Daily Mashriq


زمینی حقائق سے چشم پوشی کیوں؟

زمینی حقائق سے چشم پوشی کیوں؟

اقلیتوں سے نامناسب برتاؤ اور مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکہ کا پاکستان کو بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کی کوششیں کارآمد ثابت نہیں ہوئیں۔ عدم مذہبی رواداری اور اقلیتوں سے نامناسب برتاؤ کے حوالے سے پاکستان کو خصوصی واچ لسٹ میں سال بھر قبل شامل کیا گیا تھا۔ بیک لسٹ ممالک میں چین‘ سعودی عرب‘ ایران‘ تاجکستان‘ شمالی کوریا‘ میانمار شامل ہیں۔ امریکی حکام کہتے ہیں مزید خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتے۔ حالیہ امریکی اقدام پر ردعمل اور جذباتی تجزیوں اور جوابی الزام تراشی سے قبل سنجیدگی کیساتھ ان امور کے جائزے کی ضرورت ہے جو امریکی اقدام کا باعث بنے۔ عین ممکن ہے کہ یہ رائے درست ہو کہ افغان پالیسی کے حوالے سے اپنی ترجیحات میں تعاون کی حکمت عملی کا حصہ ہو یہ اقدام لیکن اگر یہ فیصلہ محض اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی رواداری کے فقدان کا نتیجہ ہے تو کیا بھارت میں اس حوالے سے جو صورتحال ہے اس سے امریکی حکام لاعلم ہیں۔ ثانیاً یہ کہ خود امریکہ میں ان درجنوں تنظیموں کیخلاف ریاستی سطح پر کیا کارروائی ہوئی ہے جو امریکہ کو ایک خالص عیسائی ریاست بنانے کیلئے سرگرم عمل ہیں؟۔

امریکی اقدام پر ہمارا ردعمل جارحانہ ہو یا محض جواب آں غزل ہر دو صورتوں میں اس امر کا مدنظر رکھا جانا ازبس ضروری ہے کہ مذہبی رواداری کے فقدان اور اقلیتوں کے حوالے سے معاملات ہمارے دعوؤں کے برعکس ہیں۔ شہری ومذہبی آزادیوں کے حوالے سے دستور پاکستان میں دی گئی ضمانتوں سے متصادم افکار کی ترویج کرنے والے عناصر نہ صرف سرگرم عمل ہیں بلکہ فرقہ وارانہ تعصبات اور عدم برداشت کو رواج دیتی متعدد تنظیمیں کھلے بندوں کام کر رہی ہیں۔ خود حکومت نے حال ہی میں ایک ایسی تنظیم کیخلاف قانونی کارروائی کی ہے جس نے پچھلے کچھ عرصہ سے ایک خاص فہم کے حامل طبقے کو اپنی تکفیر کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ سماجی وحدت اور شہری آزادیوں کے منافی نظریات کی حامل دیگر تنظیموں جن میں چند کالعدم بھی قرار دی جا چکی ہیں کیخلاف اب تک قانونی کارروائی عمل میں کیوں نہیں لائی گئی۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ کالعدم قرار دی جانے والی بعض تنظیموں کو دوسرے یا تیسرے نام سے سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت کون دے رہا ہے؟۔ ہر دو سوالوں سے ہٹ کر ایک تلخ حقیقت سندھ میں ہندو برادری کیساتھ بعض طاقتور طبقات اور شخصیات کا برتاؤ ہے۔ نامناسب برتاؤ اور ہندو لڑکیوں کے جبری اغواء اور تبدیلی مذہب جیسے معاملات پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہوا، بدقسمتی سے ہندو برادری کی لڑکیوں کے اغواء اور جبراً تبدیلی مذہب کے واقعات میں ملوث شخصیات پہلے 20 سالوں کے دوران سیاسی وفاداریاں تبدیل کرکے ہر نئی حکومت میں جگہ بنا لیتی ہیں اور ماضی کی طرح موجودہ حکومت میں بھی ان شخصیات کیخلاف محض اسلئے کارروائی ممکن نہیں ہو پا رہی کہ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کیلئے ملکی قوانین سے زیادہ وفاداریاں اہم ہوتی ہیں۔

حالیہ امریکی اقدام کے جواب میں آسمان سر پر اُٹھانے اور امریکہ کو طعنے دینے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ کیا خود ہمارے یہاں قانون کی بالادستی قائم ہے۔ دستور میں دی گئی شہری ومذہبی آزادیوں کا دور دورہ ہے‘ حکومت وریاستی اداروں نے معاملات کو بہتر بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ ان سوالوں کا جواب ہی درست سمت رہنمائی کا مؤجب بن سکتا ہے۔ ہمیں بطور خاص اس امر پر بھی غور کرنا ہوگا کہ طے شدہ دستوری معاملات کو مرضی کا رنگ دیکر تکفیر کے جس کاروبار میں بعض عناصر ملوث ہیں ان کیخلاف قانون حرکت میں کیوں نہیں آتا۔ ثانیاً یہ کہ کیا یہ ایک ریاست کا اخلاقی ودستوری فریضہ نہیں کہ وہ اپنی جغرافیائی حدود میں آباد مختلف الخیال طبقات کے مذہبی وسیاسی حقوق اور شہری آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ثالثاً یہ کہ عدم برداشت وتشدد اور دیگر مسائل کے بڑھاوے کا باعث بننے والے افکار وخیالات اور سرگرمیوں پر قدغن لگائی جاسکے۔ یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ مذہبی رواداری کے عدم فقدان اور چند دیگر معاملات کو ماضی کے کچھ حکمرانوں نے اپنے دوراقتدار کو طول دینے کیلئے نظرانداز ہی نہیں کیا بلکہ شرپسند عناصر کی سرپرستی بھی کی۔ ہم اگر ایک بہتر سماجی وحدت اور مذہبی رواداری کے فروغ کے خواہش مند ہیں تو پھر یہ لازم ہوگا کہ سیاسی جماعتیں اور موجودہ یا آنے والی حکومتیں مصلحتوں کا شکار ہونے کی بجائے دستور پر عمل کو یقینی بنائیں اس امر پر بھی دو آراء ہرگز نہیں کہ اگر داخلی طور پر معاملات درست اور قانون کی حاکمیت قائم ہو تو کسی کو انگلی اٹھانے یا ان کی آڑ میں اپنے مفادات کے حصول کیلئے ایسے اقدامات کرنے کی جرأت نہیں ہوگی بلاشبہ حالیہ امریکی اقدام کی مذمت اور امریکہ سے اس مسئلہ پر بات کی جانی چاہئے لیکن ان سے زیادہ اہم یہ ہوگا کہ مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مذہبی رواداری کے فروغ اور اقلیتی برادریوں کے سیاسی شہری اور مذہبی حقوق کے تحفظ میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔ یہ اسی طور ممکن ہے جب محمد علی جناح کی 11اگست 1947ء والی تقریر کی روشنی میں موثر اقدامات اُٹھائے جائیں اور ریاست فرد کے حقوق کے تحفظ کا فرض ادا کرنے سے پہلوتہی نہ برتے۔

متعلقہ خبریں