Daily Mashriq

بھارت: متنازع شہریت بل کےخلاف احتجاج، کرفیو نافذ، درجنوں گرفتار

بھارت: متنازع شہریت بل کےخلاف احتجاج، کرفیو نافذ، درجنوں گرفتار

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پولیس نے متنازع شہریت ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیا سبھا سے منظور ہونے کے خلاف احتجاجی مظاہرین کو گرفتار کرکے کرفیو نافذ کردیا۔

خبررساں ادارے کے مطابق آسام کے متعدد اضلاع میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔

ریاست کے دارالحکومت گوہاٹی میں مظاہرین نے کرفیو کی خلاف ورزی کی اور ٹائرجلائے۔

ریاستی پولیس کے سربراہ بھاسکر مہانتا نے بتایا کہ فوجی دستوں نے متاثرہ اضلاع بشمول گوہاٹی اور ڈیبروگڑھ میں پولیس کو تعاون فراہم کیا اور سڑکوں پر مارچ کی۔

آسام میں مظاہرین نے مذکورہ قانون کی مخالفت کی اور کہا کہ مہاجرین سرحدی خطے میں چلے جائیں گے اور مقامی عوام کی ثقافت اور سیاسی اثر و رسوخ کو کمزور کریں گے۔

واضح رہے کہ بل دونوں ایوان سے منظور ہوچکا ہے اور اب قانون کا حصہ بنانے کے لیے اس پر بھارتی صدر دستخط کریں گے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے آسام کے شہریوں کو پرسکون رہنے کی تلقین کی۔

انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ 'میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے حقوق، شناخت اور خوبصورت ثقافت متاثر نہیں ہوگا'۔

نریندر مودی نے مزید کہا کہ 'بلکہ مذکورہ قانون کی منظوری سے مزید پھلے پھولے گا۔

انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ، "میں انہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی آپ کے حقوق ، انفرادیت اور خوبصورت ثقافت کو نہیں چھین سکتا۔ یہ ترقی کرتا اور ترقی کرتا رہے گا۔"

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے ٹیلیفون کے کھمبے اکھاڑ دیے، متعدد بسیں اور دیگر گاڑیاں جلا دیں اور سرکاری ہندو قوم پرست پارٹی اورعلاقائی گروپ آسام گانا پریشد کے عہدیداروں کے گھروں پر بھی حملہ کیے۔

ریاست کے 33 میں سے 10 اضلاع میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

واضح رہے کہ آسام میں مظاہروں کو پریشانی لاحق ہے کہ مذکورہ قانون کی وجہ سے دیگر خطوں کے غیر مسلموں کے لیے راستے کھل جائیں گے۔

علاوہ ازیں بعض مظاہرین مذکورہ بل کو مسلم مخالف سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

مسلمانوں کو بل میں شامل نہ کرنے پر امیت شاہ کا جواب

امیت شاہ نے مسلمانوں کے سوا تمام چھ اقلیتوں کو شہریت دینے کی تقسیم کو بالکل مناسب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان مسلم ریاستیں ہیں اور یہاں مسلمانوں سے برا سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔

زیرداخلہ نےکہا کہ پڑوسی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی ظلم وستم نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس بل کا فائدہ انہیں نہیں ملے گا، اگرایسا ہوا تویہ ملک انہیں بھی اس کا فائدہ دینے پر غور کرے گا۔

وزیر داخلہ نے مزید واضح کیا کہ یہ تاثر دینا بالکل غلط ہے کہ اس بل کے بعد مسلمان تارکین وطن بھارت شہریت حاصل نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر کسی مسلمان نے شہریت کے حصول کے لیے درخواست دی تو ہم کھلے دل سے غور کریں گے لیکن مسلمان تارکین وطن کو شہریت ملنے کے باوجود بھی دیگر اقلیتوں جیسے حقوق میسر نہیں ہوں گے۔

امیت شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ بل اقلیتوں کے خلاف نہیں ہے تاہم اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایسے بل پر ایوان میں بحث ہو ہی نہیں سکتی۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرورنےکہا کہ پارلیمنٹ کو ایسے بل پر بحث کا حق نہیں ہے، یہ ہندوستان کی جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہے، کیا ہماری قوم کی تعمیر مذہب کی بنیاد پر ہو گی؟ یہ آئین کے دیباچے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

شہریت ترمیمی بل ہے کیا؟

شہریت بل کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے چھ مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت کی فراہمی ہے، اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔

اس بل کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارتی شہریت کے ترمیمی بل 2016 کے تحت شہریت سے متعلق 1955 میں بنائے گئے قوانین میں ترمیم کی جائے گی۔

اس بل کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ متوں، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائےگی۔

اس بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بل کے تحت غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، جو مارچ 1971 میں آسام آئے تھے اور یہ 1985 کے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

خیال رہے کہ آسام میں غیر قانونی ہجرت ایک حساس موضوع ہے کیونکہ یہاں قبائلی اور دیگر برادریاں باہر سے آنے والوں کو قبول نہیں کرتیں۔

متعلقہ خبریں