Daily Mashriq


پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کیسے بن سکتا ہے؟

پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کیسے بن سکتا ہے؟

بیرونی شعبے کے مسائل مثلاً کرنسی بحران کی وجہ سے تجارتی اور صنعتی شعبے کی معاشی بحالی کے منصوبوں کے لئے کئے جانے والے مطالبے کہیں دب سے گئے ہیں۔ عمران خان کے وعدہ کردہ 100روزہ ایجنڈے پر عملدرآمد خاص طور پر اہم ہے تاکہ انتخابی مرحلہ معنی خیز رہے۔کاروباری حضرات چاہیں گے کہ حکومت معیشت کو ہموار سطح پر لانے اور صنعتوں کو بند ہونے سے بچانے کے لئے تیزی سے کام کرے۔ اس راستے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ حکومت کے پاس کیش کی کمی ہے۔ معیشت کو ڈالروں کی کمی کا سامنا ہے اور سرمایہ کاری دوسری جنوبی ایشیائی ممالک کی نسبت آدھی ہے۔پی ٹی آئی نے اگلے5 سالوں میں ایک کروڑ نوکریاں اور 50لاکھ کم قیمت گھر فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔ یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔اس بات کی توقع ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) چین اور سعودی عرب ملکی زرمبادلہ ذخائر کو بھرنے کیلئے انتہائی اہم فنڈز فراہم کرنے کیلئے مدد کو آئیں گے۔ چین نے حال ہی میں 2 ارب ڈالر کے قرض کا اعلان کیا ہے جس سے روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مستحکم ہوگیا ہے مگر آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے قومی کرنسی مزید تنزلی کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس دفعہ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات مشکل ہوں گے اور پاکستان جس بیل آؤٹ پیکج کیلئے کوالیفائی کرے گا وہ شاید پاکستانی ضروریات کیلئے کافی نہ ہو۔ کچھ کی پیش گوئی ہے کہ آئی ایم ایف اپنے نئے پروگرام کیساتھ غیر معاشی شرائط بھی لگا سکتا ہے۔ایک انگلش روزنامے میں شائع ہونے والے اپنے حالیہ مضمون ’’سائیکل آف مسٹیکس‘‘ میں منصوبہ بندی کمیشن کے سابق ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر ندیم الحق نے لکھا ہے کہ آئی ایم ایف ٹیم، جس کی آمد ستمبر میں متوقع ہے شاید پاکستان کو ’’ہمیشہ کی طرح عارضی ریلیف فراہم کرنے میں مدد دے۔ افسوس کی بات ہے کہ وہ پاکستانی معیشت کی بنیادی کمزوریوں، خراب پالیسی سازی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے‘‘۔مالی سال 18-2017 میں مالی خسارہ7.5 فیصد تک جا پہنچنے کی وجہ سے حکومت کو کیش کی شدید ضرورت ہے۔ اس خلیج کو ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کر کے یا تو پورا کرنا ہوگا یا پھر کم کرنا ہوگا۔ پی ٹی آئی کا منشور کہتا ہے کہ مربوط ومضبوط ٹیکس پالیسی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات لا کر ٹیکس کا جال بڑھایا جائے گا جس کی وجہ سے ٹیکس کا نظام پہلے سے بہتر ہوسکے گا۔کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ایف بی آر کو وزارت خزانہ کا اثر ورسوخ کم کر کے خود مختاری دی جائے گی۔ ٹیکس وصولی مزید بڑھانے کیلئے کاروباری حضرات کو فوائد کی پیشکش کی جائے گی تاکہ وہ باقاعدہ معیشت کا حصہ بن جائیں۔ پارٹی کا یہ بھی منصوبہ ہے کہ محصولات کا بنیادی ذریعہ بالواسطہ ٹیکسوں کے بجائے بلاواسطہ ٹیکسوں کو بنایا جائے۔مگر نجی شعبے کا اس پر نکتہِ نظر مختلف ہے۔ گزشتہ ماہ کے اواخر میں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کے سامنے اپنا ’میک اِن پاکستان‘ وژن پیش کرتے ہوئے پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے اس بات پر دوبارہ زور دیا کہ پاکستان میں صنعتی ترقی میں سرمایہ کاری (کیپیٹل فارمیشن) بہت کم ہے کیونکہ پیداواری شعبہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔مجموعی قومی پیداوار میں13.5فیصد حصے کیساتھ پیداواری شعبہ قومی ٹیکس وصولی میں58 فیصد کا حصہ دار ہے۔ پی بی سی کے وفد نے حکومت سے ’بہترین خطوط پر استوار حکومتی پالیسیوں‘کا مطالبہ کیا جن سے ملازمتیں پیدا ہوں، برآمدات میں اضافہ ہو، درآمدات کے متبادل ذرائع پیدا ہوں اور حقیقت کے قریب تر شرح مبادلہ ہو۔ زراعت اور خدمات کے شعبے سے ٹیکس حاصل کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ عمومی طور پر غیر رسمی شعبے میں آتے ہیں۔ مرکزی حکومت کو ان شعبوں کی ذمہ داری سے مبرا ہونا ہوگا جو اس نے 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد بھی اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ ممکنہ طور پر اگلے وزیرِ خزانہ اسد عمر کہتے ہیں ’’ریاست کی ملکیت میں موجود اداروں کا مسئلہ غیر ضروری ملازمین یا پھر ان ملازمین کے اخراجات نہیں بلکہ سیاسی سرکاری افسران ہیں جو ان یونٹس کو چلانے کے ذمہ دار ہیں‘‘۔پارٹی کا منصوبہ ہے کہ ان یونٹس کی بحالی کیلئے ان کی قیادت پروفیشنل انتظامیہ سے بدل دی جائے اور ان کے خساروں کو کم کیا جائے جو فی الوقت اندازاً 1100 ارب ڈالر ہیں مگر سپریم کورٹ کا ریاست کی ملکیت میں موجود کمپنیوں کے سی ای اوز کی تنخواہ سے متعلق فیصلہ زبردست تجربہ رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنلز کی بھرتی میں شاید رکاوٹ بنے۔ ایک طویل مدتی اسٹریٹجک نکتہ نظر رکھتے ہوئے پی ٹی آئی اپنے منشور میں فلاحی ریاست کے اسکینڈی نیوین ماڈل کے تحت ٹیکس بڑھانے کی بات کرتی ہے۔یہ ماڈل فری مارکیٹ سرمایہ دارانہ نظام اور رضاکار، مخیر ٹیکس دہندگان کی جانب سے پیش کردہ سماجی فوائد کا ایک امتزاج ہے جس کا انتظام حکومت سنبھالتی ہے۔ شہریوں کا حکومت پر بھروسہ ہوتا ہے کیونکہ حکومت انہیں اعلیٰ معیار کی سماجی خدمات بشمول مفت تعلیم اور سب کیلئے مفت طبی سہولیات فراہم کرتی ہے۔شہری خود کو اور اپنے خاندانوں کو حاصل ان فوائد کے بدلے میں زیادہ ٹیکس دینے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ اسکینڈی نیوین ماڈل کی طرح پی ٹی آئی کا اسلامی فلاحی ریاست کا تصور بھی ’’قانون کی حکمرانی اور معاشی مساوات کی بنیاد پر قائم ایک منصفانہ معاشرے‘‘ کے قیام کی بات کرتا ہے۔ان اداروں کو ایک مینجمنٹ فیس ادا کی جاتی ہے۔ آزاد آڈیٹر ان کی مالیاتی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں جبکہ آزاد مانیٹر ان کی مجموعی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ سرکاری ونجی شعبے کی شراکت داری کے تحت صحت وتعلیم کی بہتر سہولیات فراہم کرنا طویل مدت میں ریاست کی زیر ملکیت اداروں میں اصلاحات سے زیادہ تیز تر ہے۔

(بشکریہ ڈان)

متعلقہ خبریں