Daily Mashriq

شاپنگ بیگ پر پابندی کا اچھا فیصلہ

شاپنگ بیگ پر پابندی کا اچھا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت نے شاپنگ بیگ بنانے اور اس کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو بھی اس کا استعمال کرے گا پہلے اس کو 500روپے جرمانہ کیا جائے گا اور اگر بار بار یہ غلطی دہرائی گئی اور اس حکم کی خلاف ورزی کی گئی تو پھر 6مہینے کی قید کیساتھ ساتھ 50ہزار سے لیکر 5لاکھ تک سزا اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ خیبر پختونخوا حکومت کا ایک انتہائی اچھا اور ماحول دوست اقدام ہے۔ پلاسٹک شاپنگ بیگ اور پلاسٹک کی بنی ہوئی چیزوں کا استعمال ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں حد سے زیادہ ہوتا ہے۔ بہت سارے ممالک نے پلاسٹک کا استعمال بند کیا اور کئی ممالک میں پلاسٹک شاپنگ بیگ اور پلاسٹک کی بنی ہوئی اشیاء کے ختم ہونے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو این اے ایف ٹی اے ممالک یعنی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں پلاسٹک کا فی کس سالانہ استعمال 139کلوگرام، مغربی یورپ میں 136کلوگرام، جاپان میں 108کلوگرام، وسطی یورپ میں 48کلوگرام، افریقہ میں 16کلوگرام اور پاکستان میں فی کس سالانہ 5کلوگرام پلاسٹک کا استعمال ہوتا ہے۔ اگر ہم مزید غور کریں تو پاکستان میں پلاسٹک شاپنگ بیگ اور پلاسٹک کے بنے ہوئے برتنوں اور دیگر استعمال کی چیزوں میں حد سے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا میں سالانہ ایک ٹریلین یعنی ایک ہزار ارب شاپنگ بیگز استعمال ہوتے ہیں اور پلاسٹک دنیا میں دوسری بڑی چیز ہے جو ماحول، زرعی زمین اور ساحل سمندر کو آلودہ کر رہا ہے۔ پلاسٹک نہ صرف میدانی علاقوں کو خراب کر رہا ہے بلکہ ساتھ ساتھ سمندروں، ندی نالوں، دریاؤں اور سیوریج سسٹم کو بھی بلاک کرتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف سمندر میں زہریلا مواد چھوڑتا ہے بلکہ آبی حیات جن میں مچھلیاں اور دوسری جاندار اشیاء شامل ہیں ان کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ پلاسٹک ایک ہزار سال بعد مٹی میں مٹی ہو کر ختم ہو جاتا ہے مگر ان 1000سال میں پلاسٹک سے مسلسل زہریلے مواد پانی اور زمین میں شامل ہوتے رہتے ہیں جو آبی حیات اور زمین کی زرخیزی کو تباہ وبرباد کرتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ انٹارکٹیکا یعنی بحرمنجمد جنوبی جہاں پر کوئی انسان نہیں اور وہاں پر کوئی گند نہیں ہوتا وہاں بھی برف کے 20فٹ اندر پلاسٹک کے کیمیکل پائے گئے ہیں جس سے چرند پرند کی اقسام پلاسٹک سے خارج ہونے والے کیمیکلز کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں۔ پلاسٹک میں ایسے کیمیکلز پائے جاتے ہیں جو ہمارے انڈوکرائن سسٹم یعنی ہارمونز پیدا کرنے والے نظام میں نقصانات پیدا کرتے ہیں۔ پلاسٹک سے خارج کیمیکلز انسانوں میں موٹاپا اور بانجھ پن پیدا کرتے ہیں۔ پلاسٹک جانداروں کی ہزاروں اقسام کو تباہ وبرباد کرتا ہے۔ سمندر کے ایک مربع میل میں پلاسٹک کے 40سے لیکر 50ہزار ٹکڑے تیر رہے ہوتے ہیں۔ پلاسٹک میں جو کیمیکل Bisphenol.A ہوتا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ ماہرین ماحولیات اس کوشش میں ہیں کہ عام لوگوں میں اس زہریلے کیمیکل جو پلاسٹک شاپنگ بیگ اور چیزوں کے بنانے میں استعمال ہوتا ہے کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہی پیدا ہو۔ پلاسٹک سے انسانی جسم کے جو ہارمونز خراب ہوتے ہیں ان میں انسانی جسم کی نشو ونما اور بڑھوتری کے ہارمونز، میٹابالزم یعنی جسم میں موجود کیمیکلز جو انسانی جسم کی سرگرمیوں کو قائم اور قابو رکھتے ہیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نظام انہضام کی خرابی، سانس اور نظام تنفس کی بیماریاں، خون کے گردشی نظام والے ہارمونز بھی پلاسٹک سے خراب ہوتے ہیں۔ جنسی کارکردگی کا خراب ہونا اور جنسی ہارمونز میں خرابی پیدا ہونا، تولیدی نظام میں خرابی، مزاج اور طبیعت کا بگڑ جانا بھی اس پلاسٹک کی وجہ سے ہے۔ اس کے علاوہ پلاسٹک میں ایسے کیمیاوی مواد ہوتے ہیں جس میں Polyvinyl chloride، phihalate ، Polyester، Carbonate اور Acrylic شامل ہیں جس سے کینسر، پیدائشی نقصانات، پیچیدہ کھانسی، السر، چمڑے کی بیماریاں، بہراپن، نظر کی کمزوری، بدہضمی، جگر کی بیماریاں، مختلف قسم کے ہارمونز کا خراب ہونا، دمہ، قوت مدافعت کا خراب ہونا، آنکھ کان کی کھجلی اور الرجی کا ہونا، چکر آنا، متلی، بے ہوش ہونا، خارش ہونا، قے اور دست کی بیماری کا ہونا اور اس کے علاوہ تھکان جیسی بیماریاں شامل ہیں۔ پلاسٹک کے جلانے سے زہریلی گیسیں پیدا ہوتی ہیں جن سے عورتوں کے چہروں پر بال کا نکلنا اور سانس کی الرجی ہو سکتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں پلاسٹک شاپنگ بیگ اور پلاسٹک برتنوں کے بجائے سٹیل، مٹی، شیشے کے برتن استعمال کرنا چاہئے اور شاپنگ بیگ کی جگہ ہمیں کپڑے، کاعذ کے تھیلے اور Biodegradable یعنی ازخود تحلیل ہونے والی اشیاء کے شاپنگ بیگ استعمال کرنے چاہئیں۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ پلاسٹک شاپنگ بیگ اور ان کی صنعتوں کو ختم کیا جائے اور ان کو روزگار کا متبادل نظام مہیا کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں پہلے سے جو قانون سازی ہوئی ہے اس کو فی الفور نافذ کیا جائے۔ ملک میں شاپنگ بیگ، پلاسٹک کے برتن اور میڈیکل آلات بنانے والی کمپنیاں حد سے زیادہ خراب پلاسٹک استعمال کرتی ہیں جس کا تدارک بہت ضروری ہے۔ ہمیں ایک دفعہ پھر فطرت کی طرف آنا پڑے گا کیونکہ فطرت کے بغیر جتنی بھی چیزیں ہیں وہ ہمارے لئے نقصاندہ ہیں۔

متعلقہ خبریں