Daily Mashriq

امریکی تحفظات بلا جواز ہیں

امریکی تحفظات بلا جواز ہیں

امریکا کی جانب سے اقلیتوں سے نامناسب روئیے اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اسے ’بلیک لسٹ‘ ممالک کی فہرست میں شامل کر دینا معاشی طور پر مشکلات کا شکار ملک کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ کانگریس کی مرتب کردہ سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن کے حوالے سے خصوصی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کئے جانے کے بعد اب واشنگٹن، مذہبی آزادی کے حوالے سے خلاف ورزیوں پر پاکستان پر اصلاحات کیلئے دباؤ ڈال سکے گا۔ امریکا نے ایک سال قبل اس اقدام کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے پاکستان کو خصوصی ’واچ لسٹ‘ میں شامل کیا تھا تاکہ پاکستان مذہبی آزادی کے معاملے پر اصلاحات کرتے ہوئے اقلیتوں کو مزید تحفظ فراہم کرے۔ امریکا کی بلیک لسٹ میں دیگر ملکوں میں چین، ایران، سعودی عرب، ایری ٹیریا، میانمار، شمالی کوریا، سوڈان، تاجکستان اور ترکمانستان شامل ہیں۔ ان ملکوں پر الزام ہے کہ یہ باقاعدہ منظم طریقے سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ پاکستان نے امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کے مرتکب ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی بنیادوں پر کیا گیا فیصلہ قرار دیا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے کسی ملک کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے مذہبی آزادی کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے فیصلوں سے واضح امتیاز ظاہر ہونے کے علاوہ اس ناجائز عمل میں شامل خودساختہ منصفین کی شفافیت اور قابلیت پر بھی سنجیدہ نوعیت کے سوالات اُٹھتے ہیں۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایک کثیرالمذہبی ملک اور کثرت پسندانہ معاشرہ ہے جہاں مختلف عقائد اور فرقوں کے حامل لوگ رہتے ہیں۔ ملک کی کل آبادی کا چارفیصد حصہ مسیحی، ہندو، بودھ اور سکھ عقائد سے تعلق رکھتے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی حکومتوں نے اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو ملک کے قانون اور آئین کے وضع کردہ حقوق کے مطابق تحفظ فراہم کرنے کو فوقیت دی ہے جبکہ اعلیٰ عدلیہ نے اقلتیوں کی عبادت گاہوں اور املاک کے تحفظ کیلئے کئی اہم فیصلے دئیے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بدلتی نوعیت کے تناظر میں یہ کوئی انہونی نہیں کہ امریکہ مختلف حیلے بہانوں سے پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرے۔ امریکہ کے پاس پہلے بہت سارے راستے اور امکانات کا دروازہ کھلا تھا مگر کچھ دروازے امریکہ نے خود بند کئے اور کچھ دروازوں کو پاکستان نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لاکر پوری قوت سے بند کرنے کی سعی کی۔ بالآخر امریکہ کے پاس پاکستان کو دباؤ میں لانے کیلئے یا تو دہشتگردوں کی امداد کے ذرائع روکنے میں ناکامی کا بہانہ تلاش کرنا پڑا یا پھر پاکستان پر مذہبی اقلیتوں کے عدم تحفظ کا الزام تھونپنا پڑا۔ ان دونوں قسم کے الزامات سے پاکستان کی اقتصادیات کے متاثر ہونے کا خطرہ امریکہ کے تازہ اقدام کا مقصد امریکہ کی جانب سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے منفی سگنل ہے۔ مذہبی آزادیوں کے حوالے سے امریکی اقدام کا جائزہ لیا جائے تو یہ محض الزام کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ پاکستان میں اقلیتوں کو امریکہ سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ مذہبی اور شہری آزادیاں حاصل ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کو ان کے تناسب سے بھی زیادہ شریک اقتدار کیا گیا ہے اور اہم عہدوں پر بھی ان کی تعیناتی ہوتی ہے۔ ریاست اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی مساجد کی طرح ہی حفاظت کرتی ہے۔ جہاں تک اکا دکا واقعات کا تعلق ہے ایسا کسی بھی ملک میں ہونا ممکن ہے اور اس کے مظاہر بھی سامنے آتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جس طرح اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی حفاظت کی جاتی ہے اور احترام دیا جاتا ہے اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اقلیتیں اس معاملے پر حکومت وریاست کی شکر گزار ہیں۔ حال ہی میں کرتارپور کی سرحد کھولنے سے سکھوں کو جو خوشی واطمینان حاصل ہوا ہے یا پھر چیف جسٹس نے کٹاس راج کے تالاب کے حوالے سے احکامات دے کر ہندوؤں کے متبرک مقام کی بحالی وتحفظ کا جو اقدام کیا ہے وہ بطور مثال پیش کرنے کیلئے کافی ہے۔ پاکستان میں دیگر اقلیتی برادری کے معبدوں کو بھی تحفظ حاصل ہے۔ بعض اوقات عوامی سطح پر جو واقعات ہوتے ہیں ان کی بروقت روک تھام میں حکومت اور ریاستی ادارے سخت سے سخت اقدام سے دریغ نہیں کرتے۔ ان حالات کے باوجود پاکستان پر مذہبی آزادیوں کی عدم پابندی کا الزام پانی گدلا کیوں کیا کے مصداق عمل ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کا تحفظ اور مذہبی آزادی آئین میں موجود ہے جن کا پورا پورا احترام ہونا چاہئے۔ معاشرے میں ہم آہنگی نہ ہونے سے صرف اقلیتیں ہی نہیں پاکستان میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر مسلمان خود بھی ایک دوسرے سے متصادم رہتے ہیں۔ کیا اس صورتحال کی بھی ذمہ داری ریاست اور حکومت پر عائد کی جائے یقینا نہیں اس طرح کی صورتحال میں بہتری ضرور آرہی ہے اور جہاں جہاں بھی ممکن ہو معاشرے اور حکومتی دونوں سطحوں پر اس حوالے سے اقدامات ہو رہے ہیں اس کے باوجود امریکی اقدام بلاجواز اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے جس کا مقابلہ اصل حقائق کو دنیا کے سامنے لانے پر زیادہ سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں