Daily Mashriq


موسم کی نیرنگیاں اور موضوع گفتگو

موسم کی نیرنگیاں اور موضوع گفتگو

انگریزوں کے بارے میں مشہور ہے کہ جب وہ ملتے ہیں تو سب سے پہلے موسم پر گفتگو کرتے ہیں' خدا جانے اس میں موسم کا کوئی قصور ہے یا پھر کوئی دوسری وجہ ہے' تاہم اگر ملنے والے پہلے ہی سے شناسا ہیں تو گفتگو زیادہ آسان ہو جاتی ہے اور فوراً ہی دوسرے موضوعات کی طرف رخ کرلیتی ہے۔ البتہ اگر پہلے سے شناسا نہ ہوں تو موسم ہی کی وساطت سے آہستہ آہستہ ان کے درمیان فاصلے قربتوں میں بدل جاتی ہیں اور ماحول پر سے تکلف کے سائے چھٹنا شروع ہوجاتے ہیں اور پھر دونوں یوں گھل مل جاتے ہیں جیسے اجنبیت کبھی تھی ہی نہیں۔ کچھ ایسا ہی تجربہ ایک لطیفے کی صورت ہمارے ہاں بھی مشہور ہے کہ ایک بار ٹرین کے سفر کے دوران جب ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی اور ریل گاڑی کی چھک چھک کے علاوہ دوسری کوئی آواز پورے کمپارٹمنٹ میں سنائی نہیں دے رہی تھی اچانک ایک ادھیڑ عمر کے شخص نے سامنے بیٹھے ہوئے نوجوان سے کہا' برخوردار کہاں جا رہے ہو' نوجوان نے منزل مقصود کا بتایا تو سوال پوچھنے والے نے کہا' میں بھی وہیں جا رہا ہوں' چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بزرگ نے پھر پوچھا' کہاں رہتے ہو' نوجوان نے اپنے شہر کا نام بتایا تو جواب میں کہا' ارے میں بھی تو وہیں رہتا ہوں' پھر پوچھا اچھا یہ بتاؤ اس شہر کے کس علاقے میں قیام ہے' نوجوان نے کہا' جناب میں فلاں محلے کا باشندہ ہوں' بزرگ نے پھر حیرت کا اظہار کیا اور کہا' کمال ہے میں بھی تو اسی محلے میں قیام پذیر ہوں۔ اب قریب بیٹھے ہوئے دیگر مسافروں نے ان کی طرف توجہ کرکے ان کی باتیں غور سے سننا شروع کردی تھیں' لوگوں کو اپنی جانب متوجہ پاتے دیکھ کر دونوں نے بھی زیادہ جوش وخروش کا مظاہرہ کرنا شروع کردیا اور بزرگ نے پھر نوجوان سے پوچھا' برخوردار محلے کی کس گلی میں تمہاری رہائش ہے' جواب ملا' فلاں گلی میں بود وباش ہے میری۔ بزرگ نے تقریباً اچھلتے ہوئے کہا' ارے واہ' کمال ہے' بھئی اسی گلی میں تو میرا بھی مکان ہے' پھر پوچھا' مکان نمبر کیا ہے تمہارا؟ نوجوان نے مکان نمبر بتایا تو بزرگ کی حالت دیدنی تھی' کمال ہے یعنی اسی نمبر کے مکان میں تو میرا بھی بسیرا ہے۔ قریب بیٹھے لوگوں میں سے ایک شخص سے رہا نہ گیا اور کہا' جب آپ دونوں ایک ہی شہر' ایک ہی علاقے' ایک ہی گلی اور پھر ایک ہی نمبر کے مکان میں رہتے ہیں تو آپ ایک دوسرے کو پہچانتے کیوں نہیں۔ بزرگ نے جواب دیا' ارے بھائی یہ میرا بیٹا ہے اور ہم نے یہ باتیں اس لئے کیں کہ پورے ریل کے ڈبے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اب اتنا لمبا سفر بنا گفتگو کے تو کٹ نہیں سکتا اس لئے ہم نے یہ طریقہ ڈھونڈا کہ لوگ ایک دوسرے سے باتیں کریں' گپ شپ اور ہنسی مذاق میں سفر کو آسان بنا لیں' یعنی کٹے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ۔ اس پر ایک زبردست قہقہہ پڑا اور پھر لوگوں نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ باتیں شروع کر دیں۔ دراصل یہی فرق ہے انگریزوں اور دیسیوں میں کہ ہم دیسی لوگ تو بقول خالد خواجہ یہی رویہ رکھتے ہیں یعنی

فضول بحث کا دروازہ کھول دیتا ہوں

خموش رہ نہیں سکتا ہوں بول دیتا ہوں

اور یہ فضول بحث کچھ یوں ہے کہ انگریز تو باتیں شروع کرنے کیلئے موسم کی نیرنگیوں کا سہارا لیتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں حالات میں جو بدلاؤ آتا ہے ہمارے ہاں بحث کے در وا کرنے کیلئے اسی سے استفادہ کیا جاتا ہے اور آج کل جسے دیکھو خواہ شناسا ہوں یا پھر اجنبی کہیں مل بیٹھیں' کہیں اکٹھے سفر کر رہے ہوں' کسی تقریب میں شریک ہوں' ان کی گفتگو کا محور اپنا ماحول ہی ہوتا ہے (جس کا موسم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا) بلکہ زیادہ تر مہنگائی وغیرہ ہی زیربحث لائی جاتی ہے کیونکہ اب تو ہر قدم پر' زندگی کے ہر شعبے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پنجے گاڑ رہی ہے' مگر شکر ہے کہ کسی کو کچھ تو احساس ہے اس صورتحال کا کہ جہاں ادویات کی قیمتوں کو 72گھنٹے میں واپس اپنی پرانی سطح پر لانے کا حکم صادر کر دیا گیا ہے یعنی ''آنے والی تھاں'' پر لانے کی سعی کی جا رہی ہے وہیں صوبائی حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کے احکامات صادر کر دئیے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ صرف دواؤں کی قیمتوں کو پرانی سطح پر لانے سے کام نہیں بنے گا بلکہ اگر وزیراعظم اس اعلان کیساتھ بجلی اور گیس وغیرہ کی قیمتوں کو بھی پرانی سطح پر لانے کے احکامات صادر فرما دیتے تو ''موگیمبو خوش ہوا'' کے فلک شگاف نعرے ضرور بلند ہوتے۔ مگر اپنی ایسی قسمت کہاں؟ کیونکہ ہمارے سابقہ حکمرانوں نے جو کچھ اس ملک کیساتھ کیا ہے اس پر تو عوام یہی کہنے پر مجبور ہیں کہ

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

خیر جانے دیں اور تھوڑی دیر کیلئے ہی سہی دل خوش کرلیتے ہیں کہ رمضان کی آمد سے پہلے ہی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے بارے میں حکومت کو تشویش لاحق ہو چکی ہے اور اگر واقعی عوام پر آنے والے دنوں خصوصاً رمضان المبارک کے دوران پڑنے والی مہنگائی کے افتاد کو روکنے کی حقیقی تدابیر کامیاب ہوگئیں تو پھر وہ بھی باہمی ملاقاتوں میں انگریزوں کی طرح موسم ہی کے بارے میں گفتگو کریں گے' وگرنہ بی آر ٹی کا موضوع تو ہے ہی۔ ورنہ بقول حسین مجروح صورتحال یوں بھی تو ہوسکتی ہے کہ

وہ قحط مخلصی ہے کہ یاروں کی بزم میں

غیبت نکال دیں تو فقط خامشی بچے

متعلقہ خبریں