Daily Mashriq


صوبائی حکومت چترال کے واقعے پر سنجیدگی اپنائے

صوبائی حکومت چترال کے واقعے پر سنجیدگی اپنائے

چترال میں اسماعیلی فرقہ کے پیشوا پرنس کریم آغا خان کی آمد کے موقع پر دونوں فرقوں کے درمیان ہم آہنگی اور رواداری کی جو فضا تھی ایک متنازعہ پوسٹ کے باعث اب اس فضاء کو نقصان پہنچنا افسوسناک ہے۔ پوسٹ میں ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ختم نبوتؐ کے منافی اور توہین رسالتؐ کے زمرے میں آتے ہیں۔ قبل ازیں ایک مخبوط الحواس شخص کی جانب سے بادشاہی مسجد چترال میں اس قسم کے الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا جسے حوالہ پولیس کرنے کے باوجود پولیس اور انتظامیہ معاملے کو سنبھال نہ سکی تھی اور تشدد ومظاہرے کئے گئے۔ اس مرتبہ انتظامیہ اور مقامی عمائدین اور علمائے کرام کے درمیان ہم آہنگی کی فضا میںمتنازعہ پوسٹ کی تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کیخلاف تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے پر اتفاق ایک گونہ اطمینان کا باعث ضرور ہے لیکن اس کے باوجود احتیاطاً حفاظتی اقدامات کی ضرورت سے غفلت نہیں برتنا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ چترال میں پرنس کریم آغاز خان کی آمد پر ہر دو کمیونٹی کے درمیان ہم آہنگی کی فضا کو متاثر کرنیوالے دونوں کمیونٹیز کیلئے ناقابل قبول اور شرپسند ہیں جن کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ بھی دونوں فرقوں کی طرف سے آنا چاہئے اور جس فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس امر کا ارتکاب کیا ہے ان کیخلاف کارروائی کا اسی طرح کا مطالبہ اس مرتبہ بھی دہرانے کی ضرورت ہے جو محولہ کمیونٹی نے شاہی مسجد چترال کے واقع کے وقت اپنایا تھا تاکہ یہ معاملہ فرقوں کے درمیان ہونے کی بجائے افراد کے درمیان تک محدود رہے اس سے نہ تو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرہ رہے گا اور نہ ہی اخوت وبھائی چارے کی فضا متاثر ہوگی۔ انتظامیہ کیلئے بھی اس طرح ان عناصر کے خلاف کارروائی سہل ہو سکتی ہے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ ختم نبوت ہمارا دین مذہب اور عقیدے کا ہی نہیں ہمارے ایمان اور روح کا حصہ ہے جس کے بارے میں جذبات کا بے قابو ہونا فطری امر ضرور ہے لیکن جس نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی پر ہم آپے میںنہیں رہتے ان کی تعلیمات اور قول وفعل کا عملی تقاضا ہے کہ فساد فی الارض سے بچا جائے، کسی کے جان ومال کو خطرے میں نہ ڈالا جائے، یہی عین دین اور عین احترام رسالتؐ ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جلد سے جلد جے آئی ٹی تشکیل دے کر قانونی کارروائی کو آگے بڑھائے تاکہ عوام میں اشتعال نہ پھیلے اور وہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔ اس طرح کے نازک معاملات میں غفلت ہی کے باعث ملک میں سخت تنائو کی کیفیت ہے۔ اگر چترال اور خیبر پختونخوا میں اس سے بچنا ہے تو پھر حکومت اور انتظامیہ کو تساہل اور مصلحت کی بجائے لوگوں کے جذبات کا احترام اور قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے میں زیادہ وقت صرف نہیں کرنا چاہئے۔

یونیورسٹی اساتذہ کرام سے یہ توقع ہرگز نہیں

پشاور یونیورسٹی کے طلبہ کا اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج پر یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ کی جانب سے ان کے آئندہ تعلیمی مراحل میں مختلف مخالفانہ اور ہراساں کرنیوالے ہتھکنڈوں کی دھمکی بلاجواز اور قابل مذمت اقدام ہے۔ یونیورسٹی اساتذہ کے پاس طالب علموں کو نوازنے اور ان کو سبق سکھانے کے اختیارات اساتذہ کے پاس ایک امانت کے طور پر ہوتے ہیں۔ اساتذہ کرام اور والدین میں امتیاز کی گنجائش نہیں، اساتذہ کرام کی قدر ومنزلت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ وہ والدین جیسا شفاقانہ رویہ اپنائیں اور کوئی ایسا ہتھکنڈہ نہ اختیار کریں جو طالب علموں کے مستقبل پر اثر انداز ہو۔

واڑی کی خفتہ پولیس

واڑی میں ایک ہی رات سترہ دکانوں کا صفایا کرنے کا اقدام اس امر پر دال ہے کہ پولیس واقعی لمبی تان کر سوگئی ہوگی۔ چوروں کے گروہ نے اس دیدہ دلیری کا مظاہر ہ پولیس کے گشت نہ ہونے کو دیکھ کر ہی کیا ہوگا۔ ایک رات میں سترہ دکانوں کو کھول کر اس میں قیمتی اشیاء چھان چھان کر لیجانے کیلئے پوری رات جتنا وقت ہی میں ممکن ہوگا۔ چوری کے دوران اگر چوروں کو پولیس کے آنے کا ذرا سا بھی ڈر ہوتا تو وہ اتنی بڑی کارروائی نہیں کر سکتے تھے۔ ایک پورے بازار میں لوٹ مار کی ہمت ہی کسی پولیس گشت اور حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث ہوا ہوگا۔ اس واردات کی روک تھام میں پولیس کی غفلت دیکھ کر کسی طور یہ نظر نہیں آتا کہ واڑی پولیس چوروں کا سراغ لگا کر لوٹا ہوا مال برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔ ڈی آئی جی ملاکنڈ ریجن کو اس واقعے کا سختی سے نوٹس لیکر نہ صرف مقامی تھانہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرنی چاہئے بلکہ اس سے قبل لوٹا ہوا مال ہر قیمت پر برآمد کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے کو یقینی بنانے کی سختی سے ہدایت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غریب دکاندار وں کے نقصان کا کسی نہ کسی حد تک ازالہ ہو اور وہ پھر سے اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔

متعلقہ خبریں