو محمدؐ کا غلام! تجھے اپنی سواری پر سوار نہیں کرسکتا اور تجھے اپنا جوتا بھی نہیں دے سکتا۔‘‘حضرت معاویہؓ سات میل تک عرب کی دہکتی ریت پر دھوپ میں گھوڑے کیساتھ دوڑتے رہے اور اس مقام تک پہنچے‘ جہاں اس شہزادے کا سامان رکھا ہوا تھا۔ وہاں سے حضور اقدسؐ کی امانت لی اور واپس اسی حالت میں مدینہ پہنچے۔کپڑے خاک آلود تھے‘ پسینے سے شرابور تھے‘ پاؤں میں جوتا نہیں تھا۔جب حضور اقدسؐ نے حضرت معاویہؓ کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا کہ یہ کیسے ہوئی؟ تو سیدنا امیر معاویہؓ نے سارا واقعہ سنایا۔ حضوراقدسؐ نے فرمایا: ’’احلم من امتی معاویہ‘‘( میری امت میں سب سے بڑا برد بار! معاویہ ہے)۔

(البدایہ والنہایہ)

شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا ادریس کاندہلویؒ متوفی 1394ھ رقم طراز ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیقؓ کے پاس جب کوئی سائل آتا اور دعائیں دیتا جیسا کہ سائلین کا طریق ہے تو ام المؤمینؓ بھی اس فقیر کے لئے دعائیں کرتیں اور بعد میں کچھ خیرات دیتیں۔ کسی نے کہا ام المؤمنین! آپؓ سائل کو صدقہ بھی دیتی ہیں اور جس طرح وہ آپؓ کو دعا دیتا ہے آپؓ بھی دعا دیتی ہیں؟ فرمایا اگر میں اس کو دعا نہ دوں اور فقط صدقہ دوں تو اس کا احسان مجھ پر زیادہ رہے گا، اس لئے کہ دعا صدقہ سے کہیں بہتر ہے، اس لئے دعا کی مکافات دعا سے کر دیتی ہوں تاکہ میرا صدقہ خالص رہے، کسی احسان کے مقابلے میں نہ ہو۔حضرت شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں: حضرت شبلیؒ شہر سے گندم خرید کر سر پر اٹھائے اپنے گاؤں لے آئے، گھر آکر گٹھڑی کو کھولا تو اس میں سے ایک چیونٹی نکل آئی، جو پریشان ہو کر ادھر ادھر دوڑنے لگی۔ آپؒ کو اس پر بڑا ترس آیا اور یہ سوچ کر کہ نہ معلوم یہ اپنے کس کس عزیز سے الگ ہوئی ہوگی، اس کا دل ان کی جدائی سے تڑپتا ہوگا، ساری رات نہ سو سکے۔ آخر اسی طرح کپڑا باندھ کر پھر سفر کر کے جہاں سے گندم لائے تھے، وہیں لاکر اسی دکان پر کپڑا کھولا اور چیونٹی کو اس کے مستقر پر پہنچایا۔

متعلقہ خبریں