Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

برقی پیغام رسانی جہاں برق رفتار اور برق گرانے کا باعث ہے وہاں ہم جیسوں کیلئے اس سے بڑی آسانیاں بھی میسر آجاتی ہیں۔ بیک وقت اچھا اور برا ہونا اس کی ایک صفت ہے۔ بعض اوقات تو یہ بہت ہی بری اور برائیوں کی جڑ بھی ثابت ہوتی ہے مگر ہمیں اس سے کیا ہمیں تو اس سے بیٹھے بٹھائے ایسا مواد مل جاتا ہے کہ زحمت کئے بغیر نقل بمطابق اصل درست ہے کی سہولت ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کے ایک طویل برقی پیغام کا ایک حصہ پڑھئے اور سر دھنئے۔ ایک جملے کے لطائف ہر آدمی اتنا برا نہیں ہوتا جتنا اس کی بیوی اس کو سمجھتی ہے اور اتنا اچھا بھی نہیں ہوتا جتنا اس کی ماں اس کو سمجھتی ہے۔ ہر عورت اتنی بری نہیں ہوتی جتنی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی فوٹو میں نظر آتی ہے اور اتنی اچھی بھی نہیں ہوتی جتنی فیس بک اور واٹس ایپ پر نظر آتی ہے۔ شوگر کی بیماری اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگ میٹھا کھانا پینا تو کیا میٹھا بولنا بھی چھوڑ گئے ہیں۔ اکثر میاں بیوی ایک دوسرے سے سچا پیار کرتے ہیں اور ’’سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے‘‘۔ اگر سلاد کھانے سے وزن کم ہوتا تو ایک بھی بھینس موٹی نہ ہوتی۔ کچھ شادی شدہ افراد گھر میں بیوی سے ٹھڈے کھا کے باہر دوستوں سے کہتے ہیں آج میں بھینس کے پائے کھا کر آیا ہوں۔ بیشک دکھ، حالات اور بیوٹی پارلر انسان کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ کچھ خواتین کو کچھ یاد رہے نہ رہے یہ ضرور یاد رہتا ہے کہ ہماری ایک پلیٹ اس کے ہاں گئی تھی اور ابھی تک واپس نہیں آئی۔ سیلفی کی ابتدا کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ فیس بکی علما اسے علامہ اقبال کی ایجاد قرار دیتے ہیں ان علما نے خودی اور سیلفی کا یہ تعلق حال ہی میں دریافت کیا ہے۔ کچھ لوگوں کی شکل تو بس دال چاول جیسی ہوتی ہے جبکہ نخرے بریانی جیسے۔ آج بہت غور وفکر اور ادراک کی گہرائیوں میں جاکر دریافت ہوا ہے کہ ناک کو اُلٹا لکھیں تو کان بنتا ہے۔ شکر ہے شوہر عام طور پر خوبصورت ہوتے ہیں ورنہ سوچیں اس مہنگائی میں دو لوگوں کا بیوٹی پارلر کا خرچہ کتنا بھاری پڑتا۔ لوگ پتہ نہیں کیسے پرفیکٹ لائف گزار لیتے ہیں ہمارے تو ناشتے میں کبھی پراٹھا پہلے ختم ہو جاتا ہے اور کبھی انڈا۔ جو بیوی اپنے شوہر کی ساری غلطیاں معاف کر دیتی ہے وہ بیوی صرف ڈرامے کی آخری قسط میں پائی جاتی ہے۔ اچھی بیوی وہ ہوتی ہے جو غلطی کرکے شوہر کو معاف کر دیتی ہے۔ اگر بیوی سے کوئی غلطی ہو جائے تو غلطی ہمیشہ غلطی کی ہی ہوتی ہے۔ جو لوگ گوشت کھاتے وقت داخلہ پالیسی پہ دھیان نہیں دیتے ان کی خارہ پالیسی خود مختار ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں گھی کے ڈبے سے کار تو نکل سکتی ہے پر اصلی گھی نہیں۔ محبت اور نوکری تقریباً تقریباً ایک جیسی ہی ہوتی ہے، بندہ کرتا بھی رہتا ہے اور روتا بھی رہتا ہے۔ ہم نے ان سب دکانداروں کی لسٹ بنالی ہے جن کا کہنا تھا عمران خان کے وزیراعظم بننے تک ادھار بند ہے۔ ایمبولنس ہو یا بارات دونوں کو جلدی راستہ دے دینا چاہئے کیونکہ دونوں ہی زندگی کی جنگ لڑنے جا رہے ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں