Daily Mashriq


2018 میں پانی کے شعبے میں کیا ہوا؟

2018 میں پانی کے شعبے میں کیا ہوا؟

2018 کا سال اپنی اچھی بری یادیں چھوڑ کر بالآخر رخصت ہوا چاہتا ہے۔ کس نے کیا کھویا، کیا پایا، آگے بڑھنے کیلئے حساب ضروری ہے۔ کل سے سیکھیں گے تو آج کو بہتر بنا پائیں گے۔ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں وہ یقینا سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے حوالے سے عہدِ زریں کہلا سکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس نام نہاد ترقی نے اخلاقیات، اقدار اور سماجی بندھن کمزور کر دئیے ہیں۔ ترقی یافتہ صنعتوں کی چمنیوں سے نکلتے دھوئیں نے فطرت کی متوازن خوبصورتی میں بدنما دراڑیں ڈال دی ہیں۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ آب وہوا کی تبدیلی کا اژدہا اب کرہِ ارض پر زندگی کو نگلنے کو بے تاب کھڑا ہے۔پاکستان اپنے آبی وسائل کے حوالے سے بہت زیادہ افراتفری کا شکار ہے۔ قطبین کے بعد سب سے زیادہ گلیشئرز اور100 سے زیادہ چھوٹے بڑے دریا رکھنے کے باوجود بدانتظامی اور نااہلی کا عالم یہ ہے کہ سال کے8 مہینے خشک سالی میں گزرتے ہیں۔زرعی ملک ہونے کے باوجود کاشت کیلئے کسانوں کو پانی میسر نہیں ہوتا۔ پینے کے پانی کیلئے شہروں اور قصبوں میں لوگ طویل قطاریں لگائے نظر آتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں پانی کے2مٹکوں کے حصول کیلئے خواتین کو کئی گھنٹے چلنا پڑتا ہے۔ اس منظرنامے کو دیکھتے ہوئے آگے بھی کچھ اچھی اُمید نظر نہیں آتی لیکن اس سال کچھ ایسے فیصلے یا اقدامات ہوئے ہیں کہ اگر ان پر عمل درآمد ہوجائے تو آگے چل کر بہتر نتائج نکل سکتے ہیں جیسے کہ آبی شعبے میں بدانتظامی اور نااہلی کے اعلیٰ درجات پر فائز ہونے کے باوجود اگر ہم نے قومی آبی پالیسی تیار کرلی ہے تو یقینا یہ ایک قابلِ تعریف عمل ہے۔پالیسی کے تحت کم ازکم10 ملین ایکڑ فٹ کی گنجائش کے2 نئے ڈیم جنگی بنیادوں پر تعمیر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ پالیسی کی ابتدا میں اس حقیقت کا ادراک کیا گیا ہے کہ ملک میں 2025تک دستیاب پانی کی فی کس مقدار860 مکعب میٹر تک کم ہوجائے گی جس کے بعد پاکستان پانی کی شدید کمی والے ممالک میں شامل ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ اسی سال جولائی میں ایک اور اچھی خبر اس وقت سامنے آئی جب حکومت نے آبی مسائل کے حل کیلئے دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کا اعلان کر دیا۔ کالاباغ ڈیم کے برعکس ان دونوں ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے صوبوں کے مابین کوئی بڑا تنازع نہیں ہے۔ 12ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ منصوبہ4 ہزار500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں ایک اور بات کا تذکرہ کرتے چلیں جو بہت ہی کم زیرِبحث آتی ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے گلگت بلتستان کے ثقافتی ورثے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس علاقے میں ہزاروں سالہ قدیم چٹانوں پر گوتم بدھ کی تصاویر کندہ ہیں جسے محفوظ کیا جانا ضروری ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ان چٹانوں کے کندہ شدہ حصوں کو کسی میوزیم وغیرہ میں محفوظ کیا جاسکتا ہے تاکہ یہ قدیم تاریخ اس طرح ضائع نہ ہو۔اس کے علاوہ مہمند ڈیم کی تعمیر بھی نہایت اہم اقدام ہے۔ اس کو منڈا ڈیم بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ڈیم مہمند ضلع میں دریائے سوات پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ واپڈا کی رپورٹ کے مطابق اس ڈیم میں1.2 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔کہا جاتا ہے کہ اس منصوبے سے پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کو تباہ کن سیلاب سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے اس ڈیم سے800 میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے گی۔ اگر دیکھا جائے تو ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے اس سال کی ایک متاثرکن پیشرفت یہ رہی کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے آبی ذخائر کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کیلئے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کر دیا اور اس کی ابتدا کرتے ہوئے اپنی جانب سے2 لاکھ روپے اس فنڈ میں جمع کروا دئیے۔ انہوں نے اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس حوالے سے دل کھول کر عطیات دیں اور پاکستان کو آبی اعتبار سے مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ رواں سال کا ایک اور اہم واقعہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار کی ہدایت پر پاکستان لا اینڈ جسٹس کمیشن کے زیرِاہتمام اپنی نوعیت کی پہلی آبی کانفرنس پانی کے حوالے سے محفوظ پاکستان کا انعقاد تھا۔ اس کانفرنس میں غیرملکی آبی ماہرین بھی شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کا مقصد ملک میں پانی کے مسئلے کی اہمیت کو اُجاگر کرنا اور نئے ذخائر کی تعمیر کیلئے رائے عامہ کو ہموار کرنا تھا۔ اسی حوالے سے وزیرِاعظم پاکستان عمران خان نے زیرِزمین پانی کی سطح کی بحالی اور دوبارہ استعمال اور سیلابی پانی کے بہتر انتظام اور استعمال کیلئے ری چارج پاکستان کے نام سے ایک منصوبے کی منظوری بھی دی ہے۔پاکستان جھیلوں اور آب گاہوں کی نعمت سے مالامال ہے۔ قدرت کے ان تحفوں (جھیلوں اور آب گاہوں) کی بطور ذخیرہ گاہ گنجائش بڑھائی جائے گی تاکہ ان میں زیادہ پانی ذخیرہ کیا جاسکے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ان دنوں اگرچہ اپنے100دنوں کی کارکردگی کے حوالے سے زیرِہدف ہے لیکن اگر بغور دیکھا جائے تو ان کی ترجیحات میں پانی اور دیگر ماحولیاتی مسائل کا حل سرِفہرست نظر آتا ہے۔ البتہ عملی طور پر ابھی کوئی خاص کارکردگی سامنے نہیں آسکی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ جب ہم سال2019 میں داخل ہورہے ہیں تو ہماری حکومت کے دامن میں چند اچھے منصوبے ضرور ہیں جن پر عمل درآمد کیلئے پوری قوم دعاگو ہے۔

متعلقہ خبریں