Daily Mashriq


کے پی میں بھی حالات مختلف نہیں

کے پی میں بھی حالات مختلف نہیں

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے صاف پانی کا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جہاں پنجاب حکومت سے صاف پانی کے منصوبوں سے متعلق تفصیلات طلب کیں بلکہ چیف جسٹس نے اس موقع پر گورنر ہائوس اور وزیراعلیٰ ہائوس سمیت دیگر اہم مقامات پر سے رکاوٹیں ہٹانے کا بھی حکم دیا جبکہ چیف جسٹس نے آئندہ عام انتخابات مکمل طور پر شفاف کرانے کی بھی یقین دہانی ضروری سمجھی۔ بعد ازاں چیف جسٹس کے احکامات پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ چیف جسٹس کے احکامات کی روشنی میں اگر خیبر پختونخوا میں دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا میں اس کی ضرورت پنجاب سے کہیں زیادہ اسلئے ہے کہ یہاں پر آدھے شہر کو رکاوٹیں کھڑی کرکے اور وی آئی پی ایریاز بنا کر عوام کیلئے نوگو ایریا بنا دیا گیا ہے جبکہ رہی سہی کسر ریپڈ بس منصوبے کیلئے کھدائی اور رکاوٹوں نے پوری کر دی ہے۔ یوں پشاور کے شہری عملاً ایک محاصرے کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں وہ تو قدرت نے کرم کرکے بارش برسادی وگرنہ زمینی رکاوٹوں کیساتھ ساتھ کثیف فضا نے لوگوں کی زمینی آمد ورفت کی طرح سانس کی آمد ورفت بھی کم کر دی تھی گوکہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں رکاوٹوں کیخلاف مقدمہ عدالت عالیہ پشاور میں زیر سماعت ہے لیکن رکاوٹوں کے شوقین عناصر کی جانب سے مقدمے میں تاخیری حربے آزادانہ طور پر اختیار کرکے معاملات کو ٹال رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ چیف جسٹس پورے پاکستان میں موجود رکاوٹوں کو ہٹانے کا حکم دے کر متعلقہ چیف سیکرٹریز سے حلفیہ بیان لیتی بہرحال قطع نظر ان کے معاملات کے اگر ہم صوبائی دارالحکومت پشاور میں رکاوٹوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو اس کی ابتداء دہشتگردی کیخلاف جنگ کے آغاز سے بہت پہلے سے ہوئی، اس کی ابتداء پشاور میں امریکی قونصل خانے کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کی بندش سے ہوئی جس کے باعث شہر کے مرکزی علاقے اور یونیورسٹی روڈ کو ملانے والی سڑک بند ہوئی گوکہ اس سے اثر کافی پڑا لیکن بہرحال متبادل راستے موجود تھے مگر بعد ازاں ان کی بھی بندش کے بہانے تراشے گئے۔ یہاں تک کہ سول سیکرٹریٹ جانیوالی سڑک تک بند کرکے عوام کو بالکل ہی مفلوج کر دیا گیا، یہاں تک کہ عوام عسکری علاقوں تو درکنار سول سیکرٹریٹ جیسے عوامی سرکاری علاقے اور دفاتر کے سامنے سے گزرنے، پولیس لائن اور دیگر اہم سرکاری دفاتر تک جانے کے حق سے محروم کردئیے گئے اور مستقل طور پر محروم ہیں اور اگر سپریم کورٹ وہائیکورٹ کے معزز چیف جسٹس صاحبان نے ازخود نوٹس لے کر عوام کو ریلیف نہ دلوایا تو حکام خود کو قلعہ بند کرنے کیلئے عوام کو آمد ورفت اور سڑک تک سے گزرنے کے بنیادی حق سے محروم کرچکے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تو سیکورٹی بس اس حد تک ہی سمجھنے کی روایت پڑ گئی ہے کہ سڑکیں بند کر دی جائیں‘ سرکاری دفاتر اور اہم مقامات کے گرد ریت کی بوریاں تو حکام کی حفاظت کیلئے کارآمد سمجھی جاتی ہیں مگر خیبر پختونخوا کی نامور پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے قربانی کی تاریخ رقم کرنیوالے جوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ گورنر ہائوس کے پاس سڑک پر باقاعدہ پختہ دیوار اور چیک پوسٹ تعمیر کرکے عوام کو گورنر ہائوس اور وزیراعلیٰ ہائوس سمیت اعلیٰ حکام کو عوام سے دور رکھنے کا پورا پورا سامان کر لیا گیا ہے۔ ایک خندہ استہزاء کا حامل سیکورٹی اقدام یہ ہے کہ گورنر ہائوس کے اس دیوار کیساتھ فٹ پاتھ پر سیمنٹ کے بھاری بلاکس رکھ کر بند کر دی گئی ہے جس سے اگر کوئی بارود بھری گاڑی فٹ پاتھ کو عبور کرکے ٹکرا بھی جائے تو صرف دیوار کو ہی نقصان پہنچے گا۔ گورنر ہائوس کافی اونچائی پر ہونے کے باعث دیوار کو نقصان پہنچنے کے باوجود بھی کسی قسم کا کوئی سیکورٹی کا مسئلہ نہ ہوگا، یہ تو صرف مفروضہ قسم کا خیال ہے وگرنہ گورنر ہائوس کی دیوار کے اوپر چترال سکائوٹس کے ماہر نشانچی اس کی نوبت ہی آنے کہاں دیں گے صرف گورنر ہائوس کے گرد یا پھر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور اہم عسکری مقامات ہی کے گرد سیکورٹی کے نام پر حصار کا قیام مسئلہ نہیں شہر کے تھانوں‘ پولیس افسران کے دفاتر‘ غرض بہتیرے مقامات پر عوام فٹ پاتھ پر چلنے کے حق سے محروم ہیں جس کا تحفظ دستور پاکستان میں موجود ہے اور اعلیٰ عدالتیں اس کی ضامن ہیں، اسی طرح پینے کے صاف پانی کا معاملہ خیبر پختونخوا میں بھی پنجاب سے مختلف نہیں۔ چیف جسٹس جس شفاف طریقے سے آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کی ضمانت دیتے ہیں جاری حالات میں عوام اس کے نتیجے میں قائم ہونیوالی حکومتوں سے خیر کی توقع وابستہ کئے ہوئے ہیں لیکن وطن عزیز میں اب تک شفاف انتخابات کا انعقاد اور عوام دوست حکومت کے قیام کے بارے میں عوام کا تجربہ بہرحال تلخ ہی رہا ہے۔ منصف اعلیٰ کی یقین دہانی اپنی جگہ مگر عوام کا مشاہدہ وتجربہ اور سیاستدانوں کی کارکردگی کوئی پوشیدہ امر بھی نہیں۔ دریں حالات عوام کا شعور وآگہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہل نمائندوں کا چنائو ہی بہتری کی ابتداء ہو سکتی ہے دوسری کوئی صورت فی الوقت دکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی اس کے امکان کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں