Daily Mashriq


ہمارے معدنی وسائل آخر کب کام آئینگے

ہمارے معدنی وسائل آخر کب کام آئینگے

ملک وقوم کی بدنصیبی ہے کہ اسے معرض وجود میں آئے ہوئے 71سال بیت چکے ہیں لیکن وہ اب تک اپنے خودکفالت اور خودمختاری کے حسین اور باوقار حساسات سے بہرہ مند نہیں ہو پائے ہیں۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر ہم ابھی تک وہی کشکول تھامے دردرکی ٹھوکریں کھا رہے ہیں جسے ہمارے حکمرانوں نے ہمیں 70 سال پہلے تھما دیا تھا۔ سوچا جائے تو یہ بڑی ذلت ورسوائی کا مقام ہے کہ ساتویں ایٹمی قوت بن جانے کے باوجود یہ کشکول ہمارے ہاتھوں سے ابھی تک چھوٹا نہیں۔ مقام افسوس ہے کہ ہم اپنی زمینوں میں چھپے قدرت کے عطا کردہ خزانوں کو بروئے کار لاکر اپنی حالت کے بدل جانے کا کوئی طریقہ نہیں سوچتے اور ہر دوچار سال بعد خزانے کے خالی ہوجانے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے دوست ملکوں کیساتھ عالمی مالیاتی اداروں کی منت سماجت پر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم خود سے کوئی تدبیر اور راہیں تلاش کرنے کی جستجو سے یکسر محروم ہیں۔ دوسرے ملکوں کے دورے پر جاتے ہیں تو وہاں کی ترقی وکامرانی سے متاثر تو ضرور ہوتے ہیں لیکن انہیں اپنانے میں ہمارا عزم وحوصلہ نجانے کیوں پست ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ تمام غذائی اجناس کی فراوانی کے علاوہ ایسی کونسی نعمت ہے جو قدرت نے ہمیں دینے سے انکار کیا ہو۔ پھل، گندم، چاول، کپاس اور لاتعداد معدنی ذخائر جن کیلئے دنیا کی کئی قومیں ترستی ہیں سبھی کچھ ہمارے یہاں موجود ہے مگر ہم پھر بھی ہاتھ پاؤں باندھے لاچار اور مجبور قوم بنے کسی دوسرے کی مہربانیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ہم چاہیں تو قدرت کی اِن بیش بہا نعمتوں کی ایکسپورٹ بڑھا کر اپنے ذرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سارے مڈل ایسٹ اور مشرقی وسطیٰ کے ممالک میں لوگ ہند سے برآمد کردہ چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ ہماری حکومت اِس جانب توجہ کیوں نہیں دیتی۔ آپ دبئی چلے جائیں یا سعودی عرب ہر جگہ اور ہرشہر میں ریڈی میڈ گارمنٹس سے لیکر ضروریات زندگی کی ہر شہ پر میڈ اِن انڈیا کی مہر لگی ہوتی ہے اور ہم صرف کینو اورآم فروخت کرکے اطمینان اور سکون سے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہند ساری مسلم دنیا میں اپنی اشیا فروخت کرکے نہ صرف کثیر مقدار میںذرمبادلہ کما رہا ہوتا ہے بلکہ وہاں کے باسیوں کو اپنی چیزوں کا عادی اور محتاج بھی بنا رہا ہوتا ہے جبکہ ہمارا تاجر خاموش تماشائی بنکر اپنی بے حسی اور بے بسی کا بھرپور مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے۔ نہ وہ خود اِس سمت میں آگے بڑھنے کا سوچ رہا ہوتا ہے اور نہ ہمارے حکمران اسے اِس جانب ترغیب دلانے میں کوئی مدد اور سہولت فراہم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سب کے سب غیب سے کسی مدد کے آجانے کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔

قوم 10سالوں سے سینڈک اور رکوڈک کے خزانوں کے بارے میں بہت کچھ سنتی رہی ہے لیکن عملی طور پر زمین میں چھپے اِن خزانوں کو باہر نکال کر بروئے کار لانے کی کوئی کامیاب اور نتیجہ خیز کوشش ہنوز سامنے نہیں آئی۔ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ 2015 میں میاں نواز شریف اور ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے قوم کو چنیوٹ کے حوالے سے خوشخبری سنائی تھی کہ وہاں سونے چاندی، لوہے اور تانبے کے وسیع ذخائر دریافت ہوگئے ہیں جنہیں استعمال کرکے یہ قوم اب کسی کی محتاج نہیں رہے گی۔ پھر کیا ہوا کسی کو پتا نہیں۔ وہ خوشخبری بھی ہواؤں میں تحلیل ہوگئی۔ سینڈک اور رکوڈک کے خزانوں کی طرح چنیوٹ کا یہ خزانہ بھی اگلی کئی صدیوں تک شاید یونہی زمینوں میں ہی دفن رہے گا۔ اگر نکالا بھی گیا تو اس کا 75فیصد حصہ کسی اور کمپنی کو تفویض کر دیا جائیگا۔ اس لاوارث قوم کے حصہ میں صرف اور صرف عالمی عدالتوں کی طرف سے عائد کردہ جرمانے اور تاوان ہی رہ جائیں گے۔

اسی طرح تھر کے علاقے میں کوئلے کے ذخائر کے بھی بہت شادیانے اور بگل بجائے گئے۔ اگلی کئی صدیوں تک ان سے بجلی بنانے کے ایسے دلکش اور سحرانگیز منصوبے بنائے گئے کہ قوم کو اپنی خوش قسمتی پر رشک آنے لگا۔ لیکن پھر اِس کا انجام بھی وہی ہوا جو ہماری خوشحالی کے دیگر منصوبوں کا اب تک ہو چکا تھا۔ قدرت کی عطا کر دی اِن بیش بہا نعمتوں کے باوجود ہم اِس دنیا کی واحد قوم ہیں جس کا کشکول کبھی ٹوٹتا ہی نہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا دلفریب ویژن دیکھ کر پوری قوم نے انہیں اپنے بھرپور مینڈیٹ سے سرفراز کر دیا۔ تبدیلی اور انقلاب کے حسین اور دلکش نعروں کا بھرم صرف سو دنوں میں ہی پاش پاش ہوگیا۔ انہوں نے جو جو دعوے اورجو جو وعدے کئے تھے وہ سبھی چند روز میں ہی زمین بوس ہو گئے۔ ملک کو بے مثال ترقی یافتہ بنانے کے سبھی خواب لمحہ بھر میں چکنا چور اور ریزہ ریزہ ہوگئے۔ ان کی باتوں میں نہ اب وہ ویژن ہے اور نہ وہ ولولہ۔ ملک کو ملائشیا کی طرح خودکفیل اور خودمختار بنانے کی ساری باتیں ہوا ہوگئیں۔ اپنے اقتدار کے سو دن پورے ہونے پر انہوں نے جو تقریر کی اس سے کہیں یہ پتا نہیں چل رہا تھا کہ یہ وہی عمران خان ہے جو ڈی چوک پر لوگوں کو ذہانت اور قابلیت کے بڑے درس دیا کرتا تھا جو خوشحالی اور کامرانی کے ایسے ایسے منصوبے سنایا کرتا تھا جن کو سن کر ہماری قوم تو کیا ماوزے تنگ کی روح بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ پائے۔لیکن انفراسٹرکچر سمیت ترقی وخوشحالی کے نئے اور بڑے منصوبے پیش کرنے کی بجائے ہمارے اِس وزیراعظم نے پہلے سے جاری تمام منصوبوں پر بھی قدغنیں لگا دی ہیں۔

متعلقہ خبریں