Daily Mashriq


فاٹا اصلاحات بارے حکومتی بدعہدی

فاٹا اصلاحات بارے حکومتی بدعہدی

قبائلی علاقہ جات میں اصلاحات اور فاٹا کو خیبر پختونخوا میںضم کرنے کے معاملے پر حکومت کا کردار باعث تشکیک تو پہلے سے تھا ہی لیت ولعل کا رویہ بھی واضح تھا۔ گزشتہ روز فاٹا اصلاحات بارے بل کو حکومت نے راتوں رات قومی اسمبلی کی کارروائی کے ایجنڈے سے نکالنے کا انوکھا کام کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت فاٹا اصلاحات کے حوالے سے وعدے تو کرتی رہی ہے لیکن اس کے بعد حکومت کا رویہ یہی کچھ ہوتا ہے جس کا مظاہرہ گزشتہ روز ایوان میں سامنے آیا۔ اس کے خلاف فاٹا کے اراکین بشمول حکمران جماعت کے رکن اور حزب اختلا ف کی سیاسی جماعتوں کا احتجاج فطری امر تھا۔ فاٹا اصلاحات بل کی مخالفت جے یو آئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی قیادت کر رہی ہے اور حکومت کو ہر مرتبہ اپنے اتحادیوں کے سامنے سر تسلیم خم کر کے خفت اٹھانا پڑتا ہے اس مرتبہ بھی یہی ہوا۔ ایک ایسے وقت میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکوت کو ختم بنوبؐ کے معاملے پر پہلے ہی سخت تنقید، دباؤ اور مشکلات کا سامنا ہے فاٹا اصلاحات بل پرحکومت نے اتحادیوں کے ہاتھوں پسپائی اختیار کر کے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کو احتجاج کی ایک نئی وجہ اور موقع دیا ہے چونکہ یہ معاملہ حزب اختلاف کیلئے بحث وتمحیص اور قابل تشریح معاملہ نہیں اس لئے اس بارے حزب اختلاف کا مشترکہ موقف اپنانا اور حکومت کے خلاف احتجاج اور تنقید کا اچھا موقع ملا ہے جس کا گزشتہ روز انہوں نے ایوان کے اندر اور ایوان کے باہر بھرپور مظاہرہ کیا۔ ہمارے تئیں حکومت نے فاٹا اصلاحات میں پیشرفت کے طور پر گزشتہ روز کے ایجنڈے میں جن امور کو شامل کر نے کا عندیہ دیا تھا وہ نہایت موزوں اورفاٹا اصلاحات کے بارے اطمینا ن دلانے کیلئے کافی تھے۔ وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر نے جمعہ کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ قبائلی علاقوں کا قانون ایف سی آر ایک ہفتے کے اندر ختم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا جائے گا۔ اس پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ فاٹا اصلاحات کے لئے قائم کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز بھی موجود تھے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سال1901 کا برطانوی قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن لاگو ہے جس میں قبائلی علاقوں کے لوگوں کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ قبائلی علاقوں میں اسے کالا قانون کہا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت کا ایک مرتبہ پھر قبائلی علاقوں کا قانون ایف سی آر کو ایک ہفتے کے اندر ختم کرنے کے اعلان کے وقت ہی اپنے ردعمل میں فاٹا کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے رہنماؤں نے اس شک کا اظہار کیا تھا جسے بعد میں حالات اور حکومتی عمل نے درست کر دکھایا کہ یہ حکومت کا تاخیری حربہ ہے کیونکہ اس وقت سیاسی سطح پر آئندہ چند روز میں تحریک انصاف کا قبائلی کنونشن اور جماعت اسلامی کا لانگ مارچ ہونا تھا۔ جماعت اسلامی کا کارواں اب اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ ایف سی آر کو ختم کر دیا جاتا اور سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت ہائی کورٹ کو قبائلی علاقوں میں توسیع دی جاتی اور قبائل کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہو جاتا تو قبائلی عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوجاتا۔ لیکن حکومت نے قبائلی عوام اور اراکین قومی اسمبلی کی خواہشات اور امنگوں پر دو سیاسی اتحادی رہنمائوں کی ضد اور انا کو ترجیح دے کر بل کو ایجنڈے سے ہی غائب کر دیا جو اپنی جگہ غیر جمہوری رویہ اور سیاسی من مانی ہی نہیں قبائلی عوام سے مخاصمت مول لینے کے بھی مترادف ہے۔ ہمیں ان زعماء کے تحفظات کا بھی احترام ہے لیکن یہ بل پہلی مرتبہ پیش ہو رہا تھا اور نہ ہی اس پر بحث پہلی مرتبہ ہو رہی تھی، اس مقصد کیلئے حکومت کے پاس اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے بہتر مواقع تھے اور اگر حکومت اپنے بالادست اتحادیوں کو مطمئن نہیں کر سکی تھی اور ان کی ناراضگی مول لینے کی ویسے بھی حکومت پوزیشن میںنہیں تو پھر وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس اور قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل لانے کے اعلان کی کیا ضرورت تھی۔ ان کے اعلان کے وقت ہی شک وشبہ اور عدم اعتماد کا اظہار درست ثابت ہوا، ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی نیت فاٹا اصلاحات کی نہیں، ایسے میں قبائلی عوام اور اس کے حامی سیاسی جماعتوں کے پاس دھرنا، احتجاج اور دمادم مست قلندر کا راستہ ہی بچے گا جو مشکلات میں گھری حکومت کیلئے خود مزید مشکلات کا سبب بنے گی۔ ایسے اقدامات اور اعلانات جس میں صداقت اور نیت ٹھیک نہ ہو عوام کو دھوکہ دینے کے زمرے میں آتے ہیں جس کا ایسا کرنے والوں کو کسی قسم کا فائدہ نہیں البتہ نقصان ضرور ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اس مسئلے کے بارے واضح لائحہ عمل اختیار کرے اور عوام کی اُمنگوں اور مطالبات کے مطابق فیصلہ کرے۔

متعلقہ خبریں