Daily Mashriq


گلگت اور دالبندین میں دہشت گرد حملہ

گلگت اور دالبندین میں دہشت گرد حملہ

گلگت سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر کارگاہ نالے پر واقع پولیس چوکی پر دہشت گردوںکا حملہ اور دالبندین میں چاغی کے نزدیک چینی انجینئروں کی بس پر خود کش دھماکے کے مقامات ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر واقع ہیں تاہم دونوں حملوں کے مقاصد واضح طور پر ایک نظر آتے ہیں‘ پاکستان کی معیشت کے آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا۔ دالبندین کی واردات کا مقصد سی پیک کے منصوبے میں رخنہ اندازی تھا جس کے لیے چینی انجینئروں کی بس پر خود کش دھماکہ کیا گیا اور کارگاہ چوکی پر حملہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے گزشتہ روز کے ریمارکس کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے منصوبے کو فعال کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی کئی سال سے پرامن گلگت بلتستان میں بھی دہشت گردی شروع ہو گئی ہے۔ دونوں کا مقصد پاکستان کی معاشی میدان میں پیش رفت کو روکنا ہے۔ اس لیے یہ باور کیا جانا چاہیے کہ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں دہشت گردی کا محرک ایک ہی عنصر ہو سکتا ہے۔ کارگاہ چوکی پر جمعہ کی رات کو دس بارہ دہشت گردوں کی اچانک فائرنگ کا ایک مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ سکولوں میں توڑ پھوڑ اور آتشزنی کی حالیہ وارداتوں کے مجرموں اور ان کے سہولت کاروں کی تلاش کے لیے جو سرچ آپریشن جاری ہے اس سے توجہ ہٹائی جائے۔ اس حوالے سے ایک کوشش ڈپٹی کمشنر کے گھر پر فائرنگ کے ذریعے بھی کی گئی۔ دوسرا مقصد ان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فرار کے لیے کوئی قریبی راستہ فراہم کرنے کے لیے کارگاہ چوکی کو مصروف کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ کارگاہ چوکی پر موجود چھ پولیس اہل کاروں نے بے جگری سے مقابلہ کیا اور دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ حملہ آور اس لیے پسپا ہوئے کہ ان کا کمانڈر ہلاک ہو گیا جو ایک عرصہ سے مطلوب تھا۔ اور ایک ساتھی فرار کی کوشش میں چل بسا۔ باقی زخمیوں کو حملہ آور ساتھ لے گئے۔ اس اچانک حملہ میں تین پولیس اہلکار شہید ہوئے ‘انا للہ وا نا الیہ راجعون۔ تاہم پولیس اہل کاروں نے چوکی کا مؤثر دفاع کرتے ہوئے دو حملہ آوروں کو قتل اور باقی کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس جھڑپ میں پولیس اہل کاروں میں صرف ایک سپاہی زخمی نہیں ہوا اور جس نے اپنے زخمی ساتھیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ اللہ کریم شہید ہونے والے پولیس اہل کاروں کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے‘ زخمیوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو حوصلہ اور صبر جمیل عطا فرمائے۔ بظاہر لگتا ہے کہ حملہ آوروں کی کُل تعداد کچھ اتنی زیادہ نہ تھی تاہم جس بے خوفی کے ساتھ انہوں نے پولیس چوکی پر حملہ کیا اس سے لگتا ہے کہ انہیں مضبوط محرک کی سرپرستی حاصل ہے جس سے ان کی بھاری امیدیں وابستہ ہیں اور انہیں مقامی سہولت کاروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ اب جب ان میں سے کچھ زخمی بھی ہوئے ہیں ان کا تعاقب اور ان پر ہاتھ ڈالنا نسبتاً آسان ہو گا ۔ اس دوران یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہو گا کہ تانگیر میں جاری سرچ آپریشن کے نتیجے میں کون لوگ روپوش ہو گئے ہیں ۔ امید کی جانی چاہیے کہ جلد ان پر ‘ ان کے سرغنوں پر اور ان کے سہولت کاروں پر گرفت ہو جائے گی۔ دالبندین کا حملہ بظاہر ایک کمزور کوشش نظر آتی ہے جو حملہ آور کی گھبراہٹ کی وجہ سے پوری طرح کامیاب نہ ہو سکی اور جس کے نتیجے میں چینی انجینئرز جو وطن واپسی کے لیے ایئرپورٹ جا رہے تھے زخمی ہو گئے۔ لگتا ہے اس حملہ آور کو مقامی سہولت کاروں کی مؤثر مدد حاصل نہ تھی اس لیے اس حملہ آور کے محرکین کی تلاش وسیع علاقے میں ممکن ہے نتیجہ خیز ہو۔ تاہم حملہ پتہ دیتا ہے کہ بلوچستان میں ایسا عنصر مصروف عمل ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی کے درپے ہے ۔

متعلقہ خبریں