Daily Mashriq


نئی حکومت ‘ آغاز کار اور اہداف

نئی حکومت ‘ آغاز کار اور اہداف

نئی حکومت‘ آثار بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف اور اتحادیوں کی حکومت‘ چند دن میں اختیارات سنبھالنے والی ہے اور نگران حکومت جانے والی ہے۔ نگران حکومت کا مینڈیٹ یہ تھا کہ وہ روز مرہ کے سرکاری کام نمٹاتی رہے ۔ شفاف اور آزادانہ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ معاونت کرتی رہے۔ انتخابات پرامن طور پر ہو گئے۔ یہ بات نگران حکومت کے کریڈٹ میں جانی چاہیے۔ نگران حکومت کے وزیر اعظم ناصر الملک نے کہا ہے کہ وہ آئندہ آنے والی یعنی عوام کی منتخب حکومت کے لیے ایک جامع روڈ میپ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ مضمر یہ ہے کہ اگر منتخب حکومت نے اس روڈ پر عمل کیا تو کامیاب رہے گی۔ لیکن یہ تو نگران حکومت کے مینڈیٹ میں شامل نہیں تھا۔ آئندہ اختیارات سنبھالنے والی حکومت عوام کی منتخب حکومت ہو گی ۔ اس کا اپنا منشور ہو گا ۔ اس کے اپنے وعدے ہوں گے ۔ اس کا اپنا لائحہ عمل ہو گا ۔ اس کی اپنی ترجیحات ہوں گی اور اپنے اہداف ہوں گے جو عوام کی آرزوؤں اور امنگوں کے عکاس ہوں گے جن کے لیے عوام نے نئی حکومت کو ووٹ کے ذریعے مینڈیٹ دیا ہے۔ نگران حکومت کو یہ خیال کیوں آیا کہ وہ آئندہ آنے والی حکومت کے لیے کوئی روڈ میپ چھوڑ کر جائے جس پر آئندہ حکومت سے عمل کرنے کی توقع ہو۔ نگران حکومت کا یہ مینڈیٹ نہیں تھا کہ وہ منتخب حکومت کے لیے کوئی ایسا روڈ میپ تیار کرتی۔ البتہ یہ توقع نگران حکومت سے تھی کہ وہ کوئی بڑی پالیسی تبدیلیاں کیے بغیر حکومت کا کاروبار چلائے گی اور نئی حکومت کو پیش کر دے گی۔ نگران حکومت سے یہ توقع حق بجانب ہو گی کہ وہ ایک جائزہ مرتب کرے کہ اس نے سابقہ حکومت سے کاروبار حکومت کس حالت میں اپنے ہاتھ میں لیا۔ اس کے لیے یہ ضروری تھا کہ نگران حکومت کوئی ایسی رپورٹ مرتب کرتی کہ مختلف شعبوں میں سابقہ حکومت نے کیا ترکہ چھوڑا۔ مثلاً یہ جو ہم روز سنتے ہیں کہ زرِمبادلہ کے ذخائر محض دو اڑھائی ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں جب کہ یہ کم از کم تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہونے چاہئیں، یہ کہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے فوری طور پر بارہ ارب ڈالر کی ضرورت ہے بصورت دیگر ہمیں ایک بار پھر کشکول لے کر آئی ایم ایف کے پاس جانا ہو گا۔ ایسی مستند رپورٹ نگران حکومت کی طرف سے جاری کی جانی چاہیے تھی۔ دفاع‘ خارجہ تعلقات‘ تجارتی خسارہ ‘ تعلیم ‘ صحت‘ توانائی ‘ زراعت‘ پانی ‘ امن وامان اور حصول انصاف کے شعبوں میں اور دیگر شعبوں میں جو صورت حال نگران حکومت کو ملی اس کے بارے میں تفصیلی رپورٹ ہونی چاہیے تھی اور دوسرا جائزہ نگران حکومت کو جانے کے وقت پیش کرنا چاہیے تھا۔ جس سے معلوم ہوتا کہ نگران حکومت نے کاروبارِ حکومت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی۔ اور اگر کوئی تیل کے یا دوائیوں کے بھاؤ بڑھے تو اس کی وضاحت بھی دوسری جائزہ رپورٹ میں ہونی چاہیے تھی۔ نگران حکومت کے بارے میں یہ تو ہے کہ وہ روز مرہ کا کام چلائے گی لیکن ایسی جائزہ رپورٹ مرتب کرنے کے بارے میںکوئی ہدایت نہیں ہے۔ تاہم اس بات کا اندازہ کہ نگران حکومت نے اپنے مینڈیٹ (یعنی محض روز مرہ کام نمٹانے) تک اپنی کارگزاری کو محدود رکھا ، اسی طرح ہو سکتا ہے کہ یہ کاروبار سنبھالتے وقت اور آئندہ زمام اختیار نئی حکومت کو منتقل کرتے وقت کی دو اہم رپورٹیں شائع کرے۔ لیکن ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ حالانکہ ایسے جائزوں کے بغیر یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ آیا نگران حکومت نے اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کیا۔ یا ایسے اقدام کیے جو اس کے مینڈیٹ میں شامل نہیں تھے اور آئندہ آنے والی حکومت کی ذمہ داریوں میں اضافہ کیا۔ نگران وزیر اعظم ناصر الملک کی نگران حکومت نے اگر کوئی روڈ میپ تیار کیا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ کسی باقاعدہ سرکاری جائزہ پر مبنی ہو گا اور اس میں کوئی اہداف بھی مقرر کیے گئے ہوں گے ۔ انہیں چاہیے کہ وہ یہ تمام تفصیلات شائع کر دیں تاکہ عوام الناس کو معلوم ہو کہ نگران حکومت نے جب زمام اختیار سنبھالی تو ملک کے تمام شعبوں کی صورت حال کیا تھی۔ سابقہ حکومت نے کن شعبوں میں کیا کامیابیاں حاصل کی تھیں اور کن شعبوں پر پوری توجہ نہیں دی گئی تھی‘ تعمیراتی کام کہاں تک پہنچے تھے۔ اور کہاں تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ مختلف شعبوں میں متوقع اہداف کیا تھے اور کہاں تک حاصل کیے گئے تھے۔ توانائی‘ پانی ‘ تعلیم‘ صحت‘ زراعت ‘ ‘ تجارت‘ مالیات‘ دفاع‘ خارجہ تعلقات اور دیگر شعبوں میں ملک کہاں کھڑا تھا۔ آخر نگران حکومت نے کسی نقطۂ آغاز سے ہی روڈ میپ ترتیب دیا ہو گا۔ اگرچہ روڈ میپ مرتب کرنا نگران حکومت کا کام نہ تھا تاہم یہ شائع کر دیا جائے تو عوام الناس یہ موازنہ کر سکیں گے کہ آئندہ حکومت اپنے لیے کیا اہداف مقرر کرتی ہے اور نگران حکومت کا روڈ میپ کن امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ آیا نگران حکومت کا روڈ میپ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے فوری طور پر آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی تجویز کرتا ہے یا اس کے سوا کوئی راستے تجویز کرتا ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ نگران حکومت کا روڈ میپ آئندہ منتخب حکومت کو دستیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ تاہم نئی حکومت کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ وہ اپنے منشور اور وعدوں پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک جائزہ تیار کرے کہ اسے حکومت کس حال میں ملی۔ اب تک میڈیا میں بہت سی رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں تاہم سرکاری طور پر ایک مستند جائزہ سامنے آئے گا تو کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ نئے حکمران ساری خرابی کی ذمہ داری سابقہ حکومت پر عائد کر رہے ہیں اور اپنی کم کوشی کا الزام سابقہ حکومت کی مبینہ نااہلی کو قرار دینے پر آمادہ ہیں۔ نئی حکومت کو مختلف وزارتوں‘ ڈویژنوں ‘ محکموں اور کارپوریشنوں کے اہداف طے کرنے ہوں گے ۔ آخر یہ اہداف کسی نقطۂ آغاز کو سامنے رکھتے ہوئے طے کیے جائیں گے۔ اگر وہ صورت جو نئی حکومت کو ورثے میں ملتی ہے عوام کے سامنے بھی موجود ہو گی تو عوام یہ جائزہ لے سکیں گے نئی حکومت اپنے اہداف تک پہنچنے میں کس تیزی سے کام کر رہی ہے یا اس کی راہ میں کیا رکاوٹیں حائل ہو رہی ہیں۔ اس طرح حکومت کے کاروبار میں عوام کی شرکت یقینی ہو جائے گی اور حکومت کو اپنا کام بطریق احسن مکمل کرنے میں عوام کی حمایت حاصل ہو گی۔

متعلقہ خبریں