Daily Mashriq

بلوچستان میں دہشت گردی کا بدترین واقعہ

بلوچستان میں دہشت گردی کا بدترین واقعہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی فروٹ اور سبزی منڈی میں بم دھماکے میں ہزارہ برادری کے آٹھ افراد سمیت16 افراد کی ہلاکت کا ایک اور افسوسناک واقعہ وطن عزیز میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کی ایک اور سازش ہے جس میں ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جو پہلے ہی بہت سے صدمات سہہ چکے ہیں اور جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا وہ کم آمدنی والے اور روز محنت ومشقت کرکے اپنے خاندانوں کی کفالت کرنے والے افراد تھے جس کی وجہ سے یہ واقعہ اور بھی تشویشناک اور باعث افسوس ہے۔ یہ منصوبہ بند دھماکہ اس وقت ہوا جب یہاں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد فروٹ اور سبزی خریدنے آئے تھے۔ ماضی میں ہونے والے حملوں کے پیش نظر ہزارہ برادری کے افراد کو مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن کے علاقوں سے سیکورٹی میں لایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی دہشت گردوں نے نئی منصوبہ بندی کرکے ان کو نشانہ بنایا۔ ہزارہ برادری کو سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان پر حملوں کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔ ان حملوں کے پیش نظر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے جن کے پیش نظر حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ان پر حملوں میں کمی آئی ہے۔ بلوچستان میں بالعموم اور ہزارہ برادری کو بالخصوص نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران بلوچستان میں دھماکوں کے تین واقعات ہوئے تاہم موجودہ دھماکہ سنگین اور بدترین واقعہ ہے جس میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں گوادر بندرگاہ، کوسٹل ہائی وے کی تعمیر اور سی پیک کے منصوبوں کے باعث جو ترقی اور وہاں کے محروم عوام کو جو فوائد متوقع ہیں وہ پاکستان کے دشمنوں کو ہضم نہیں ہوتا گوکہ کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد اس کے نیٹ ورک کی بیخ کنی کی جا چکی ہے لیکن اس کے باوجود بھی بلوچستان میں ایسے عناصر موقع ملنے پر خونریزی سے باز نہیں آتے۔ ہزارہ برادری کو تاک کر نشانہ بنانے کے پس پردہ فرقہ وارانہ منافرت' فرقہ وارانہ کشیدگی اور فرقہ وارانہ فسادات کی مذموم سازش کارفرما ہوسکتی ہیں جس کا عوام کو بخوبی ادراک تو ہے لیکن اس کے باوجود جذبات سے مغلوبیت کا خطرہ رہتا ہے۔ بلوچستان کے واقعے میں را کے ملوث ہونے کا امکان اس لئے زیادہ نظر آتا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد سے بھارت سے حملے کے خطرات کی دو سے تین سنجیدہ اطلاعات کا تذکرہ وزیرخارجہ کر چکے ہیں۔ سرحدی حملہ ایئرفورس اور نیوی کا استعمال ہی خطرہ نہیں ہوتا بھارت ماضی میں تسلسل کیساتھ تخریب کاری' دہشتگردی اور فرقہ وارانہ فسادات کروانے میں ملوث رہا ہے، ہزار گنجی کا واقعہ بھی اسی کا تسلسل نظر آتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عیار دشمن سے ہر قسم کے نقصان ہی کی توقع ہوسکتی ہے جسے ناکام بنانا انٹیلی جنس اداروں سمیت ملک کے عوام کی بھی ذمہ داری ہے۔ ادارے اپنا کام کر ہی رہے ہوں گے اس کے باوجود بھی بعض اوقات اس قسم کے جو بزدلانہ واقعات ہوتے ہیں اس کے بعد عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس قسم کی کارروائیوں کے پس پردہ کرداروں اور ان کے مقاصد کو سمجھتے ہوئے باہم اتحاد واتفاق برقرار رکھیں خاص طور پر علمائے کرام' دانشوروں اور سول سوسائٹی کا فرض بنتا ہے کہ وہ حالات کو موافق رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہزار گنجی کے واقعے کی جس طرح ملک بھر میں ہر سطح پر مذمت کی جارہی ہے اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ قومی یکجہتی کا مظہر امر ہی نہیں بلکہ اس احساس کا بھی باعث ہے کہ اس قسم کے مذموم واقعات کی مذمت میں پوری قوم یک زبان ہے اور تخریب پر آمادہ عناصر ان میں پھوٹ اور نفرت کا بیج نہیں بو سکتے۔ یہ ایک ایسا قابل اطمینان طرزعمل ہے جس سے اس قسم کے عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔جہاں تک ہزارہ برادری کے تحفظ کا معاملہ ہے اس ضمن میں سیکورٹی فورسز کے جتن کوئی پوشیدہ امر نہیں، ہزارہ برادری کو باربار نشانہ بنائے جانے کے بعد ان کے تحفظ کے خاطرخواہ اقدامات کئے گئے ہیں۔ تازہ واقعہ سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ دھماکہ کی منصوبہ بندی اور دھماکہ خیز مواد کی تنصیب اس حلقے کے اندر نہیں بلکہ باہر کی گئی جس کا کھوج لگانا زیادہ مشکل نہ ہوگا البتہ اس طرح کی ممکنہ واردات کی پوری طرح روک تھام کیلئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے جس میں مال اُٹھانے اور مال سبزی منڈی کے اندر لے جاتے وقت خاص طور پر دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کرنے والے آلات سے معائنہ کو معمول بنانا ہوگا تاکہ اس طرح کے خطرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ پوری قوم ہزارہ برادری کے غم میں شریک ہے اور دکھی خاندانوں کا دکھ درد ہر دردمند دل رکھنے والا پاکستانی محسوس کر سکتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر محنت کشوں کے لواحقین کی امداد اور ان کی کفالت کا انتظام یقینی بنانا چاہئے اور ہزارہ برادری کو تحفظ کا احساس دلانے اور ان کو مطمئن کرنے کیلئے مزید ممکنہ اقدامات میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں