Daily Mashriq

اُدھار تیل جو نہ مل سکا!

اُدھار تیل جو نہ مل سکا!

پاکستان کو اُدھار تیل دینے کے معاملے میں سعودی عرب کی رائے کچھ تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے، پہلے کہا جارہا تھا کہ ریاض پاکستان کو سالانہ 2.3 ارب ڈالر مالیت کا تیل اُدھار دینے پر راضی ہوگیا ہے لیکن اب کچھ ایسی خبریں آرہی ہیںکہ پاکستان کو تیل کی فراہمی کا معاہدہ اب تک حتمی شکل اختیار نہیں کرسکا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف قیمتوں پر ہے۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ تیل عالمی برانڈ WTI کے نرخ پر دیا جائے جبکہ سعودی عرب اسے اوپیک باسکیٹ کی شرح پر فروخت کرنا چاہتا ہے جو WTI سے تقریباً 8 ڈالر فی بیرل زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ادھار کی مدت پر بھی اتفاقِ رائے نہیں ہوا۔ سعودی عرب تین سال تک اُدھار تیل فراہم کرنے کو تیار تو ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ ماہانہ ادائیگی ایک سال بعد شروع ہو جائے یعنی اگر اِس سال اپریل سے تیل کی فراہمی شروع ہو تو مئی 2020ء میں اپریل 2019ء کے تیل کی قیمت ادا کر دی جائے اور اس کے ایک مہینے بعد مئی2019ء کی ادائیگی واجب الادا ہو جائے گی۔ پاکستان کی وزارتِ خزانہ کا خیال ہے کہ ادائیگی کے اس نظام سے عملاً پاکستان کو صرف ایک سال کی مہلت حاصل ہوگی۔

بظاہر تو یہ سب دام اور مدتِ ادھارکا معاملہ ہے لیکن اندرونی خبر رکھنے والے اسے گرمیٔ بازار کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ نے گزشتہ برس ایران کے جوہری ہتھیاروں کا معاملہ اُٹھا کر اس کے تجارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور ایرانی تیل کے گاہکوں سے کہا تھا کہ وہ 4نومبر تک تہران سے تیل کی خریداری بند کر دیں۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس پر امریکی صدر نے سعودی عرب، عراق اور متحدہ عرب امارات سے تیل کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے کیلئے پیداوار میں اضافے کی درخواست کی۔

سعودی عرب نے بھاری رقوم خرچ کرکے پیداوار میں 8لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ کر دیا اور ان کی دیکھا دیکھی موقع سے فائدہ اُٹھانے کیلئے روس نے بھی اپنی پیداوار 5لاکھ بیرل بڑھا دی۔ اسی دوران متحدہ عرب امارات، عراق اور کویت کی مجموعی پیداوار بھی ڈھائی لاکھ بیرل بڑھ گئی لیکن اکتوبر میں صدر ٹرمپ نے یوٹرن لیتے ہوئے چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور اٹلی کو چھ مہینے کیلئے اس پابندی سے مستثنیٰ کر دیا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں دھڑام سے زمین پر آرہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں سعودی عرب نے اپنی اضافی پیداوار کو ٹھکانے لگانے کیلئے نئے گاہک تلاش کرنے شروع کر دئیے۔ تیل کی فروخت میں اب سعودی عرب کا ایک بڑا مسابقت کار امریکہ ہے جو تقریباً 20لاکھ بیرل تیل فروخت کیلئے منڈی میں لے آیا ہے۔ سنگاپور، جاپان اور جنوبی کوریا امریکی تیل کے بڑے گاہک ہیں۔

سودا پرکشش بنانے کیلئے سعودی عرب اب اپنے تیل کی جزوی قیمت چینی کرنسی میں وصول کر رہا ہے۔ اسی کیساتھ سعودی آرامکو نے پیداوار میں کمی کے اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔ روس بھی قیمتوں کو سہارا دینے کیلئے پیداوار میں کمی کی کوشش کر رہا ہے۔ اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے، سعودی عرب اور روس کی جانب سے پیداوار میں کٹوتی کے علاوہ وینزویلا سے تیل کی برآمد صفر کے قریب ہے جبکہ لیبیا میں خانہ جنگی اور نائیجیریا میں بدامنی کی وجہ سے بازار کا رخ کرنے والے تیل کا حجم دو سے ڈھائی لاکھ بیرل یومیہ تک سکڑ چکا ہے چنانچہ اب تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تیل کی قیمتیں 64ڈالر فی بیرل ہوگئی ہیں۔

دوسری طرف امریکی وزارتِ خارجہ تاثر دے رہی ہے کہ مئی میں چھ مہینے کی مدت ختم ہونے پر ایرانی تیل پر پابندی سے استثنیٰ کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ چین تو شاید امریکی دباؤ برداشت کر لے اور صدر اردوان بھی ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھیں لیکن بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور اٹلی نے ایرانی تیل کا متبادل ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے یہ وفادار گاہک نقد قیمت دینے کو تیار ہیں جبکہ پاکستان سعودی عرب سے اُدھار کی بات کر رہا ہے۔ سعودی عرب کا خیال ہے کہ اگر روس نے 'لالچ' کا مظاہرہ نہ کیا اور پیداوار کی موجودہ حد برقرار رکھی تو ایرانی تیل کی بندش سے طلب ورسد کے درمیان پڑنے والی خلیج خام تیل کی قیمتوں کو 75 سے 80ڈالر فی بیرل تک پہنچا سکتی ہے۔ تاہم سعودی عرب کو یہ بات بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بحرشمالی (North Sea) اور امریکہ میں تیل وگیس کے وہ میدان منافع بخش ہوجائیں گے جہاں پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے۔ امریکہ کے بعض غیر روایتی میدانوں میں جہاں سلیٹی چٹانوں (Shale) سے گیس وتیل کشید کئے جاتے ہیں، پیداواری لاگت 60ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہے اور اگر قیمتیں 75ڈالر سے اوپر چلی گئیں تو سینکڑوں بند کنوؤں سے آنے والی پیداوار رسد وطلب کی خلیج کو بہت حد تک کم کردے گی۔ گویا قیمتوں میں اضافہ بہت ہی مختصر مدت کیلئے ہوگا، جس سے سعودی عرب بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے۔ طویل معاہدے کے تحت 2لاکھ بیرل یومیہ اُدھار دینے کے بجائے اس حجم کو نسبتاً زیادہ قیمت پر بیچ کر اضافی نقدی کمائی جاسکتی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے خیال میں سعودی عرب کی جانب سے اُدھار میں عدم دلچسپی کی وجہ کا یہی رجحان ہے۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بالاکوٹ پر بھارت کے ناکام فضائی حملے اور اس کے دوسرے دن فضا میں دوبدو جھڑپ کے دوران پاکستانی فضائیہ کی عمدہ کارکردگی پر بھارت کیساتھ اسرائیل اور امریکہ کو بھی شدید تشویش ہے چنانچہ واشنگٹن پاکستان کو شدید معاشی پریشانیوں میں مبتلا کرکے یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ زورِبازو اور طاقتِ پرواز اپنی جگہ، لیکن اس سے سونے کی گولیوں کا مقابلہ ممکن نہیں۔ پاکستان کو اپنی ضرورت کیلئے 2لاکھ بیرل تیل روزانہ کی ضرورت ہے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں