Daily Mashriq

فلاحی ریاست میں معیشت کا کردار

فلاحی ریاست میں معیشت کا کردار

آج امریکہ، یورپ، جاپان اور کوریا وغیرہ کے ملکوں کو ترقی یافتہ اور فلاحی ریاستیں کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں عوام اور ریاست کے درمیان آئین ودستور اور قوانین کی صورت میں ایک ایسا بانڈ اور سوشل کنٹریکٹ موجود ہوتا ہے جو دونوں کے فرائض وحقوق کا صریح اور واضح انداز میں بغیر کسی چونکہ چنانچہ اور اگر مگر کے ہر شہری کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور پھر ہر شہری کو اس کے فرائض کی انجام دہی پر برضا ورغبت مجبور کرتا ہے۔ وہاں کی ریاستوں میں یہ سلسلہ قائم ہونے میں کم ازکم دو تین صدیاں لگیں۔ آج وہاں کے شہریوں کو جو سہولتیں حاصل ہیں ان کی فراہمی میں ریاست اور عوام کا متفقہ ومتعاون کردار ہے۔ ان کے ہاں ریاستی نظم ونسق کے سبب شہری زندگی اتنی پُرکشش ہے کہ دنیا کے ہر کونے سے لوگ کشاں کشاں وہاں پہنچنے کیلئے تن من دھن کی بازی بھی لگانے سے گریز نہیں کرتے۔ ان ملکوں میں رہائش اور روزگار کے خواہشمندوں میں زیادہ تعداد ایشیاء اور افریقہ کے لوگوں کی ہوتی ہے اور ایشیاء میں سب سے زیادہ تعداد جنوبی ایشیاء کے لوگوں کی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ ان خطوں کے ممالک کے حکمرانوں نے فلاحی ریاست قائم کرنے میں ہمیشہ کوتاہیاں کیں۔

غضب خدا کا کہ ہندوستان جیسا ملک جو دنیا کی بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہونے کے علاوہ اب سلامتی کونسل کا مستقل ممبر اور سپرپاور بننے کا بھی آرزومند ہے ممبئی کے کروڑوں لوگوں کو آج تک فٹ پاتھوں پر پیدا ہو کر وہیں پر مرنے سے نجات دلانے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش کرتے نہیں دیکھا گیا۔ اتنی شدید غربت کے باوجود اس کی کوشش یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ اور مہلک سے مہلک ہتھیار حاصل کرکے اپنے پڑوسیوں کو دھمکانے وغیرہ کیلئے اپنے بجٹ اور ٹیکسز کا وافر حصہ عوامی فلاح کے بجائے انسانیت کی دشمنی میں اُڑا رہا ہے۔ پاکستان مجبوراً اپنے دفاع کیلئے اپنے محدود وکم وسائل کے باوجود دفاعی اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہے۔ اسی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام کی زندگی کے اہم شعبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں لیکن اس کی اہم وجہ غربت کے علاوہ پاکستان میں امیر لوگوں کا ٹیکس نیٹ سے باہر رہنا بھی ہے جو اس ملک کے عوام کی تعلیم' صحت اور خوراک وغیرہ کیلئے بجٹ میں کافی استعداد نہ ہونے کا بہت بڑا سبب ہے۔ موجودہ حکومت ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے' لیکن شاید اس میں خاطرخواہ کامیابی ابھی تک ممکن نہیں ہوئی ہے۔ میرے نزدیک اس کی کئی وجوہات ہیں، پہلی وجہ یہ ہے کہ بعض امیر محب وطن حضرات اور عام ٹیکس دینے کے قابل لوگ جب یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری حکومتیں ان کے ٹیکس کا پیسہ اللوں تللوں میں اُڑا کرملک کے عوام کیلئے پینے کا صاف پانی تک مہیا کرنے کی روادار نہیں تو خدا لگتی بات تو یہی ہے کہ پھر کوئی ٹیکس دینا کیوں پسند کرے گا۔ مغربی ملکوں میں ٹیکس دینے والوں کو معلوم ہوتا ہے اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کی فلاحی ریاستیں ان کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں کرسکتیں کیونکہ وہاں پارلیمنٹ میں حزب اختلاف حکومتوں کے سروں پر کوتوال کی طرح کھڑی ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں کے پارلیمان کے بارے میں پچھلے دنوں کسی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی کہ ہمارے سیاستدان کبھی تو بندروں کی طرح لڑ لڑ کر باغ کا ستیاناس کر لیتے ہیں اور کبھی مل کر باغ کو ہڑپ کرلیتے ہیں۔ پاکستان میں جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں وہ جب اپنے ملک کا مغربی ملکوں کے ٹیکس دھندہ سے موازنہ کرتے ہیں کہ حکومت ان کو ٹیکس کے بدلے بجلی' گیس' مواصلات' سڑکیں' ہسپتال اور تعلیمی ادارے اور زندگی کی دیگر ضروریات کے حوالے سے بھرپور اور بروقت سہولیات فراہم کرتی ہے تو وہاں ہر آدمی کا دل چاہتا ہے کہ حکومت کو بروقت ٹیکس ادا کرے۔ وہاں تو ایسے امیر بھی ہیں جو اپنے واجب الادا ٹیکس سے زیادہ ٹیکس بھی بعض اوقات اس لئے ادا کر لیتے ہیں کہ ان کے غریب عوام کو اس کے ذریعے تعلیم اور صحت وغیرہ کی سہولیات فراہم ہوسکیں۔

پاکستان کے لوگ اپنے ملک سے محبت کرنے میں مشہور ہیں لیکن اس کیلئے ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ ٹیکس سے جمع ہونے والی رقوم کا استعمال دفاع اور شہری سہولیات کے علاوہ کہیں استعمال میں نہ لائے اور دیگر شعبوں میں اگر ان کا استعمال ناگزیر ہو تو عوام اور ٹیکس دھندہ کو اس حوالے سے باخبر رکھا جائے تاکہ ان کو خبر ہو کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ بہرحال ملکی تعمیر ہی میں صرف ہو رہا ہے، سیاستدانوں کی تجوریوں میں نہیں جا رہا۔ کارخانہ داروں' صنعت کاروں اور دیگر شعبوں سے متعلق ٹیکس دھندہ لوگوں کو حکومت کی طرف سے عزت واحترام' قومی ایوارڈز اور وقتاً فوقتاً صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کا موقع دیا جانا چاہئے تاکہ ان لوگوں کو احساس ہو کہ ان کیلئے حکومت اور عوام کی نگاہوں میں تعمیر وطن میں حصہ دار ہونے کے سبب بڑا احترام ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر امراء کیلئے ترغیب کی بات یہ ہے کہ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے' لہٰذا ملک کی سلامتی اور دفاع کیلئے اپنے حصے کا ٹیکس ادا کرتے رہنا چاہئے کہ آج کل اصل دفاع مضبوط معیشت ہی کے ذریعے ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں