Daily Mashriq


جدید تعلیم قوموں کی بقا کی ضامن

جدید تعلیم قوموں کی بقا کی ضامن

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ تعلیم سے بے بہرہ قومیں ترقی تو کیا اپنی بقاء قائم رکھنے کے قابل بھی نہیں رہتیں۔ تعلیم جہاں سماج میں ہنر کی ضرورتوں کی تکمیل کرتی ہے وہیں طلبہ کی شخصیت سازی کا عمل بھی اسی تعلیم کے مرہون منت ہے۔ صرف ہنروری ہی کسی سماج کی تکمیل نہیں کرتی جب تک کہ اس سماج انسانیت کے رشتوں کی پاسداری موجود نہ ہو۔ اس لئے کسی بھی تعلیمی نظام کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس میں دونوں باتوں کو مدنظر رکھا جائے اور انہی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے تعلیمی نظام مرتب کئے جاتے ہیںکہ جس کے ذریعے سماج کو سہولت سے چلانے کے قابل بنایا جا سکے۔ انسانی زندگی آج جتنی آسان ہے اتنی ہی مشکل ہے۔ ماضی میں ایک زراعت ہی بنیادی ذریعہ تھا جس سے قوموں کی بقاء قائم رہتی تھی۔ آج کے جدید دور میں قوم کی بقاء کا راز حصول تعلیم میں مضمر ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا ارتقائی سفر بہت آگے بڑھ چکا ہے کہ جس کے بغیر ترقی تو کیا بقاء بھی ناممکن نظر آتی ہے۔ یونیورسٹیاں ہی ہوتی ہیں جو اپنے وطن کے نوجوانوں کو جدید دور کے چیلنجز کے لئے تیار رکھتی ہیں۔ انہیں جدید دور کے جدید علوم سے آگاہ وروشناس کرواتی ہیں۔سائنس ایک ایسا عمل ہے کہ جس نے دنیا کی اور خود انسان کی کایا پلٹ دی ہے۔ ہماری یونیورسٹیاں سائنس کے شعبے میں اپنی اعلیٰ صلاحیت دکھانے کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ آج کے دور کو آئی ٹی کا دور کہا جائے تو نامناسب نہ ہوگا۔ آئی ٹی نے پوری دنیا کو جس انداز سے تبدیل کیا ہے اس کی مثال پہلے کسی دور میں نہیں ملتی۔ آئی ٹی کے اس دور میں جہاں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی توسیع کے اثرات ہمارے سامنے ہیں اور آئی ٹی کے علم کے بغیر آج کے دور میں سانس لینا بھی مشکل ہے۔ ہماری یونیورسٹیاں آئی ٹی کے میدان میں بھی اپنا پھرپور حصہ ادا کر رہی ہیں۔ جس سے نہ صرف ملکی ضرورت پوری ہوتی ہے بلکہ بیرون ملک جاکر بھی ہمارے نوجوان نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ ملکی زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ضرورتوں سے بھی کسی کو انکار نہیں، نہ ہی بزنس کی افادیت اور اہمیت سے کوئی انکار کر سکتا ہے لیکن آرٹس کے مضامین کی اہمیت سے منہ موڑنا بھی کسی قوم کی ترقی سے انحراف ہی سمجھا جائے گا۔ قوموں کی ترقی آرٹس کی مرہون منت رہی ہے۔ آرٹس کے مضامین کا تعلق اخلاقیات، ذوق سلیم اور فکری جہتوں سے ہوتا ہے۔ انجینئر کا کام تو ٹیکنالوجی سے سہولت پہنچانا ہے لیکن کسی مفکر کا کام اپنی قوم کی اچھی اور بری باتوں کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ آرٹس کے مضامین کا علم کسی بھی سماج کے لئے اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا سائنس کا۔ ادب، فلسفہ، تاریخ، تھیالوجی، معاشرتی علوم، سوکس، لسانیات، مصوری وغیرہ وہ علوم ہیں کہ جن سے زندگی کا حسن بھی ہے اور فکری دوام بھی۔ قوموں کے نصب العین کا تعین یہی علوم کرتے ہیں۔ہماری یہی یونیورسٹیاں سوچ کی تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔ یونیورسٹیوں کا سب سے اہم اور بنیادی کام ریسرچ ہوتا ہے۔ ریسرچ ایک ایسا علم ہے کہ جس میں انسان کی بقاء مضمر ہے۔ یہ ریسرچ ہی ہے کہ آج کا انسان ماضی کے انسان کے مقابلے میں ایک ترقی یافتہ اور پرآسائش زندگی گزار رہا ہے۔ ریسرچ دراصل حقائق کی جستجو کا نام ہے۔ حقائق جانے بغیر زندگی میں ایک قدم اٹھانا بھی محال ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں میں ماضی میں ریسرچ کی صورتحال بہتر نہیں تھی لیکن ایچ ای سی کے قیام کے بعد یورنیورسٹیوں میں ہونے والی ریسرچ کو بہت اہمیت دی جانے لگی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ یونیورسٹی کی سطح پر ریسرچ کا ایک اچھا خاصا مومنٹم بن چکا ہے۔ شمع سے شمع جلانے کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ ریسرچ ورک ایک مشکل اور دقت طلب کام ہے اور اس پر سرمایہ بھی کافی خرچ ہوتا ہے۔ ایچ ای سی کی جانب سے دی جانے والی سکالرشپس نے اس مسئلے کو کافی حد تک حل کر دیا ہے۔ اب طلبہ ریسرچ کی جانب شوق دکھا رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں کی ریسرچ کی مارکیٹ کوئی نہیں ہے۔ مغربی ممالک میں ریسرچ کی مارکیٹ موجود ہے۔ جب کوئی نئی ریسرچ سامنے آتی ہے تو ملٹی نیشنل کمپنیاں اس ریسرچ کے حقوق خرید لیتی ہیں، یوں ریسرچر کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ایک ترغیب پیدا ہوتی ہے، نئے ریسرچر اور بھی محنت کرتے ہیں۔ اسی طرح پالیسی سازی میں بھی مغرب میں ریسرچ سے مدد لی جاتی ہے۔ ریسرچ سے ٖحاصل شدہ نتائج کو پالیسیوں میں آزمایا جاتا ہے ہمارے ہاں نہ تو ریسرچ کی مارکیٹنگ اور نہ ہی ریسرچ سے پالیسی سازی میں مدد لینے کا کوئی رواج موجود ہے۔ بہرحال ہماری یونیورسٹیاں ریسرچ کے میدان میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگرچہ ہماری یونیورسٹیوں میں ریسرچ کی ریشو بعض ہمسایہ ممالک سے بہت کم ہے لیکن یہ بات بھی ہے کہ ہمارے ریسرچ پر توجہ دینا بھی نیا تصور ہے ورنہ یونیورسٹیاں ماضی میں ایم اے، ایم ایس سی تک ہی خود کو محدود رکھتی تھیں۔ ہم جس صوبے کے باسی ہیں اس کے مسائل دیگر صوبوں سے مختلف ہیں اور خاص طور پر ہمارا جغرافیہ ہمارے لئے بہت سے مسائل کا باعث ہے۔ ہمارے تمام مسائل کا حل اگر کسی ایک چیز سے ہو سکتا ہے تو وہ ہے تعلیم۔ اللہ کا کرم ہے کہ ہمارے پاس تعلیم کا ایک مناسب انفراسٹرکچر موجود ہے جسے بس فعال بنانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں