Daily Mashriq


کے پی میں شعبہ طب کی حالت زار

کے پی میں شعبہ طب کی حالت زار

چند دن پہلے مجھے ٹانگوں میں تھوڑا درد محسوس ہونے لگا۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے، شوگر کی شکایت ہو۔ میں صوابی بازار میں ایک مشہور اور معروف میڈیکل سنٹر گیا اور وہاں سے شوگر چیک کروایا۔ ٹسٹ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ مجھے 205 کا شوگر ہے۔ عین اسی وقت ایک اور مشہور لیبارٹری سے ٹسٹ کروایا تو پتہ چلا کہ خون میں شوگر کی مقدار 89 ہے۔ بار بار چیک کرنے پر پتہ چلا کہ مجھے شوگر نہیں۔ میری گھر والی کو شوگر کی شکایت ہے۔ گزشتہ دن سب سے پہلے ایک مقامی لیبارٹری سے چیک کروایا۔ خون میں شوگر کی مقدار 209 تھی۔ پھر اس کے بعد میں نے جرمنی کی ایک معروف کمپنی کی مشین لی اس کے مطابق شوگر کی مقدار 122تھی۔ پھر اس کے بعد ایک اور معیاری لیبارٹری سے چیک کروایا وہاں شوگر کی مقدار 133 تھی۔ اگر 10 سے لیکر 15 فیصد تک غلطی ہو تو چلو ہم سمجھ جاتے مگر بدقسمتی سے ان تمام ٹسٹوں میں غلطیاں یا دوسری لیبارٹری اور مشین کی چیکنگ میں فرق 80 اور 100فیصد تھا۔ اگر کوئی بھی لیبارٹری غلط ٹسٹ کرے گی تو ڈاکٹر اس کو مدنظر رکھ کر دوائی لکھے گا جو مریض کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کس پر یقین کریں۔ اگر ہم غور کر یں تو خیبر پختونخوا میں لیبارٹریوں، میڈیکل سنٹروں اور ایکسرے کلینک کی حالت ناگُفتہ بہ ہے۔ ڈاکٹروں کی اکثریت نے خیبر پختونخوا کے زیادہ تر شہروں میں کلینکس، لیبارٹریاں اور دوائیوں کے سٹورز، ایکسرے، ای سی جی، سی ٹی سکین، ایم آر آئی کی مشینیں لگائی ہوئی ہیں اور وہ ہفتے کے مختلف دنوں میں مختلف شہروں میں قائم ان کلینکس اور لیبارٹریوں کا وزٹ کرکے، مریضوں کو دونوں ہا تھوں سے خوب لوٹتے اور سرکاری ڈیوٹی سے جان چھڑاتے ہیں۔ اپنی بھاری فیسوں کے علاوہ دوائیاں بھی بیچتے ہیں اور مختلف قسم کے مہنگی ٹسٹ بھی مریضوں کو تجویز کرتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر حضرات سرکاری ہسپتالوں کے بجائے زیادہ وقت اپنے کلینکس اور لیباٹریوں کو دیتے ہیں۔ جن ہسپتالوں میں یہ ڈا کٹر کام کر رہے ہوتے ہیں، وہاں پر مریضوں کیساتھ ان کا رویہ وہ نہیں ہوتا جو ان کا پرائیویٹ کلینکس میں ہوتا ہے۔ کئی دواساز ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں اور ادارے اپنی نئی پراڈکٹ تیار اور لانچ کر کے ڈاکٹروں کو بھاری رقوم اور مختلف سہولیات اور مراعات دیکر ان سے مریضوں کو لکھواتے ہیں۔ اسی طر ح دواساز کمپنیاں اور ڈاکٹر حضرات دونوں غریبوں کو لوٹ کر خوب کمائی کرتے ہیں۔ وطن عزیز اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کی فیس کیلئے کوئی معیار اور قاعدہ مقرر نہیں۔ میں خود کئی ایسے ڈاکٹروں کو جانتا ہوں جو کئی دواساز کمپنیوں سے پیسے لیکر مریضوں کو غیر ضروری اور مہنگی دوائیاں تجویزکرتے ہیں۔ میں شام کو ایک کیمسٹ کی دکان پر بیٹھا ہوتا ہوں۔ وہاں پر مریض مختلف ڈاکٹروں کے نسخے لاتے ہیں ان نسخوں میں کئی ایسی دوائیاں ہوتی ہیں جن کی قیمتیں انتہائی زیادہ ہوتی ہیں مگر ڈاکٹر مریضوں کو اس قسم کی دوائیاں بلاضرورت تجویز کرتے ہیں کیونکہ اس کے عوض وہ دواساز کمپنیوں سے مختلف قسم کی ناجائز مراعات لیتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات کے اس قسم کے رویوں کا دو طریقوں سے علاج کیا جا سکتا ہے۔ ایک دین سے اور دوسرا قانون سے۔ بدقسمتی سے دین کو ہم نے چھوڑ رکھا ہے اور اگر ہم مسلمان ہیں تو برائے نام اور موروثی۔ اگر ایک انسان کا صرف اس بات پر یقین ہو کہ اُس نے مرنا ہے اور اللہ کو جواب دہ ہونا ہے تو میرے خیال میں اس سے گناہ صغیرہ تو سرزد ہو سکتا ہے مگر وہ بڑا گناہ یعنی گناہ کبیرہ سے پہلے 100بار سوچے گا مگر بدقسمتی سے اس دین کو جس کے اصول اور قواعد غیر مسلموں نے اپنائے ہوئے ہیں اس سے مستفید ہو رہے ہیں مگر ہم اس دین کیساتھ برائے نام منسلک ہیں۔ دوسرا اس قسم کے مسائل کا علاج قانون سے کیا جا سکتا ہے مگر بدقسمتی سے اس کا نفاذ صرف غریب کیلئے ہے امیر کیلئے کوئی قانون نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر حضرات اس میں لوپ ہول نکالتے ہیں اور ناجائز کمائی کرتے ہیں۔ اکثر دواساز کمپنیوں کی طر ف سے ڈاکٹر حضرات کو گاڑیاں دی جاتی ہیں، ان کو بیرون ملک سیر وسیاحت کیلئے بھیجا جاتا ہے، ان کو عمرے اور حج کروائے جاتے ہیں، ان کے بچوں کے سکولوں اور کالجوں کی فیسیس ادا کی جاتی ہیں، ان کیلئے پلاٹ خریدے جاتے ہیں۔کئی ڈاکٹروں نے اپنے نرسنگ ہوم کھولے ہوئے ہیں، جس میں وہ مریضوں کو ایڈمٹ کرتے ہیں اور یوں ہسپتال کی جگہ ان نرسنگ ہومز اور میڈیکل سنٹرز میں مریضوں کو لوٹتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹری اور حکمت کا شعبہ عبادت کا درجہ رکھتا ہے مگر بدقسمتی سے بعض ڈاکٹر حضرات اس پیشے کو بدنام کر رہے ہیں اور عبادت کے بجائے اس پیشے سے صرف لوگوں کو لوٹتے ہے۔ اکثر زنانہ مریضوں کو بچے کی پیدائش کے دوران آپریشن کی ضرورت نہیں ہوتی مگر ڈاکٹر ان کا آپریشن بغیر کسی وجہ کے کرواتے ہیں۔ کئی ای این ٹی سپیشلسٹ 95فیصد مریضوں کے گلے یا ناک کا آپریشن بلاضرورت کرتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ڈینٹل کلینک، کلینکل لیبارٹریز، ایکسرے اور الٹراساؤنڈ کسی ڈینٹل ڈاکٹر، پتھالوجسٹ اور ریڈیالوجسٹ کے بغیر کھولنے کی اجازت نہ دے اور سختی سے اس کی چیکنگ کی جائے کہ واقعی کسی علاقے میں یہ لیبارٹریاں قانون اور ضوابط کے تحت کھلی ہیں یا نہیں۔ بازار میں مختلف کمپنیوں کی شوگر اور بلڈپریشر چیک کرنے کیلئے جو مشینیں بیچی جاتی ہیں اس کی بھی باقاعدہ چیکنگ کی جائے۔

متعلقہ خبریں