Daily Mashriq


محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ہمارے ایک دانشور دوست نے کسی ہوٹل میں قیام کے دوران ہوٹل کے ویٹر کو کہا کہ ٹھنڈا کولڈ ڈرنک لیکر آؤ۔ جس کے جواب میں ویٹر بڑے معنی خیز انداز میں کہنے لگا! کولڈ ڈرنک ٹھنڈے مشروب ہی کو کہتے ہیں۔ شعور اسے ہی کہتے ہیں جو بیدار ہوتا ہے۔ اگر شعور بیدار نہ رہے تو وہ لاشعور کہلاتا ہے جس میں بہت سی یادیں دبی ہوئی چنگاریاں بن کر چھپ جاتی ہیں۔ جوانی کی عمر کو سیانے لوگ ’لاابالی عمریا‘ کہتے ہیں۔ کہنے والے تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ جوانی دیوانی ہوتی ہے اور دیوانے لوگ جو حرکتیں کرتے ہیں ان کا فہم وشعور سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔

جوانی درحقیقت جامہ الزام ہوتی ہے

نظر لاکھ اچھی ہو مگر بدنام ہوتی ہے

عہد جوانی میں ہمارے نوجوان طبقہ سے ایسی ایسی حرکتیں سرزد ہوتی ہیں جن کو دیکھ کر بڑے بوڑھے سنجیدہ یا عقل وشعور والے لوگ لاحول ولا قوۃ الا باللہ کا ورد کرنے لگتے ہیں۔ اگر آپ نوجوانوں کو مورد الزام ٹھہرائے جانے کی تصدیق کرنا چاہیں تو آن لائن جاکر دیکھ لیجئے ان کی حرکتوں کو یا جشن آزادی پاکستان کے دوران شہر کی سڑکوں پر دندناتی پھرتی سائلنسر سے عاری موٹر سائیکلوں کی ریس اور ان کے طوفان بدتمیزی کو۔ اصل میں جوانی کا زور دکھا رہے ہوتے ہیں ہماری جوان نسل سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ۔ اپنے آپ کو ہیرو ثابت کرنے کیلئے شہر کی سڑکوں کو موت کا کنواں کھود کر ہیرو بننے کے شوق میں ون ویلنگ کرتے ہیں یا لیٹ کر کھڑے ہوکر ناچ کر یا بھنگڑے ڈال کر موٹر بائیک چلانے کے کرتب دکھا کر دنیا والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ کتنا مان ہے انہیں اپنی جوانی پر۔ ان کو معلوم ہی نہیں کہ اس طرح کی حرکتیں کرنے سے خاکم بدہن ان کو جوانی دینے والا ان سے جوانی چھین بھی سکتا ہے۔ حسن سراپا تھے حضرت یوسفؑ چڑھتی جوانی کے مالک تھے لیکن مصر کے بازار میں پھوٹی کوڑیوں کے مول بک گئے۔ حسن جوانی پر مان اور تکبر کرنے والے کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ عظیم ہوتے ہیں وہ نوجوان جن کے متعلق کہنے والے کہہ گئے کہ

درجوانی توبہ کردن شیوہ پیمبریست

نوجوان ہماری قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور شاعر مشرق نے ان سے محبت کا دم بھرتے وقت جو شرط عائد کی وہ کسی شرح کی محتاج نہیں

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

کہاں ہیں ایسے نوجوان جو ستاروں پر کمند ڈالنے کو اپنا مقصد شباب بنا کر جی رہے ہیں۔ عہد حاضر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ہمارے کلچر کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔ اس دور کے آتے آتے ہمارے نوجوان فلمی ستاروں پر کمند ڈالنے کے رسیا تھے۔ آج وہ ہمہ وقت ہاتھوں انڈرائیڈ موبائل تھامے عہد حاضر کی لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، آدم خان درخانی اور سوہنی ماہیوال جیسی بہت سی کہانیوں کے کردار بنے پھرتے رہتے ہیں۔ رمبا کھمبا اور پاپ میوزک کے رسیا بھلا کب، کیسے اور کونسے ستاروں پر کمند ڈال سکتے ہیں۔ یہ بات سپرد قرطاس وقلم کرتے وقت کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے اور دل بلک بلک کر لہو کے آنسو رونا چاہتا ہے کہ ہمارے ملک اور قوم کے اس سرمائے کو منشیات کا دیمک جس تیزی اور بیدردی سے چاٹ رہا ہے چارہ گروں کے پاس اس کا کوئی علاج نظر نہیں آتا۔ ساری قوم کی نظریں عمران خان پر جمی ہیں اور عمران خان اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کیلئے حکومت سازی کے جمہوری مگر کٹھن اور اعصاب شکن عمل میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ بھلے سے وہ وزیراعظم بن جائیں، ان کو اپنی پارٹی کی نودمیدہ قیادت پر مان ہے۔ وہ بات بے بات نوجوان قیادت کا وظیفہ جپتے رہتے ہیں، اللہ قائم رکھے ان کی نیک نیتی کو۔ سدا جوان رہیں ان کی عزم وہمت کے یہ جذبے لیکن

ابن مریم ہوا کرے کوئی

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

کے مصداق مجھے اجازت دیجئے اتنا پوچھنے کی کہ کہاں لکھا ہے آپ کے منشور میں قوم کے جوانوں کو منشیات کی دلدل سے نکال باہر کرنے کا عزم صمیم۔ گھن کی طرح چاٹے جارہے ہیں ہمارے پڑھے لکھے اور ان پڑھ نوجوان منشیات کی نت نئی ایجاد یا دریافت ہونے والی زہر کھا کھا کر۔ ہمارے تعلیمی اداروں تک پہنچ چکی ہے یہ زہر۔ عمران خان منشیات زدہ نوجوانوں کے بدقسمت اور بے بس والدین کی فریاد سن لو، اگر ایسا نہ کر پاؤگے تو خاکم بدہن ڈوب جائے گی پوری قوم کی لٹیا۔ اللہ نہ کرے پلنے بڑھنے لگیں گے تمہارے چاہنے والوں میں بھی ایفی ڈرین جیسی ڈرگ مافیا کے سوداگر۔ غرقاب کر دیں گے ضمیر سے عاری لوگ پورے ملک اور قوم کا بیڑہ۔ کبھی سوچا ہے آپ نے ہماری قوم کا یہ قیمتی سرمایہ خودکشیاں کرنے پر کیوں مجبور ہے۔ اس لئے کہ رشوت خوری سفارش اور بلیک مارکیٹنگ کے اس عہد میں ان کو ڈھنگ کی نوکریاں نہیں مل رہیں۔ کہاں جائیں بیروزگار اور فاقہ زدہ نوجوان۔ بھیک بھی تو نہیں مانگ سکتے کہ لوگ انہیں ہٹے کٹے جوان ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور وہ منشیات کے دھویں میں دھواں ہوکر کہہ اُٹھتے ہیں

واللہ کسی شوق کے مارے نہیں پیتا

پیتا ہوں اس لئے کہ جل جائے جوانی

متعلقہ خبریں