Daily Mashriq


آصف زرداری کی ’’سیاسی بصیرت‘‘

آصف زرداری کی ’’سیاسی بصیرت‘‘

جو لوگ سانحہ ماڈل ٹائون کی وجہ سے شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں کیا ان لوگوں نے سانحہ لال مسجد پر جنرل(ر) پرویز مشرف سے استعفیٰ لیا تھا؟کیا کسی نے دو ہزار چودہ کے دھرنے والوں سے پوچھا کہ ہزاروں لوگ ڈنڈے اٹھا کر اسلام آباد میں کیوں داخل ہوئے تھے؟ان لوگوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی جنہوں نے کراچی میں دو سو پچاس لوگوں کو جلا کر راکھ کر دیا؟کبھی سوچتا ہوں کہ تیز رفتار ٹیکنالوجی کے اس دور میں جبکہ عوام ایک ایک لمحے کی خبر رکھتے ہیں،کچھ مخصوص لوگ کیا سوچ کر لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں؟اور انہیں کیوں یہ خوش فہمی ہے کہ لوگ ان کی باتوں میں آ کر بیوقوف بن جائیں گے؟ابھی دو روز پہلے کی بات ہے کہ موجودہ حالات پر چار پانچ لوگ بحث کر رہے تھے۔یکا یک حجام نے لقمہ دیا ،چھوڑئیے جناب یہ سب تماشہ اس لئے ہے کہ سینیٹ کے انتخابات سے پہلے حکومت کو ختم کر دیا جائے تا کہ وہ سینیٹ میں اکثریت نہ لے سکے۔اسکی یہ بات سن کر میں بھونچکا رہ گیا کہ سوشل میڈیا نے ایک حجام کو بھی اس قدر درست تجزیہ کرنے کی طاقت دے دی تو پھر مخصوص اشرافیہ کس کو بیوقوف سمجھ رہی ہے؟بات یہ ہے کہ جال نیا ہے شکاری وہی پرانے ہیں۔کھیل کا اسلوب بدلا ہے کھیل تو وہی پرانا ہے کہ کس کو جتوانا اور کس کو ہروانا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے علامہ طاہر القادری کو کنٹینر پر چڑھنے کے لئے اکسایا جا رہا ہے۔علامہ صاحب نے یقینی طور پر پوچھا ہوگا کہ جناب پہلے بھی دو مرتبہ کنٹینرز پر چڑھاتے ہوئے کچھ وعدے وعید کئے تھے،اب پھر ایک ناکام دھرنا مقدر بنا تو اپنے لوگوں کو کیا جواب دیں گے؟تامل ہے تو فقط یہی لیکن علامہ صاحب کو لائن پر لانے کے لئے طرح طرح کے پاپڑ بیلے جا رہے ہیں۔کبھی شیخ رشید انہیں اکساتے ہیں کہ بس اللہ کا نام لے کر کنٹینر پر چڑھ جائیں۔ کبھی چوہدری برادران انہیں ہلہ شیری دیتے ہیں اور کبھی وہ زرداری انہیں دھرنے کے لئے اپنی حمایت کی یقین دہانی کرانے خود ان کی خدمت میں پہنچ جاتے ہیں جن کی حکومت کو علامہ صاحب نے دو ہزار تیرہ میںچور،ڈاکو اور دہشت گرد قرار دیا تھا۔اسی حکومت کے وزیر داخلہ رحمان ملک کے بارے میں اعلانیہ پیپلز پارٹی کو کہا گیا تھاکہ جب وفد آئے تو اس میں ’’شیطان‘‘ ملک نہ ہو۔علامہ صاحب کا یہ جملہ آج بھی ویڈیو کی صورت میں موجود ہے اور انہی دنوں نجی ٹی وی چینلوں پر بار بار چلا۔وہ قمر زمان کائرہ کہ جو دو ہزار تیرہ میں علامہ صاحب کی نقلیں اتار اتار کر صحافیوں کو ہنسایا کرتے تھے ،آصف زرداری کی طاہر القادری سے ملاقات کے دوران یوں انجان بن کر ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جیسے عوامی تحریک اور پیپلز پارٹی کے درمیان جنم جنم کا رشتہ ہو اور دونوں جماعتوں کے ماضی میں بڑے خوشگوار تعلقات رہے ہوں۔کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن معذرت کے ساتھ اب تو یہ لگتا ہے کہ سیاست کے سینے میں غیرت بھی نہیں ہوتی اور ضمیر بھی نہیں ہوتا۔یہ سب کس لئے؟ اس حکومت کیلئے جو اب آصف علی زرداری کیلئے محض ایک خواب ہے کہ انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کو اس مقام تک پہنچا دیا کہ سوائے سندھ کے اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔اور سندھ کی صورت حال بھی یہ ہو چکی کہ پیر صاحب پگاڑا کی قیادت میں جو اتحاد بنا یہ سندھ سے کئی سیٹیں نکالنے کی طاقت رکھتا ہے۔سو عین ممکن ہے کہ آصف زرداری اب بچی کھچی سیاسی پونجی کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ایک بات طے ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان گھمسان کا رن پڑے گا۔خیبر پختونخوا تحریک انصاف کا ہی رہے گا سندھ میں بھی تحریک انصاف بڑے سیاسی اتحاد کے حصے کے طور پراچھا خاصاحصہ وصول کر لے گی اور پنجاب کی حد تک یہ بات طے ہے کہ اس کا حشر وہی ہوگا جو این اے 120 لاہور میں اس کے امیدوارفیصل میر کا ہوا تھا۔آصف علی زرداری کو اس بات کا بڑا مان ہے کہ وہ سیاسی چالوں کے چیمپئن ہیں لیکن انہیں اندازہ نہیں کہ جو شطرنج کی بساط بچھائے بیٹھے ہیں اصل چمپئن وہ ہیں جو صرف جیتنے کیلئے کھیلتے ہیں۔انہیں اس خوش فہمی سے بھی باہر آجانا چاہئے کہ وہ تحریک انصاف کو ہرا سکتے ہیں۔انہیں یہ غلط فہمی بھی نہیں ہونی چاہئے کہ عمران خان ان کا پیچھا چھوڑ دیں گے کیونکہ اگر ایسا ہوا تو تحریک انصاف کی کرپشن فری پاکستان تحریک کا جنازہ نکل جائیگا۔ آصف زرداری جو ’’ سیاست‘‘ کرنے جا رہے ہیں ،ان کے اپنے قریبی ساتھی ان کی اس ’’سیاست‘‘ کے ساتھ نہیں چل سکیں گے۔رضا ربانی،خورشید شاہ اور فرحت اللہ بابر جیسے لوگوں کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ زیادہ عرصہ ضمیر کے بوجھ تلے دب کر اس طرح کی سیاست میں ان کا ساتھ دے سکیں۔سو’’سیاست کے شہنشاہ‘‘ جان لیں کہ اب ان کی سیاسی سلطنت کا حال آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر سے مختلف نہیں، جن کی سلطنت صرف لال قلعے تک محدود رہ گئی تھی ۔ وہ سب جو آج کے منظر نامے کو بہت غور سے دیکھتے ہوئے یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید پاکستان میں انصاف کا بول بالا ہونے جا رہا ہے ،وہ اس سوچ سے باہر نکل آئیں کیونکہ اگر کبھی واقعی کوئی انصاف کی دو دھاری تلوار بن کر منظر پر ابھرا توایک ’’ معجزہ‘‘ ہوگا اور وہ یہ کہ سابق صدر پرویز مشرف عدالت کے کٹہرے میں کھڑے نظر آئیں گے اورہر کرپٹ شخص اور ادارہ اپنے جرائم کی سزا پا رہا ہوگا،خواہ وہ کتنا ہی با اثر اور منہ زور کیوں نہ ہو۔

متعلقہ خبریں