Daily Mashriq

امریکی شہریوں کی بڑی تعداد اپنا خون بیچنے پر مجبور

امریکی شہریوں کی بڑی تعداد اپنا خون بیچنے پر مجبور

وہ دن گئے جب امریکہ صنعتی دنیا میں معراج پر تھا جس نے ملک کی معیشت کو بلندیوں کی انتہا پرپہنچادیا تھا اب تو یہ عالم ہے کہ اس سُپر پاور کے 40 فیصد افراد کو خوراک، رہائش، یوٹیلٹی بلز اور صحت کے اخراجات پورے کرنے کے لئے کڑی جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ وہاں کے غریب اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے بے شمار شہری اپنا خون بیچ کر اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔

خبروں کی ایک غیر ملکی نیوز ویب سائٹ منٹ پریس نیوز کے مطابق 2005 کے بعد سے ایسے بلڈ کلیکشن مراکز کی تعداد دُگنی ہوچکی ہے اور اب خون کی یہ تجارت مالی حجم کے لحاظ سے امریکہ کی کل برآمدادات کا 2 فیصد ہے جو مکئی کی برآمد سے بھی زیادہ ہے جس کی فصلیں امریکہ میں ایک وسیع اراضی پر کاشت ہوتی ہے۔

امریکہ میں ہفتے میں 2 مرتبہ اپنا پلازما عطیہ کرنے کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور ایک مرتبہ خون بیچنے پر تقریباً 30 ڈالر کمائے جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں سپلائی کئے جانے والے پلازما کا 70 فیصد امریکہ سے جاتا ہے، جرمنی امریکہ کا سپلائی کردہ 15 فیصد پلازما خریدتا ہے جبکہ چین اور جاپان بھی دیگر بڑے خریداروں میں شامل ہیں۔

سال 2016 اور 2017 میں امریکی شہریوں نے بلڈ کلیکشن مراکز کو اتنی بھاری مقدار میں اپنا خون فروخت کیا کہ خون کی برآمد میں 13 فیصد کا اضافہ ہوگیا جو28 ارب 60 کروڑ امریکی ڈالر کا تھی۔

ایک اسٹڈی کے مطابق اوہایوکے شہر کلیو لینڈ میں خون کا ‘عطیہ’ دینے والے افراد کی اکثریت کی آمدنی کا ایک تہائی حصہ اپنا خون فروخت کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ حالاں کہ خون دینا ایک رضاکارانہ عمل ہے لیکن رہن کے سہن کے اخراجات اور سکڑتے ہوئے مواقع امریکہ کے عوام کو اپنا خون بیچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ریاست مشی گن کی صورتحال بھی اوہایو سے کچھ مختلف نہیں۔

متعلقہ خبریں