مشرقیات

مشرقیات

سلطان محمود 870ھ میں احمد نگر (دکن) کی طرف شکارکو گیا۔ اثنائے راہ میں اس کے ایک سردار بہاء الملک نے ایک شخص کو جان سے مار ڈالا اور قصاص کے خوف سے ایدر (راجپوتانہ) کو بھاگ گیا۔ بادشاہ کو خبر ہوئی اس نے ملک حاجی اور عضد الملک کو جو مہمات بادشاہی کے ناظم اعلیٰ تھے‘ اس کی گرفتاری پر مامور کیا۔ یہ دونوں امیر دل سے اس کے طرف دار تھے۔ تھوڑی دور جا کر یہ چالبازی کی کہ بہاء الملک کے نوکروں کو بہت سا روپیہ دے کر ان سے یہ اقرار لے لیا کہ اگر پرسش ہو تو وہ خون کا اقبال کرلیں اور یہ کہا کہ بادشاہ رحیم ہے بخش دے گا اور چونکہ ہمارے مشورے کے بغیر وہ قتل کا حکم نہیں دے گا اس لئے ہم تم کو ضرور بچالیں گے۔
وہ دونوں اجل گرفتہ مال کے طبع اور اپنے آقا کی خیر خواہی کے لئے آمادہ ہوگئے۔ بادشاہ کے سامنے دونوں نے اقرار کرلیا۔ بادشاہ نے علماء سے فتویٰ لیا اور ان مزدور گنہگاروں کو قتل کرایا۔ تھوڑے عرصہ بعد بادشاہ کو معلوم ہوا کہ ان دونوں سرداروں نے اپنے دوست کو بچانے کے لئے دونوں بے گناہوں کا مجھ سے خون کرایا ہے۔ ہر چند کہ ان دونوں سے بہتر کوئی امیر وزیر اس وقت دربار میں نہ تھا مگر بادشاہ نے اس خیال سے کہ میرا نام ظالموں اور بے انصافوں کی فہرست میں نہ لکھا جائے۔ ان دونوں کو قتل کرا دیا اور عبرت خلائق کے لئے ان کی کھالوں میں گھاس بھروا کر احمد آباد کے چوپڑ کے بازار میں ان کو لٹکوادیا۔
حضرت سیدنا وہب بن منبہؓ سے مروی ہے کہ کسی جابر بادشاہ نے ایک محل بنوایا اور اسے خوب پختہ کیا‘ ایک مسکین بڑھیا نے پناہ لینے کے لئے محل کے قریب ایک جھونپڑی بنالی‘ ایک دن اس ظالم نے محل کے ارد گرد چکر لگایا تو بڑھیا کی جھونپڑی کو دیکھ کر پوچھا: ’’یہ کس کی ہے؟‘‘ اسے بتایا گیا: ’’یہ ایک فقیر عورت کی ہے‘ وہ اس میں رہتی ہے۔‘‘ اس نے جھونپڑی کے گرانے کا حکم دیا اور جھونپڑی گرادی گئی۔ جب بڑھیا آئی تو اسے گراہوا پاکر پوچھا: ’’اسے کس نے گرایا ہے؟‘‘ اسے بتایا گیا کہ ’’بادشاہ نے‘‘۔بڑھیا نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض کی:’’اے پروردگار میں تو موجود نہ تھی‘ مگر تو تو موجود تھا؟‘‘ راوی بتاتے ہیں: ’’پس اللہ عزوجل نے حضرت جبرئیل ؑ کو حکم دیا کہ محل کو اس میں رہنے والوں پر الٹ دیں۔‘‘چنانچہ حضرت جبرئیل ؑ نے اسے الٹ دیا۔بعض تاریخی کتب میں لکھا ہے کہ محل کی باقی ماندہ بعض دیواروں پر یہ اشعار لکھے ہوئے پائے گئے تھے۔ترجمہ: کیا تم بددعائوں کا مذاق اڑاتے ہو اور اسے حقیر جانتے ہو‘ تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ان بددعائوں سے کتنے بڑے بڑے کام ہو جاتے ہیں۔ رات کے تیسرے پہر (آخر شب کی بد دعا) کبھی خطا نہیں ہوتی‘ لیکن اس کی ایک انتہاء ہوتی ہے اور انتہا ایک دن ختم ہوہی جاتی ہے۔ یہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو‘ یہ سب اللہ کی مرضی سے ہوا۔ اب تمہارا ملک تمہارے پاس نہیں رہا (بلکہ تو خود بھی نہیں رہا) ۔
(بحوالہ دعوۃ المظلوم)

اداریہ