Daily Mashriq


آج کیا پکے گا؟

آج کیا پکے گا؟

پیٹ ایسا برتن ہے جو کبھی نہیں بھرتاآپ بہت سی ضروریات ملتوی کرسکتے ہیں لیکن کھانے پینے کی ضروریا ت کو ملتوی بھی نہیں کیا جاسکتا اسی لیے کہتے ہیں کہ کھانے پینے کے کاروبار میں فائدہ ہی فائدہ ہے دن کا آغاز ہوتے ہی ناشتے سے شروع ہونے والا سفر دن بھر پیٹ کا دوزخ بھرنے کی تگ و دو میں ہی گزر جاتا ہے۔ وہ سفید پوش گھرانے جہاں گھریلو ملازم اور خانسامے کی سہولت میسر نہیں ہوتی دن کا آغاز ایک مخصوص جملے سے ہوتا ہے اور یہ جملہ عموماٌ ناشتے سے فراغت کے بعد ہی بولا جاتا ہے ناشتے میں انڈے مکھن اور ٹوسٹ کا ہونا ضروری نہیں ہے عام گھروں میں ناشتہ چائے کے ایک کپ اور ایک آدھ روٹی کو ہی کہا جاتا ہے۔ ہمارے ایک مہربان کا کہنا ہے کہ یار سادہ غذا کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ بندہ ان بیماریوں سے بچا رہتا ہے جو امیر لوگوں کی پہچان بنتی جارہی ہیں جیسے شوگر بلڈ پریشر دل کی بیماری اب غریب لوگ بھی ان بیماریوں میں تیزی سے مبتلا ہوتے چلے جارہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پہلے ٹینشن صرف امیروں کو ہوتی تھی بکھرے ہوئے کاروبار کے بکھیڑوں کی وجہ سے وہ ہروقت پریشان رہتے تھے۔مال و دولت کی بہتا ت کے باوجود خوب سے خوب تر کی تلاش انہیں پریشان رکھتی تھی لیکن اب تو غریب آدمی کو بھی یہ روگ لگتے چلے جارہے ہیں۔ سفید پوش گھرانوں میں ناشتے کے بعد جس موضوع پر بات ہوتی ہے وہ آج کیا پکے گا والا جملہ ہوتا ہے یوں کہیے کہ یہ جملہ اچھے خاصے شر کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ مرد بیچارہ جلدی میں ہے کہ آفس بھی جانا ہے ہلکی پھلکی تیاری بھی ضروری ہے حوا کی بیٹی کوئی فیصلہ نہیں کرپا رہی۔ باپ کی جیب بچوں کی پسند کی متحمل نہیں ہوتی کسی کو آلو اچھے نہیں لگتے تو کوئی کدو کھانے سے بے زار ہے۔ اب الجھنیں بڑھنے لگتی ہیں اور اچھے خاصے دن کا آغاز ایک ہلکے پھلکے معرکے سے ہوتا ہے ۔اس معرکے کی وجہ سے شریف آدمی سارا دن پریشان رہتا ہے آفس میں کسی نے بات کی اور یہ صاحب کاٹنے کو دوڑے ۔لوگ بھی حیران ہوتے ہیں کہ صبح صبح ایسی کیا قیا مت آگئی ہے کہ یہ صاحب لڑنے مرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہفتے بھر کا مینو بنالیا جائے تو اس صورتحال سے بچا جاسکتا ہے گوشت سبزیوں اور دالوں کے حسین امتزاج سے ایک معقول قسم کا مینو کسی بھی اوسط آمدن والے گھرانے کے لیے باعث رفع شر ہو سکتا ہے۔ ہر کھانے کا ایک دن مقرر ہے بندہ روز روز کی بک بک سے بھی بچا رہتا ہے لیکن جو لوگ مشین کی طرح لگے بندھے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کو پسند نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ اگر ہفتے بھر کا مینو بنا لیا جائے تو پھر وہ ایڈونچر ختم ہوجاتا ہے جو آج کیا پکے گا میں پایا جاتا ہے یہ جملہ تو گھریلو زندگی کا ایک اٹوٹ انگ ہے اگر یہ جملہ نہ بولا جائے تو پھر دن کا آغاز یقینا کسی رشتہ دار بہن بھائی یا کسی دوست کی غیبت سے ہی ہوگا جو بذات خو د ایک بہت بڑا مسئلہ ہے یہ تو اب ہم لوگوں کا قومی مزاج بنتا چلا جارہا ہے کہ جہاں دو چار شریف آدمی اکٹھے ہوئے غیبت شروع ہوگئی۔ اپنے نیک اعمال ان لوگوں کے اعمال نامے میں منتقل کرتے چلے جائیے جنہیں آپ پسند ہی نہیں کرتے اور یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے !مینو بنانے میں ایک اور قباحت بھی ہے اس سے انسان کی تخلیقی صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں۔ 

مہنگائی نے کھانے پینے کے ذوق کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے کسی زمانے میں منگل اور بدھ کو سفید پوش گھرانوں میں گوشت کا ناغہ ہوا کرتا تھا اب ہفتے میں ایک آدھ دن ہی گوشت کا دیدار ہوتا ہے( اور ایسے لوگ بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں جو عیدقرباں پر گوشت کھاتے ہیں ) اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوا ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں نے اپنی محفلوں میں گوشت کو ہدف تنقید بنانا شروع کردیا ہے سبزیوں اور دالوں کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں سبزیوں کی افادیت اپنی جگہ لیکن یہاں گوشت کھانے کی استطاعت کمزور پڑتی چلی جارہی ہے تو دل کو یہ کہہ کر تسلی دے دی جاتی ہے کہ سبزیاں صحت کیلئے مفید ہیں۔ گوشت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں تو لوگوں کو مجبوراًسبزیوں اور دالوں کی طرف مائل ہونا پڑا اور یہ اچھی بات ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ کہتے بھی سنا گیا ہے کہ گوشت کے تمام اجزاء لوبیا اور قلول میں پائے جاتے ہیں اسلئے ہم تو قلول کھاتے ہیں جیسے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیب کے تمام اجزاء گاجر میں بھی پائے جاتے ہیں اگر سیب امیروں کا پھل ہے تو گاجر غریب لوگوں کیلئے پیدا کی گئی ہے۔ دراصل قصور ہمارے ارباب اختیار کا بھی نہیں ہے وہ یہ چیزیں کھاتے نہیں ہیں تو انہیں ان کی قیمتوں کا بھی زیادہ علم نہیں ہوتا۔ صاحب کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اشیائے خوردنی کے نرخ کیا ہیں اور غریب آدمی اب قلول اور لوبیا کھانے سے بھی رہا کیونکہ اب اس کے لیے ان کی خریداری بھی مشکل ہوتی چلی جارہی ہے۔ جہاں تک امیر آدمی کے ناشتے کا تعلق ہے تو وہ بھی سادہ ہی ہوتا ہے اس میں کوئی ثقیل چیز شامل نہیں ہوتی جو دل و دماغ پر بوجھ ڈالے۔ بس ناشتے میں تازہ پھلوں کا رس۔کھجور کے دو چار دانے۔ دوچار دانے کاجو اور بادام اور تھوڑا سا دودھ ۔ اپ آپ خود یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں کیا معلوم کہ غریب کا ناشتہ کیا ہوتا ہے غریبوں کا ایک اور مسئلہ بہت زیادہ توجہ طلب ہے چونکہ یہ جسمانی مشقت بہت زیادہ کرتے ہیں اسلئے ایک بندہ دو چار روٹیا ں بڑی آسانی سے نوش جان کر لیتاہے۔

متعلقہ خبریں