Daily Mashriq

کالعدم تنظیموں کے ارکان کو انتخابات سے روکنے کا معاملہ

کالعدم تنظیموں کے ارکان کو انتخابات سے روکنے کا معاملہ

وزیرمملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی کا کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے موثر میکانزم ترتیب دینے کا عندیہ اپنی جگہ لیکن نام بدل کر انتخابات میں بطور جماعت حصہ لینے والوں کو قانونی طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا ہے جبکہ انفرادی طور پر کسی امیدوار کو روکنے کیلئے کیا قانونی جواز پیش کیا جائے گا کہ عدالتیں مطمئن ہوجائیں۔ یہ بھی مشکل نظر آتا ہے علاوہ ازیں اگر ہر دو صورتیں ممکن بھی بنائی جائیں تو کسی امیدوار کی اعلانیہ یا خفیہ حمایت واعانت سے روکنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی جو لوگ فورتھ شیڈول میں شامل ہیں ان کو روکنا کافی نہ ہوگا بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کے عناصر کا معاشرے میں اثر ورسوخ باقی نہ رہے۔ وزیرمملکت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں جمع کروائی گئی رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کو خارج ازامکان قرار دیا کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جاسکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے معاملات پر قومی اتفاق رائے نہ ہونا سیاسی مقاصد کیلئے ان عناصر سے ہاتھ ملانا ان سے اتحاد کرنا اور حکومت سازی کیلئے ان عناصر کی حمایت کا حصول سخت اور مشکل حالات میں محولہ تنظیموں کا حکومتی اداروں سے بڑھ کر عوام کی خدمت یہ وہ سارے منفی اور بعض مثبت حالات ہیں جن کی وجہ سے یہ تنظیمیں ہمیشہ منظر میں اور موثر رہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سیاسی جماعتیں جس میں خود تحریک انصاف بھی شامل ہیں ان عناصر کے ہمدرد رہی ہیں۔ ہمارا کردار وعمل کا یہ تضاد ہی ہے کہ دنیا ہمارا اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ ایف اے ٹی ایف میں جو بھی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے اور اس کا فیصلہ جو بھی آتا ہے ہمارے قومی مفاد کا تقاضا ان پالیسیوں پر نظرثانی اور تبدیلی ہے جن کے باعث دنیا ہمارا اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ اس امر کا اعتراف نہ کرنا قرین انصاف نہ ہوگا کہ موجودہ دور حکومت میں ان عناصر کیخلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی گئی ہے جسے دنیا کس حد تک تسلیم کرتی ہے اور مزید کیا اقدامات کی فرمائش ہوتی ہے اس سے قطع نظر ان اقدامات کو قابل قبول بنانے کا تقاضا یہ ہے کہ ان عناصر کو پھر کسی نئی صورت میں سامنے آنے نہ دیا جائے جب تک وہ خود کو قومی سیاسی دھارے میں عملی طور پر جمہوری سیاسی جماعت ثابت نہ کریں ان کی نگرانی ہونی چاہئے جو فلاحی کام وہ مؤثر طور پر انجام دے رہے تھے ان کو سرکاری نگرانی میں جاری رکھنا عوام کے مفاد میں ہے۔

پی پی پی کے اعتراضات کی چھان بین' نیب کی ذمہ داری

پیپلز پارٹی کی جانب سے نیب کو بی آر ٹی کے معاملات کی تحقیقات کرانے کی درخواست کی حکومتی عہدیداروں کی طرف سے جواب دینے کی بجائے اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ خود سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک مصر ہیں کہ اس میں کوئی بدعنوانی' بے ضابطگی اور بدمعاملگی نہیں ہوئی ہے ایسے میں پی پی پی کے اس اقدام کا خیرمقدم نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ بہرحال نیب میں جمع کروائی گئی شکایت میں کہا گیا کہ ٹھیکے کے بالکل آغاز سے اس کا ایوارڈ، معاملے میں شامل تکنیکی معاملات، سروے رپورٹس، رائڈرشپ کا تعین، منصوبے کیلئے بسوں کی درآمد، زمین کا حصول، اس کا استعمال اور معاوضہ میں اقربا پروری، منظور نظر، تعصب کی بنیاد پر بے ضابطگیاں کی گئیں، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ پیپلز پارٹی نے شکایت میں مزید موقف اپنایا کہ بی آر ٹی منصوبے کو ایک دکھایا گیا تھا جیسے یہ پشاور کے شہریوں کیلئے امن، خوشحالی اور سکون لائے گا لیکن اس نے ضلع کے معاشی جڑوں کو اکھاڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اس منصوبے کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے میں ناکام رہی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کی لاگت70ارب روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس میں اب تک اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ منصوبہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ساتھ ہی مزید کہا گیا کہ معائنہ کرنے والی صوبائی ٹیم نے اپنی حالیہ رپورٹ ٹھیکے میں بے ضابطگیوں کے بارے میں نشاندہی کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پی پی پی نے جن امور کی اپنے طور پر نشاندہی کی ہے اس میں کوئی ٹھوس ثبوت اور بات شامل نہیں بلکہ یہ سب کچھ میڈیا پر آتا رہا ہے۔ کسی منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرکے تحقیقات کا مطالبہ ہر شہری اور سیاسی جماعت کا حق ہے لیکن اس کیلئے نیب کو قابل قبول ثبوت بھی دینے کے بعد ہی نیب مزید کارروائی کرتی ہے چونکہ یہ مسئلہ وسیع تر عوامی مفاد اور صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس میں شکوک وشبہات کی گنجائش نہیں لہٰذا نیب کا فرض بنتا ہے کہ وہ پیش کردہ معروضات پر ابتدائی انکوائری کے بعد معاملہ عوام کے سامنے رکھے اور جو بھی فیصلہ کیا جائے وہ باثبوت اور قابل قبول ہو تاکہ بی آر ٹی پر الزامات واعتراضات کا یا تو خاتمہ ہو یا پھر مبینہ بدعنوانیاں سامنے آئیں جس کی روشنی میں مزید کارروائی ہو۔

متعلقہ خبریں