Daily Mashriq


ہمیں اُردو سے پیار ہے لیکن؟

ہمیں اُردو سے پیار ہے لیکن؟

اُردو اور انگریزی کی آنکھ مچولی کی کہانی بہت پرانی ہے، وطن عزیز کی پیدائش کو تہتر برس ہوچکے ہیں اور ہم ابھی تک اسی قضئے میں اُلجھے ہوئے ہیں کہ ہم کیسے اپنے تعلیمی نظام اور سرکاری امور کو اُردو میں تبدیل کریں؟ ہماری دفتری زبان انگریزی ہے اس کی جگہ اُردو کو کیسے دیں؟ آیا یہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا یا ہم اُردو کو اپنا کر آج کی جدید دنیا کے تقاضے پورے نہیںکرسکیں گے؟ دنیا میں ترقی نہیں کرسکیں گے؟ یہ اور اس طرح کے دوسرے بہت سے سوالات پر بحث مباحثے ہوتے رہتے ہیں۔ انگریزی کی حمایت کرنے والے انگلش کی افادیت واہمیت ثابت کرنے کیلئے دلائل دیتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف سے اپنی قومی زبان کی افادیت واہمیت کے حوالے سے بھی بڑے مضبوط دلائل دئیے جاتے ہیں ان کا یہ کہنا ہے کہ جب تک ہم اپنی زبان کو اپنے یہاں رائج نہیں کریں گے، اسے اپنے نظام کا حصہ نہیں بنائیں گے، ہمارے لئے ترقی کرنا ایک خواب ہی رہے گا؟ ایک معاصر میں عمر خٹک صاحب کا ایک مضمون اس حوالے سے دیکھنے کا اتفاق ہوا، انہوں نے اردو زبان کے حوالے سے جو دلائل دئیے ہیں وہ یقینا دل کو چھونے والے ہیں! وہ بیسویں صدی میں فرانس کے عظیم مفکر، سیاستدان اور بائیوگرافر پال سارترے جنہیں 1964میں ادب کا نوبل پرائز لینے کا اعزاز بھی حاصل ہے ان کا آخری انٹرویو جو برصغیر کے حوالے سے تھا کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ بیسویں صدی میں برصغیر پاک وہند کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بڑے دوٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ''بیسویں صدی کے لحاظ سے برصغیر کا مسئلہ غربت ہے نہ افلاس، بھوک ہے اور نہ تنگدستی! بلکہ اس کا سب سے بڑا مسئلہ زبان کی منافقت ہے کہ اپنی زبان چھوڑ کر دوسری قوم کی زبان پر چلنا شروع کر دیا ہے''۔ اگر پال سارترے کے الفاظ پر غور کیا جائے اور اس کی روشنی میں تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی قوم نہیں ملے گی جس نے کسی دوسری زبان کو اپناکر ترقی کی منازل طے کی ہوں! جب اپنی زبان کو اپنا کر ترقی کے حوالے سے دلائل دئیے جاتے ہیں تو ہمار ے ذہن میں ایک خیال ضرور آتا ہے کہ کیا ہم نے اُردو زبان کو ترقی کی وہ تمام منازل طے کروا دی ہیں کہ یہ انگریزی کی جگہ لے سکے؟ کیا عصر حاضر کے جدید سائنسی علوم کے تراجم اُردو زبان میں مکمل ہوچکے ہیں؟ مغرب میں ہر روز ہونے والی نت نئی ایجادات کے حوالے سے جو کام ہو رہا ہے یا جس رفتار سے کتابیں لکھی جارہی ہیں کیا اسی رفتار سے ہمارے یہاں ان کتابوں کے تراجم بھی ہورہے ہیں؟ کیا ہم یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ ہم نے اب تک جدید علوم کے حوالے سے اردو میں اتنا مواد اکٹھا کر لیا ہے کہ اب ہم انگریزی سے اردو میں شفٹ ہوسکتے ہیں؟ یہ ثابت کرنا یقینا مشکل ہے! جہاں تک زبانی کلامی دعوؤں کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ہم خود کفیل ہیں۔ اُردو زبان کی محبت میں پرجوش نعرے لگانے اور بڑے بڑے دعوے کرنے کا چلن تو ہمارے یہاں عام ہے لیکن جب زمینی حقائق پر نظر پڑتی ہے تو اس حوالے سے عملی کام نہ ہونے کے برابر ہے اس میں یقینا کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی کہ صحیح معنوں میں ترقی کی شاہراہ پر صرف اسی صورت میں گامزن ہوا جاسکتا ہے جب اپنی زبان میں تعلیم حاصل کی جائے! اس حوالے سے انگریزی زبان کے حوالے دئیے جاتے ہیں کہ انہوں نے فرانسیسی زبان میں ہر چھپنے والی کتاب کو انگریزی میں منتقل کیا اور آج وہ اس مقام پر ہے کہ ہر قوم کی ضرورت بن چکی ہے! اسی طرح چین کی مثالیں بھی دی جاتی ہیں کہ چین ہمارے بعد آزاد ہوا لیکن اس نے اپنی زبان اپنا کر ترقی کی اور عروج کی وہ منازل طے کیں کہ آج دنیا انگشت بدنداں ہے! اسی طرح دوسری ترقی یافتہ اقوام کی تیز رفتار ترقی کی مثالیں بھی دی جاتی ہیں! بات تو سچ ہے لیکن کیا ہم نے ان اقوام کی طرح محنت کو اپنا شعار بنایا ہے؟ کیا ہم میں وہ احساس ذمہ داری پایا جاتا ہے جس کا مظاہرہ وہ اقوام اب تک کرچکی ہیں اور کرتی چلی آرہی ہیں؟ کیا ہماری ذہنی، معاشی اور معاشرتی پس ماندگی کی واحد وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے اردو زبان کو چھوڑ رکھا ہے؟ کیا ہم نے زندگی کے دوسرے شعبہ جات میں اپنے حصے کا کردار دیانت داری کیساتھ ادا کیا ہے؟ کیا ہم قوم کی تعریف پر پورے اُترتے ہیں؟ کیا ہم نے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک اپنے آپ کو ایک منظم اور باشعور قوم کے طور پر آج کی جدید دنیا میں منوایا ہے یا پھر بھیڑوں کا ایسا گلہ ہیں جو گڈرئیے سے محروم ہے اور جس کا جدھر منہ اُٹھتا ہے اس طرف بھاگ رہا ہے، جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ ہانک رہا ہے؟ کیا ہمارے ارباب اقتدار کی پہلی ترجیح کبھی تعلیم رہی ہے؟ ہم جس طرح زندگی کے ہر شعبے میں تقسیم ہیں کیا اسی طرح ہم نے پانچ دس قسم کے نصاب وطن عزیز میں رائج نہیں کر رکھے؟ کیا حکومت کی پُرخلوص سرپرستی کے بغیر کسی بھی قسم کی تعلیمی ترقی ممکن ہے؟ ہمیں اُردو سے پیار ہے، اُردو ہماری قومی زبان ہونے کیساتھ ساتھ رابطے کی زبان بھی ہے اور یہ ہر محب وطن پاکستانی کی خواہش بھی ہے کہ یہ ہمارے دفتری اور تعلیمی نظام کا حصہ بنے! مگر اس کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس اخلاص اور محنت کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ چین، برطانیہ اور دوسرے ممالک میں دیکھنے میں آیا ہے اور سب سے بڑھ کر اُردو کے نفاذ کیلئے قومی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے!۔

متعلقہ خبریں