Daily Mashriq

مرغیوں اور بچھڑوں کی پرورش کا آئیڈیا

مرغیوں اور بچھڑوں کی پرورش کا آئیڈیا

وزیر اعظم عمران خان نے پچھلے دنوں جو مرغیاں اور بچھڑے پالنے کی بات کی تھی اس کا مقصد غربت میں کمی لانا تھا اور غریب لوگوں کی صحت کو بہتر بنانا تھا۔ لیکن اس کو پھبتیوں اور طنز و مزاح کا موضو بنا لیا گیا۔ اس میں اہلِ سیاست اور سوشل میڈیا کے خوش فکرے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوںنے کبھی غربت اور مفلسی کو سہنا اور برداشت کرنا تو کجا کبھی پیچھے مُڑ کر قریب سے دیکھا بھی نہیں۔ عمران خان کے خیال کو معیشت کی ترقی سے جوڑ لیا گیا اور یہ طعنہ دیا جانے لگا کہ عمران خان مرغیوں اور بچھڑوں کی پرورش کے ذریعے معیشت بہتر بنائیں گے۔ یہ لوگ بند ڈبوں کا گوشت اور دودھ اور فارمی انڈے خرید کر اپنی دولت مندی پر ناز کرنے والے لوگ ہیں۔ عمران خان نے جو خیال ظاہر کیاتھا اس کا مقصد ایک طرف غربت میں کمی دوسری طرف غریب لوگوں کی صحت کی عمومی بہتری تھا جس کے نتیجے میں ملکی معیشت پر بوجھ کم ہو جاتا اور صحت کی بہتری کے باعث آبادی کے ایک بڑے حصہ کا علاج معالجے پر انحصار کم ہو جاتا۔ اس کے بعد ٹی وی پر نظر آیا کہ پنجاب کے بعض شہروں میں ایک مرغے اور پانچ مرغیوں پر مشتمل چند سو یونٹ غریب لوگوںکو فراہم کیے گئے اور پھر شاید طنز و استہزا کی مہم کی وجہ سے یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ حالانکہ مرغیاں اور بچھڑے پالنے کی اس سکیم کو دیہات میں فروغ دیا جاناچاہیے تھا اور دیگر صوبوں میں بھی ‘ان علاقوں میں بھی جہاں غربت اتنی ہے کہ ہمارے شہروں میں بات کرنے والے اہلِ سیاست اور اپر مڈل کلاس کے نک چڑھے اسے دیکھ ہی نہیںسکتے نہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ غریبوں کے بچوں کی خوراک میں اگر انڈے شامل ہو جائیں تو ان کی صحت بہتر ہو جائے گی ‘ غریب لوگ اگر بچھڑے پال کر انہیں دوسال کے بعد فروخت کریں گے تو ان کے بہت سے رُکے ہوئے کام ہو سکیں گے ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے بھی اس سکیم کو شاید داخلِ دفتر کر دیا ہے حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ ان کا تعلق نہایت پسماندہ اور غریب علاقے سے ہے۔ اس سکیم کا حوصلہ مندی اور اخلاقی جرأت کے ساتھ دفاع کیا جانا چاہیے تھا۔ 

ایسی ہی بے حوصلگی کا مظاہرہ خیبر پختونخوا کی حکومت میں بھی نظر آیا جس نے وزیر اعظم کو سو روزہ کارکردگی پر بریفگ دینے کے لیے کارکردگی کی رپورٹ کے علاوہ پانچ سالہ منصوبہ بھی بنایا ہے۔ اس منصوبے میں جہاں متعدد شعبوں کا ذکر ہے (اس پر کسی اور نشست میں بات ہو گی) وہاں شاید وزیر اعظم کی خوشنودی کے لیے ایک لاکھ بچھڑے پالنے کا بھی منصوبہ شامل کیا گیا ہے۔ لیکن وزیر اعظم کے مرغی بچھڑے پالنے کے بیان کی جو روح تھی اسے یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ منصوبہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت بچھڑے پالنے کے لیے فارم قائم کرے گی ۔ سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت پانچ سال میں ایک لاکھ بچھڑے پال کر قومی معیشت میں کیا اضافہ کرلے گی؟ ان فارموںپر کتنا خرچ آئے گا اور اس میں سے کتنا خورد برد ہو گا کسی نے شاید اندازہ نہیں کیا۔ کیا وزیر اعظم اس بریفنگ سے خوش ہو جائیں گے جن کا خیال یہ تھا کہ غریب لوگ مرغیاں اور بچھڑے پالیں اور اپنی غربت خود ختم کریں جس سے ملک کی معیشت پر بوجھ کم ہو اور عوام کے لیے سہولتیں فراہم کرنے میں آسانی ہو۔ ان کی حکمت عملی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ایک مرغی سال میں ڈیڑھ سو کے قریب انڈے دیتی ہے۔ مرغیاں بچی کھچی خوراک پر پل جاتی ہیں۔ مرغیوں کی آمدنی سے بچھڑوں کی پرورش کی جاسکتی ہے اور دو سال بعد ان کی فروخت سے جو ’’کمیٹی‘‘ نکل سکتی ہے اس سے بہت سے کام سنور سکتے ہیں۔ پانچ سالہ منصوبہ میں وزیر اعظم نے جو خیال ظاہر کیا تھا اس پر عمل درآمد میں مرغیوں کو حذف کر دیا گیا ہے ۔ سرکاری شعبے میں بچھڑا فارم بنانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں مرغیاں پالنا کیوں کسر شان ہے؟کیا خیبر پختونخوا کے دیہات میں بڑی آسودگی ہے؟ خیبر پختونخوا میں بے شمار گھرانے غربت اور افلاس کا شکار ہیں ۔ انہیں پنجاب کے بعض شہروں کی طرح مرغیوں کے یونٹ فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ نقد نہیں تو اُدھار دئیے جا سکتے ہیں۔ غریب قرضے معاف نہیںکراتے۔ انہی گھرانوںکو بچھڑے فراہم کیے جا سکتے ہیں‘ چند سال میں ان گھرانوں کی غربت کم ہو سکتی ہے۔ اس کیلئے حکومت کے کرنے کا کام یہ ہے کہ دیہات کے نزدیک مرغیوں اور مویشیوں کے علاج کیلئے مراکز قائم کرے۔اسی طرح بکریوں کے پالنے کی سکیم متعارف کرائی جا سکتی ہے۔ ایک لاکھ نہیں ایک کروڑ بچھڑے پالے جا سکتے ہیں ‘ اس سے زیادہ بکرے اور بکریاں پالی جا سکتی ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ان کے علاج معالجے‘ خوراک کی فراہمی اور ان کی خریداری حکومت یقینی بنائے۔ اگر ملٹی نیشنل کمپنیاں مرغی کا گوشت بند ڈبوں میں فروخت کر سکتی ہیں تو پبلک پرائیویٹ شراکت سے بچھڑوں اور بکریوں کے گوشت کے بند ڈبوں کی صنعت بھی قائم کی جا سکتی ہے۔ افغانستان سے لے کر وسط ایشیاء تک ایک وسیع مارکیٹ اس کی منتظر ہو گی۔ لوکل مارکیٹ ہی بڑی مارکیٹ ہے ۔ وژن حکمت‘ کاروبار کی تنظیم اور دیانت داری کی ضرورت ہے۔ اس کی مثال ڈھونڈنے کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہمارے دیہات سے پچاس ساٹھ روپے لیٹر دودھ خریدتی ہیں اور اسے ڈبوں میں بند کر کے ہمیں ایک سو بیس روپے کلو دودھ فروخت کرتی ہیں۔ آنکھوں سے دولت مندی کی خام خیالی کے نخرے کا یہ پردہ ہٹا کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایوب خان کے زمانے میں کوئی صنعت لگانے کو تیار نہ ہوتا تھا ‘ کپاس بے شمار ہوتی تھی‘ کپڑے کی صرف دو ملیںتھیں۔ پی آئی ڈی سی بنائی گئی جس کا کام یہ تھا یہ سرکاری شعبے میں کپڑے کا کارخانہ لگائے گی ‘ اسے منافع بخش کاروبار کے طور پر چلائے گی اور پرائیویٹ سیکٹر کو فروخت کرے گی۔ اس وقت کپڑے کی صرف دو ملیں تھیں آج پاکستان میں کپڑے کی ہزاروں ملیں ہیں اور بہترین کپڑا تیار ہوتا ہے۔ آنکھیں کھول کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں