Daily Mashriq


پینے، کھانے اور سونگھنے کی حس

پینے، کھانے اور سونگھنے کی حس

دھوکہ دہی نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، تقریباً ہر قسم کی مصنوعات میں اب یہ گیم اپنے عروج پر ہے، وہ جو شہر سے چند کلومیٹر دور ایک مشہور یعنی کارخانوں مارکیٹ موجود ہے اس میں جاکر دیکھئے صابن، ٹوٹھ پیسٹ سے لیکر الیکٹرانک اشیاء تک آپ کو دو سے لیکر چار بلکہ پانچ نمبر کی کوالٹی آسانی سے مل جائے گی۔ اسی طرح زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی دو نمبر کے ماہرین آسانی سے مل جاتے ہیں اور وہ جو اصلی ماہرین کچھ عرصے سے چیخ چیخ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ آنیوالی صدی پانی پر جنگ کی صدی ہوگی۔ جس کا آغاز کم ازکم پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کے تنازعے کی صورت آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے، بھارت جب چاہے پانی کا رخ موڑ کر ہمارے حصے کے پانی کو روک لیتا ہے اور جب چاہتا ہے ڈیموں کے سپل وے کھول کر پنجاب میں سیلاب کی صورتحال پیدا کر دیتا ہے، یہ تو خیر ایک الگ مسئلہ ہے جبکہ خود ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کے مابین بھی پانی کے حوالے سے ان دنوں تند وتیز بیان بازی ہو رہی ہے اور ابھی چار یا پانچ روز پہلے ہی پیپلز پارٹی کے ایک جلسے میں پارٹی کے شریک چیئر مین نے ’’پانی‘‘ پی کر ایک بھارتی فلم کے مشہور گانے ’’جھوم برابرجھوم ۔۔‘‘ کا مظاہر ہ کیا کیا، کہ اگلے ہی روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ان سے پوچھ لیا کہ ’’زرداری نے کونسا پانی پیا تھا کہ جھوم اُٹھے؟‘‘۔ اس پر پیپلزپارٹی کی جانب سے تحریک انصاف کے چیئرمین کو خبرداری دینے کی اطلاعات آگئیں اور جواب آں غزل کے طور پر کہا گیا کہ وہ پی پی کی قیادت پر ذاتی حملے بند کردیں، پارٹی کے ترجمان چوہدری منظور نے ایک بیان میںکہا کہ ہم تو صرف پانی پیتے ہیں، نیازی بتائے وہ کیا پیتا، کیا کھاتا اور کیا سونگھتا ہے۔ چوہدری منظور نے بھی بعض ایسی باتیں کہی ہیں جو عمران خان کے ماضی کی جانب اشارہ کرتی دکھائی دیتی ہیں ان کی تفصیل میں جانے سے احتراز کرتے ہوئے کیونکہ اگر بات ماضی پر چلی گئی تو بات کوزے اور چھلنی والی مثال پر جاتھمے گی، بات آگے بڑھاتے ہیں اور ’’پانی‘‘ تک ہی محدود رہتے ہیں۔ اس حوالے سے کسی شاعر نے کہا تھا کہ

پیتا ہوں اس لئے کہ جل جائے جوانی

واللہ کسی شوق کے مارے نہیں پیتا

ویسے عمران خان کا سوال اتنا کڑوا کسیلا بھی نہیں تھا جس پر پیپلز پارٹی کی صفوں میں بھونچال آگیا، کیونکہ جب سے ملک کے تقریباً ہر شہر، گائوں، قصبے وغیرہ میں عوام کو مہیا کیا جانیوالا پانی، آلودہ ہونے کی اطلاعات آرہی ہیں اور اس پانی میں خود سرکاری طور پر سنکھیا کی ملاوٹ کے حوالے سے خبریں عام ہیں جو مختلف بیماریوں خصوصاً ہیپاٹائیٹس، پولیو، ٹی بی وغیرہ کا باعث بن رہا ہے، ایسی صورت میں عوام بیچارے تو خیر مردہ بدست زندہ ہیں ہی کہ وہ یہی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں، جبکہ خواص کیلئے بوتلوں میں مصفا پانی پیسے دیکر استعمال کرنے میں آسانی ہے حالانکہ اس آلودگی سے پاک پانی کے مختلف کارخانوں کے پانیوں کا تجزیہ کر کے بھی یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ کارخانے دار بھی بہ استشنائے چند، دونمبر ی سے باز نہیں آتے اور عالمی معیار کے مطابق صحت مند پانی کی جگہ کم معیار کا صاف پانی لوگوں پر فروخت کر کے تجوریاں بھر رہے ہیں۔ دونوں جانب ایک دوسرے پر الزامات سے بھلا تو کسی کا بھی نہیں ہونا البتہ ایک دوسرے کو ’’حمام‘‘ میں لے جا کر بے لباس کرنا ہی ہو سکتا ہے، اب کوزہ کون ہے اور چھلنی کون اس کا فیصلہ ہم اپنے قارئین کرام پر چھوڑتے ہیں۔ ویسے ہمیں ایک اور سیاسی رہنماء بھی یاد آرہا ہے جس پر مخصوص پانی پینے کا الزام (الزام؟) لگایا گیا تو موصوف نے ایک جلسہ عام میں کھڑے ہو کر جوش خطابت میں کہا، ہاں پیتا ہوں، مگر غریبوں کا خون نہیں پیتا، اور پینے کی وضاحت انہوں نے نہیں کی کہ کب پیتے ہیں جیسا کہ مرزا غالب نے کہا تھا

غالب چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی

پیتا ہوں روز ابر وشب ماہتاب میں

بات دو نمبر ی سے چلی تھی اور پانی میں جاکر اٹک گئی، اگرچہ پیپلزپارٹی کے جواب آں غزل میں صرف پینے کی بات نہیں کی گئی بلکہ کھانے اور سونگھے کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ اس سونگھنے کے حوالے سے بھی بعض بزرجمہروں کی یہ بات یاد آتی ہے کہ شکر ہے سانس لینے پر پابندی نہیں ورنہ غریب عوام کیا کرتے، مقصد کہنے کا یہ ہے کہ حکومتیں جب بھی ٹیکسوں میں اضافہ کرتی ہے سمجھدار لوگ یہی بات کرتے ہیں حالانکہ پہلے اس میں پانی کا تذکرہ بھی ہوتا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کیلئے ایک انعام ہے اور ہوتا یہی کہ ابتداء میں میونسپل اداروں کی جانب سے شہروں میں سرکاری نلکوں سے عوام مفت پانی حاصل کر لیتے تھے، تاہم بعد میں جب گھروں میں لوگوں نے نلکے لگوانے شروع کئے تو معمولی سی رقم بطور اخراجات وصول کرنا شروع کر دی گئی، پھر آہستہ آہستہ گلیوں سے نلکے ختم کر دیئے گئے، پشاور کے ٹھنڈے کنویں ملی بھگت سے بند کر کے برف کے کارخانہ داروں کو کھیل کھیلنے کا موقع فراہم کر دیا گیا اور اب ڈبلیو ایس ایس پی کے نام سے جو ادارہ عوام پر ملسط کر دیا گیا ہے اس نے عوام کی چمڑی ادھیڑنا شروع کر دی ہے، جو نہ صرف پانی بلکہ صفائی ستھرائی کی قیمت بھی نہ صرف وصول کر رہا ہے بلکہ مسلسل اضافہ بھی کر رہا ہے، حالانکہ اس ادارے کے مہیا کئے ہوئے پانی سے بندہ جھوم تو سکتا نہیں بلکہ اُلٹا اخراجات میں اضافے کا شکوہ کرتا ہی نظر آتا ہے۔

متعلقہ خبریں