Daily Mashriq


تحریک انصاف کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز

تحریک انصاف کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز

تحریک انصاف کو اندرونی طور پر جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ پارلیمان میں اس کی سمپل میجارٹی (سادہ اکثریت ) ہے حالانکہ انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے عوام سے بار بار اپیل کی تھی کہ مجھے دوتہائی نہ سہی اتنی اکثریت ضرور دلائیں تاکہ مجبوری کے تحت کسی کی خوشامد نہ کرنا پڑے لیکن یا تو پاکستانی عوام کو یہ بات سمجھ نہیں آئی یا عوام نے تو اپنا کردار ادا کر دیا تھا لیکن۔۔۔ شاید سسٹم کے ہاتھوں ایسے گل کھلے کہ چیف جسٹس کو بھی کہنا پڑا کہ الیکشن کے دن چیف الیکشن کمشنر سو رہے تھے اور اُس دن تو اُن کا سسٹم ہی نہیں چل رہا تھا۔ الیکشن کمیشن کی اسی ’’کارکردگی‘‘ نے قوم اور اراکین اسمبلی کو ایک ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے۔ پچھلے دنوں دیر سے ایک دوست نے بتایا کہ اُن کا بہنوئی پہلی گنتی میں کامیاب قرار دیا گیا اور وہاں کی پختون روایات کے مطابق کئی دن تک مبارکباد کی رسم چلی اور گھر والے مہمانوں کی تواضع میں لگے رہے اور چند دن بعد مخالف امیدوار نے دوبارہ گنتی کی درخواست دے دی تو پورے خاندان اور سپورٹرز پر ایک ٹینشن طاری ہوگئی لیکن دوبارہ گنتی میں بھی وہی کامیاب قرار پائے تو گھر میں پہلے سے بڑھ کر مبارکبادیں ہوئیں جس کے نتیجے میں امیدوار کے گھر والے تو ہلکان ہو ہی گئے تھے خود امیدوار کو کے ٹی ایچ میں داخل ہونا پڑا۔

کم وبیش یہی حال اس وقت پورے پاکستان میں ہے۔ یہاں تک کہ تحریک انصاف کے سربراہ جن کے وزیراعظم بننے کے بارے میں کوئی شک ہی نہیں رہا تھا، گزشتہ دنوں ان کی دو حلقوں سے کامیابی کا نوٹیفیکیشن مؤخر اور تین سے مشروط طور پر جاری کیا گیا تھا۔ اب بھلا یہ بھی الیکشن کمیشن کی کوئی بات ہے۔ دنیا جہاں کے سربراہوں، سفراء اور شخصیات نے عمران خان سے ملاقاتیں کی اور مبارکباد دی لیکن اپنے وطن میں اب بھی کچھ لوگوں سے اُن کی کامیابی کسی صورت ہضم نہیں ہو رہی، ہر لمحے ایک ایسا شوشہ چھوڑا جاتا ہے جو اچھے بھلے انتخابات کے ہموار حالات کو غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو درخواستوں پر درخواستیں دی جارہی ہیں۔ دوبارہ اور سہ بارہ گنتیاں جاری ہیں اور لوگ عدالتوں میں جا رہے ہیں اور عدالتیں کہہ رہی ہیں کہ یہ تو الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چودھری نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ حالات کو دگرگوں ہونے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کو ایک بہت گمبھیر صورتحال پختونخوا کے اندر یہ درپیش ہے کہ پشاور آمد کے موقع پر اراکین صوبائی اسمبلی سے خطاب کے دوران عمران خان کو کہنا پڑا کہ ’’پارٹی میں گروپ بندی نہیں چلے گی‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ پرویز خٹک میڈیا کے سامنے ہزار بار کہے کہ مجھے عمران خان کا کوئی بھی فیصلہ قبول ہوگا‘ لیکن دل کے اندر کہیں ’’گدگدی‘‘ ضرور موجود ہے جس کی سن گن عمران خان کو پہنچی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کو ملکی سطح پر ترین گروپ اور قریشی گروپ کی مشکلات کہیں نہ کہیں درپیش ضرور ہیں اور اسی طرح پختونخوا میں بھی پرویز خٹک‘ شاہ فرمان‘ اسد قیصر گروپ فعال ہے۔

لہٰذا عمران خان کو اپنی انتظامی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے پارٹی کے اندر اختلافات کو سختی کیساتھ دبانا نہیں بلکہ ختم کرنا ہوگا۔ اراکین تحریک انصاف کو یاد رکھنا ہوگا کہ وہ جو کچھ ہیں عمران خان کیساتھ عوام کی محبت اور عقیدت کی بدولت ہیں۔ اسلئے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے سے گریز لازمی ہے۔ اس شاخ کو جس پر آدمی خود بیٹھا ہو کمزور کرنا ’’کار خرد منداں نیست‘‘۔ تیسرا بڑا چیلنج تحریک انصاف کو پاکستان کے ایک دو میڈیا چینلوں سے ہے۔ وہ وقتاً فوقتاً عمران خان کی تقاریر اور گفتگو کی ایسی کلپس دکھاتے ہیں جس سے ایک طرف عمران خان کی شخصیت کو نقصان پہنچے اور دوسری طرف بعض سیاسی پارٹیاں جو اس وقت تحریک انصاف کی حمایت کر رہی ہیں کے بارے میں عمران خان کی بعض آراء سناتے ہوئے ان کو تحریک انصاف سے دور لے جانے کی کوشش ہے۔

انسان کے فکر وخیال اور سوچ وعمل میں ارتقائی عمل جاری رہتا ہے۔ بعض اوقات انسان کی بعض باتیں یا رائے اپنے ایک مخصوص ماحول‘ پس منظر یا ضرورت اور بعض دفعہ مکمل معلومات نہ ہونے کے سبب ہوتی ہیں اور اس کے علاوہ اگر کوئی آدمی کسی بارے کوئی ناخوشگوار بات کسی وجہ سے سالوں قبل کہہ بھی چکا ہو تو کیا ضروری ہے کہ ایسے نازک حالات میں ایک طرف تحریک انصاف کی حکومت بن رہی ہے دوسری طرف گرینڈ اپوزیشن مخالفت برائے مخالفت پر تلی ہوئی ہے تیسری طرف سپر طاقتیں بالخصوص بھارت تاک میں بیٹھا ہے ذمہ دار میڈیا چینلز بھولی بسری باتوں کو سیاق وسباق سے ہٹا کر عوام کے سامنے لائے اور پہلے سے موجود ہیجانوں پر ایک اور ہیجان کا اضافہ کرے لیکن اس سب کے باوجود مشکلات کا مقابلہ کرنے والا شخص جس کو زمانہ عمران خان کے نام سے جانتا ہے بہت خطرناک کسٹمر ہے اور ان ساری مشکلات میں سے راستے نکالتے ہوئے پاکستان کو انشاء اللہ مشکلات سے نکالے گا۔

٭٭٭٭

متعلقہ خبریں