آہ ! عاصمہ جہانگیر

آہ ! عاصمہ جہانگیر

انسانی حقوق اور قانون وانصاف کی دبنگ آواز معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کی وفات پاکستان میں ایسی قوتوں کے سامنے ’’مردانہ وار‘‘ کھڑی ہونیوالی خاتون وکیل کی موت ہے جس کا متبادل دور دور تک کہیں نظر نہیں آتا اور شاید ہی اس کا ثانی آئندہ پیدا ہوگا۔ عاصمہ جہانگیر کے نظریات وخیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے بلکہ بہت زیادہ اختلاف پایا بھی جاتا ہے جسے اس کی موت بھی ختم نہ کر سکی حالانکہ اصولی اختلاف کی زیادہ سے زیادہ مدت بھی حیات کے فانی ہونے کی حد تک ہی ہوتی ہے مگر بعض عناصر عاصمہ جہانگیر کو موت کے بعد بھی بخشنے کو تیار نہیں یہاں تک کہ ان کی وفات پر اعلیٰ شخصیات میں سے ایک شخصیت کا تعزیتی بیان ہنوز سامنے نہیں آیا۔ عاصمہ جہانگیر کے خیالات اور نظریات سے شدید نفرت کی حد تک جانے کی بھی گنجائش رکھ کر دیکھا جائے تب بھی ان کو وفات کے بعد ان کے حوالے سے کسی منفی جملے اور لفظ کی گنجائش نہیں ازروئے دین شرع میں تو کسی کی حیات میں بھی کسی استہزاء پر مبنی لفظ کی ادائیگی تو درکنار کسی کے بارے میں اشارے سے بھی تضحیک کی گنجائش نہیں، عاصمہ جہانگیر کو ایک مسلمان کی حیثیت سے اور حب وطن کے تقاضوں کیلئے ان کے خیالات سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن خواہ جس صورت میں بھی ہو تضحیک اور توہین کے کسی پہلو پر مبنی تبصرے سے گریز ہی سچے مومن اور صحیح محب وطن کا شیوہ ہونا چاہئے۔ ان معاملات سے قطع نظر عاصمہ جہانگیر نے جس جرأت اور بہادری سے جابران وقت کے سامنے کلمہ حق کہنے کی مثال قائم کی ہے وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں جس کی تحسین نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ وہ مظلوم کی آواز بن کر اٹھیں انسانی حقوق آئین وقانون کے احترام پر مر مٹ جائیں اس طرح کے لو گ نظریاتی مخالف ہونے کے باوجود بجا طور پر معاشرے کا سرمایہ ہونے کا حق رکھتے ہیں اور ان کو ان کا یہ حق دینا ہم سب پرلازم ہے۔ وہ جو بھی تھیں جیسی بھی تھیں اب وہ اس دنیا میں نہیں ان کو اگر کوئی اچھے لفظوں میں یاد کرنا چاہے تو اس کی گنجائش ہے مگر اس کے بارے کسی منفی رائے اور سوچ کے اظہار کی شرعی اور اخلاقی طور پر کوئی گنجائش نہیں، یہ دنیا فانی ہے اور ہر ذی روح نے فنا ہونا اور حساب کتاب کے دن کا سامنا بالآخر کرنا ہے۔ عاصمہ جہانگیر جیسی قانون دان اور انسانی حقوق کیلئے لڑنے والی اور مظلوم کے حق کیلئے سینہ سپر خاتون مدتوں بعد ہی شاید جنم لے۔ انہوں نے جس طرح اس مٹی کا قرض چکایا ہم میں سے کم ہی کو اس کی توفیق ہے اس بے حس معاشرے میں اپنی ذات سے آگے سوچنے والے کسی بڑے سرمایہ سے کم نہیں جس سے آج قوم محروم ہوگئی۔
ایم کیو ایم میں دھڑے بندی تعجب کی بات نہیں
الطاف حسین کی قیادت سے بغاوت یا بغاوت کروائے جانے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کا جلد ہی بکھر جانا اسلئے بھی فطری امر تھا کہ جہاں جبر تلے عناصر کو موقع ملے ان کا پوری شدت کیساتھ نکلنا اور بکھر جانا فطری امر ہوا کرتا ہے۔ الطاف حسین نے جس جبر کیساتھ ایم کیو ایم کو چلایا اور بہت عرصہ جبر واستبداد کے ذریعے اس تنظیم کو انتخابی سیاست اور ملکی اقتدار کا حصہ بنائے رکھا اس کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہمارے سیاسی نظام اور خاص طور پر ایم کیو ایم کو شریک اقتدار کرنیوالی حکومتوں اور حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ جب پانی سر سے اونچا ہوگیا اور دریدہ دہن سے وطن عزیز کے حوالے سے لغویات بار بار سامنے آئیں تو اس کے باوجود بھی استحکام وطن کے ذمہ داروں نے خاصے تدبر اور صبر وبرداشت سے کام لیا شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ ایم کیو ایم کی تشکیل کے گناہ میں ان کا بھی حصہ تھا۔ مہاجر قوم میں نسلی منافرت اور احساس محرومی کا ہوا کھڑا کرکے الطاف حسین نے جس ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی اور اس کو چلایا آج اسی تنظیم کا الطاف حسین سے اظہار بیزاری لمحہ فکریہ ہے۔ الطاف حسین نے ایم کیو ایم پاکستان کے مقابلے میں ایم کیو ایم لندن ضرور بنایا مگر آج لندن میں مقیم ان کے سارے ساتھی ان کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کی دو شاخوں میں تقسیم ملکی سیاست کیلئے کوئی نیک شگون نہیں اور نہ ہی کراچی کے عوام کیلئے یہ کوئی روشن مستقبل کی نوید لے کر آئے گا۔ ایم کیو ایم پاکستان میں گروپ بندی اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے اس سے قطع نظر فکرمندی کی بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے مبینہ عسکری ونگ کے وہ لوگ جو زیر زمین چلے گئے تھے یا بیرون ملک چلے گئے تھے کہیں اس فضا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کراچی کی پرامن فضا کو مکدر نہ کریں یا پھر متحارب دھڑوں میں پہلے کی طرح منصوبہ بند قتل کا سلسلہ چل نہ نکلے مرکزی وصوبائی حکومتوں اور کراچی میں قیام امن کے دیگر شریک ذمہ داروں کو ایم کیو ایم کے اندرونی حالات سے قطع نظر اس سے پیدا شدہ امن وامان کی ممکنہ صورتحال بارے پوری منصوبہ بندی پر خاص طور پر توجہ دینی چاہئے اور شہر میں امن وامان کی فضا کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کیلئے چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

اداریہ