Daily Mashriq

قائمہ کمیٹی کی انسداد دہشتگردی ایکٹ میں مالی جرائم شامل کرنے کی مخالفت

قائمہ کمیٹی کی انسداد دہشتگردی ایکٹ میں مالی جرائم شامل کرنے کی مخالفت

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے ) میں مالیاتی جرائم اور غیرقانونی رقم کی منتقلی کو شامل کرنے کے حکومتی اقدام کی مخالفت کردی۔

 قانون سازوں کا کہنا ہے کہ نئے قانون کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں مذکورہ ترمیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی کچھ شرائط کو آسان بنانے کے لیے کی گئی ہے تاکہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے مشتبہ ملزمان کا ٹرائل انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کیا جاسکے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پریزینٹیشن دیتے ہوئے وزارت داخلہ کے عہدیدار نے نشاندہی کی کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کی روشنی میں ایسی ترامیم ضروری ہیں جنہیں پہلے انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین میں شامل کیا گیا تھا۔

ترامیم کے مطابق اے ٹی اے میں ’ ایجنٹ، معاشی دہشت گردی‘ اور مالی جرائم میں ملوث افراد کی انکوائری کے لیے گرفتاری سے متعلق دفعہ موجود نہیں ہے۔

اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ تجویز کردہ ترامیم سے حوالہ اور ہنڈی سمیت غیرقانونی ذرائع سے رقم یا فںڈز کی منتقلی کے کیسز میں اے ٹی اے 1997 پر عملدرآمد میں مزید اضافہ ہوگا۔

علاوہ ازیں انسداد ہشت گردی ایکٹ میں نیا سیکشن 9 (اے) شامل کیا گیا ہے جو وفاقی یا صوبائی حکام کی جانب سے کسی مشتبہ شخص کو انکوائری کے لیے حراست میں لینے کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کے حراستی احکامات کے خلاف درخواستوں کا جائزہ لینے سے متعلق ہے۔

وزارت قانون کے ایف اے ٹی ایف سیل کے عہدیداران نے ترامیم کی وضاحت دی اور قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ’ معاشی دہشت گردی ‘ کا مطلب پاکستان سے کسی غیررسمی چینل کے ذریعے بیرون ملک رقم یا فنڈز کی منتقلی ہے جس میں ہنڈی یا حوالہ بھی شامل ہیں جہاں کسی ایک ایجنٹ کی جانب سے ایک ماہ میں ایک یا متعددد ٹرانزیکشنز ک ذریعے منتقل کی گئی مجموعی رقم 5 کروڑ روپے کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔

عہدیدارن نے وضاحت دی کہ انسداد ہشت گردی ایکٹ 1997 کی ترامیم میں شامل سیکشن 9 اے ہے کہ ’ کوئی شخص جس کے خلاف اس ایکٹ کے تحت کسی جرم سے وابستہ ہونے کے یقین سے متعلق قابلِ وجوہ حقائق موجو ہوں اسے 3 ماہ کی مدت کے لیے انکوائری کے لیے حراست میں لیا جاسکتا ہے‘۔

متعلقہ خبریں