Daily Mashriq


ہیری ٹیج ٹریل کی تباہی

ہیری ٹیج ٹریل کی تباہی

ہمارے نمائندے کے مطابق پشاور کی عظمت رفتہ کے منصوبے ہیری ٹیج ٹریل میں نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہو گیا شاہی کٹھہ سے منسلک نالہ بند ہونے کی وجہ سے ٹریل کے اطراف میں موجود دکانوں میں پانی بھر گیا جبکہ بیسمنٹ بھی گندے پانی سے بھر گئیں۔ڈبلیو ایس ایس پی ذرائع کے مطابق مذکورہ مقام کا دورہ کرنے والی ٹیم نے سفارش کی ہے کہ ہیری ٹیج ٹریل میں نکاسی کا نظام درست نہیں ہے اور ایسے مسائل مستقبل میں بھی سامنے آئیں گے جن سے بچنے کیلئے ٹریل کو دوبارہ سے اکھاڑ کر نکاسی آب کا نظام ازسرنو تعمیر کیا جائے گا۔ اس سے بڑھ کر منصوبہ بندی کے فقدان اور قومی وسائل کے ضیاع کی مثال کیا ہوگی کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں قومی ورثہ کے تحفظ کے لئے ایک پورے علاقے کو زر کثیر خرچ کرکے قدیم طرز پر بحال کیاگیا مگر منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ہی مختلف قسم کے مسائل سامنے آنے لگے۔ گلیوں کا فرش اکھڑنے لگا‘ صفائی اور آمد و رفت کے مسائل اٹھ کھڑے ہوئے‘ تجاوزات اور ثقافتی ورثے کے چہرے کو بگاڑنے کے اقدامات کاآغاز ہوگیا مگر موسم سرما کی اس پہلی بارش نے تو منصوبہ بندی کا ایسا بھانڈا پھوڑ دیا کہ سارے کئے کرائے پر پانی پھر گیا۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے حکام مسئلے کا جو حل تجویز کر رہے ہیں اس تجویز پر عملدرآمد کی مجبوری سے جہاں وسائل کا ضیاع ہوگا وہاں علاقے کے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر طویل عرصے تک دشواریوں کا سامنا ہوگا۔ بغیر منصوبہ بندی کے شہر میں شروع ہونے والا اور ناکامی سے دوچار ہونے والا یہ پہلا منصوبہ نہیں بلکہ اس شہر نا پرسان میں اکھاڑ پچھاڑ کا یہ عمل معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے ہر جگہ بد انتظامی و بد ہیئتی سے واسطہ پڑتا ہے اور قومی خزانے سے رقم کا ضیاع تو سامنے آتا ہے مگر مسائل حل نہیں ہوئے۔

حرام اشیاء کی ملاوٹ کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے

خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کے مطابق مارکیٹ میں جوس فراہم کرنے والی ایک کمپنی کے جوس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ امرود کے جوس کا ذائقہ تیار کرنے کیلئے ایک خاص کیڑے کا استعمال کیا جاتا ہے جو سائنسی اعتبار سے حلال خوراک کے معیار پر پورا نہیں اُترتا اسلئے اسے حلال قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فوڈ اتھارٹی کے حکام کی کارروائی اپنی جگہ احسن ضرور ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کمپنی کب سے مذکورہ جوس تیار کر رہی تھی اور اب تک صوبے میں کتنے جوس کے ڈبے فروخت کئے جا چکے ہیں یقینا اس کی تعداد لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ضرور ہوگی جو افسوسناک عمل ہے۔ ہمارے تئیں حرام اشیاء کی ملاوٹ کرکے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے والی اس کمپنی کو مکمل طور پر بلیک لسٹ کیا جانا چاہئے اور کمپنی کے مالکان اور عہدیداروں کو لوگوں کو دھوکے میں حرام اشیاء کی فروخت پر گرفتار کیا جانا چاہئے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی حرکت کی جرأت نہ کرے۔ علاوہ ازیں جوس اور دیگر اشیاء کی فراہمی کے عمل کی نگرانی اور حلال اور صحت کیلئے مفید اشیاء ہی سے جوس اور دیگر مشروبات اور اشیائے خوردنی کی تیاری کو یقینی بنایا جائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس قسم کی صورتحال کے آئندہ تدارک کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے اور عوام کو اطمینان کیساتھ مشروبات اور اشیاء خوردنی کے استعمال کا موقع دیا جائے گا۔ دکانداروں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کم ازکم ایسی اشیاء کی فروخت سے گریز کریں جس میں حرام اجزاء شامل ہوں۔ حکومت کو اب تک اس قسم کی غفلت کے ارتکاب پر متعلقہ اتھارٹی سے جواب ضرور طلب کرنا چاہئے۔

خواتین کے تحفظ میں عدم دلچسپی کیوں؟

ملازمت کے مقامات پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کیخلاف تحفظ کے بل کی منظوری کے بعد اس کے نفاذ کے تقاضوں میں حکومتی عدم دلچسپی سمجھ سے بالاتر ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہونا فطری امر ہے کہ صوبائی حکومت خواتین کے تحفظ کے ضمن میں شاید زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی اور نہ ہی خواتین اراکین اسمبلی کو اس قانون کے نفاذ میں دلچسپی ہے۔ اگر قانون پر عملدرآمد نہیں کروانا تھا تواس کے بنانے کی کیا ضرورت تھی۔

متعلقہ خبریں