ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

جب سے قارئین کرام کے ارسال کردہ مسائل پر مبنی اس سلسلہ وار کالم کا آغاز کیا ہے ان سطور کو تحریر کرتے ہوئے جہاں ایک عجیب سی بے بسی، نااُمیدی، مایوسی، یاس اور اکتاہٹ سی طاری رہتی ہے وہاں اس امر کا احساس باعث ہمت واستقامت ہے کہ مسائل میں گھرے ہونے اور سرکاری عمال کے سرد رویوں کے باوجود پاکستان کے عوام کبھی تھک ہار کر نہیں بیٹھتے بلکہ پوری قوت کے ساتھ زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہیں۔ افسوس بس اس بات کا ہے کہ حکمران سیاستدان اور عمال حکومت اگر تھوڑی سی ہمدردی اور خلوص واپنائیت کا رویہ اختیار کریں اور سرد مہری کی بجائے سائلین کو تسلی دینے کی روش اپنائیں تو کافی بہتری ممکن ہے۔ مسائل ارسال کرنے والے قارئین کرام سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ سادہ لفظوں میں صرف مسئلہ بیان کریں تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چارسدہ سے ملازمت کے متلاشی کا مران خان کو شکایت ہے کہ سرکاری ملازمتوں کیلئے ٹیسٹ لیتے وقت اس آسامی سے متعلق مضامین میں ٹیسٹ لینے کی بجائے غیر ضروری اور غیر متعلقہ سوالات شامل کئے جاتے ہیں، کسی حد تک تو اس شکایت سے اتفاق کیا جاسکتا ہے لیکن کسی سرکاری آسامی کیلئے ٹیسٹ لیتے وقت انگریزی، جنرل نالج، اسلامیات، مطالعہ پاکستان غیر متعلقہ مضامین ہرگز نہیں۔ ان کیساتھ ساتھ پیشہ وارانہ مضامین سے بھی سوالات ہوتے ہیں، آسامی کوئی بھی ہو اُمید وار کی قابلیت جانچنے کا پیمانہ تمام اُمیدواروں کیلئے یکساں ہوتا ہے، البتہ انٹرویو میں غیر متعلقہ سوالات کی بجائے متعلقہ سوالات پوچھے جانے چاہئیں۔ دیربالا سے ذاکراللہ کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے متعدد محکموں کے ٹیسٹ تو کلیئر کئے لیکن ان کو اگلے مراحل میں نظر اندازی کیا گیا اور ان کو بلایا تک نہیں گیا۔ سرکاری محکموں کے بھرتیوں میں اگر انصاف کا معاملہ نہ بھی ہو تب بھی رسم اور طریقہ کار ضرور پورا کیا جاتا ہے تاکہ کوئی اُمیدوار عدالت سے رجوع کرکے ان کو مشکلات سے دوچار نہ کردے، بہرحال اُمیدوار کو شکایت کی صورت میں متعلقہ حکام اور رائیٹ ٹو انفارمیشن کا حق استعمال کرنے کی سہولت موجود ہے، سرکاری محکمے جوابدہی سے انکار نہیں کر سکتے۔ زیڈ خان سوات سے این ٹی ایس ٹیچر ہیں، وہ اور ان کے ساتھی اس بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہیں کہ ان کو مستقل کیا جائے گا یا فارغ کردیا جائے گا۔ این ٹی ایس ٹیچرز کی مستقلی کی یقین دہانی کروائی جا چکی ہے اگر حکومت اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرے تو غیر یقینی کی کیفیت کا خاتمہ ہوگا اور اساتذہ یکسوئی کیساتھ تدریس پر توجہ دے سکیں گے۔ لکی مروت سٹی سے جہانزیب شان خیل نے شہباز خیل اڈے تک پچاس کلو میٹر روڈ کی خستہ حالی اور لوگوں کی مشکلات کا تذکرہ کیا ہے۔ سڑکوں کی خستہ حالی اور شکستہ حالی کی بڑی وجہ ان کی ناقص تعمیر وعدم مرمت ہے۔ یقیناً خراب سڑکیں عوام کیلئے کسی وبال جان سے کم نہیں ہوتیں، متعلقہ حکام کی اس جانب توجہ کی ضرورت ہے کم ازکم اس سڑک کی تھوڑی سی مرمت ہی کرائی جائے تو عوام کو اس مشکل سے نجات مل سکے۔ بہت سے قارئین کے مسائل ملازمتوں میں ناانصافیوں، رشوت اور سفارش کے بغیر کوئی کام نہ ہونے، سیاسی نظام سے شکایات، بیوروکریسی کے کرتوتوں اور تبدیلی کے دعوئوں کی نفی جیسے معاملات پر برقی پیغامات ملتے ہیں تو میں سوچنے لگتی ہوں کہ انہی مسائل ومعاملات کے حل کیلئے تو وزیراعلیٰ ہاؤس میں باقاعدہ شکایات سیل قائم ہے، لوگ فیس بک، ٹوئیٹر، واٹس ایپ یا دیگر ذرائع سے اور تحریری طور پر بھی متعلقہ حکام سے رجوع کرتے ہوں گے۔ اضلاع اور ڈویژن میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر میں بھی شکایات سیل قائم کئے جا چکے ہیں، اسی طرح محکمہ پولیس کے بھی مختلف سطح کی شکایات سیل موجود ہیں مگر اس کے باوجود لوگوں کا بہت بڑی تعداد میں ا س کالم کی وساطت سے اپنے مسائل کو سامنے لانے کا رجحان جہاں مشرق اخبار اور اس کالم نگار پر ان کے اعتماد کا مظہر ہے وہاں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ان تمام فورمز پر شاید ان کی شکایات سنی نہیں جاتیں یا پھر ان کو مناسب جواب نہیں ملتا۔ اس کالم کا دامن بھی اتنا وسیع نہیں کہ ساری اور سب کی شکایات اس کے دامن میں سما سکیں البتہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر طبقے اور ان کی شکایات کی نمائندگی کا حق ضرور ادا کیا جاسکے۔ شکایات سیل قائم کرنے والوں کو اس امر پر ضرور غور کرنا چاہئے کہ عوام ان سے کس قدر اعتماد سے رجوع کرتے ہیں اور ان کی کارکردگی اور دفع شکایات کی شرح اور صورتحال کتنی مؤثر ہے۔ کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ عوام کی طرف سے ملنے والی شکایات اور ان کے حل کے حوالے سے ایک رپورٹ ہفتہ وار یا ماہوار جاری کیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بڑھے اور ان کی اپنی کارکردگی بھی سامنے آئے اور یہ شکایات سیل اندھے کنوئیں کی مثال پیش نہ کریں بلکہ ان کی فعالیت نظر آئے۔

نوٹ: قارئین اس ہفتہ وار کالم میں اپنی شکایات 03379750639 پر میسج کر سکتے ہیں۔ اسکے علاو ہ روزنامہ مشرق بلال ٹائون جی ٹی روڈ پشاور کے پتے پر بھجوا سکتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی آراء اور جوابی وضاحت کا خیر مقدم کیا جائیگا۔

اداریہ