Daily Mashriq


ہما را زما نہ چلا گیا

ہما را زما نہ چلا گیا

بہادر، نڈر، دلیر اور بے جھجھک جیسے الفاظ عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر تبصرہ کرنے اور تعزیت کرنے والوں کی طرف سے مشترکہ طور پر استعمال کئے جا رہے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر مرحومہ کا سیا سی، سماجی سفر عاصمہ جیلانی کی حیثیت سے شروع ہوا اورعاصمہ جہانگیر کی حیثیت سے اختتام پذیر ہوا۔ مرحومہ کے والد ملک غلام جیلانی بیوروکریٹ تھے اور جب ایوب خان کا مارشل لا لگا تو وہ اس وقت غالباً کمشنر کے عہدے پر فائز تھے۔ انہو ں نے مارشل لا لگتے ہی نوکری سے استعفیٰ دیدیا اور وجہ یہ بیان کی کہ مارشل لاء کوئی قانون نہیں ہے اور وہ کسی آمرانہ حکومت کے ماتحت کام کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ جس کے بعد انہوں نے سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا جس کا واحد مقصد ملک کو آمرانہ نظام سے نجات دلانے کی جدوجہد تھی۔ ملک غلام جیلانی کا گھر ایک سیاسی آستانہ کی صورت اختیار کر گیا تھا جہاں سیاستدانوں، صحافیوں، دانشوروں کا ہمہ وقت جمگھٹا لگا رہتا تھا ان کی مہمان نوازی بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کی مہمان نواز کے پہلو بہ پہلو تسلیم کی جا تی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مشرقی پاکستان میں پی پی کی بنیاد نہیں رکھی تھی لیکن شیخ مجیب الرّحما ن نے مغربی پاکستان میں اپنی عوامی لیگ چھ نکاتی کی بنیاد رکھی تھی۔ ملک غلام جیلانی، سرفراز خان اور ماسٹر خان گل جیسی بڑی شخصیات اس میں شامل تھیں جب یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن شروع کیا تو انہوں نے عوامی لیگ کے مغربی پاکستان میں لیڈروں کو بھی نظر بند کر دیا تاکہ یہ لوگ فوجی ایکشن کے بارے میں زبان نہ کھولنے پائیں۔ سقوط ڈھاکا کے بعد جب بھٹو مرحوم نے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنھبالا تو ملک غلام جیلانی نے بھٹو کو خط لکھا کہ ان کی شیخ مجیب سے ملاقات کرائی جائے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شیخ مجیب ملک توڑنا نہیں چاہتے لیکن بھٹو نے ان کے خط کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ملک غلام جیلانی کو رہا کیا جس پر عاصمہ جہانگیر جو اس وقت قانون کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں وہ اپنے والد کے غیر آئینی اور غیر قانونی گرفتاری کیخلا ف رٹ لے کر سپریم کورٹ گئیں انہوں نے اس موقع پر متعدد وکلاء سے اپنے والد کے مقدمے کی پیروی کیلئے رابطہ کیا مگر کسی جی دار وکیل کی ہمت نہیں بندھی کہ وہ یہ تاریخی مقدمہ اپنے ہا تھ میں لے لے، بالآخر عاصمہ جیلانی نے سپریم کورٹ سے رجوع کر کے بتایا کہ وہ اپنے والد کا مقدمہ خود لڑیں گی، ایک طالب علم ہونے کے باوجود ایک باصلاحیت بیٹی نے مقدمہ لڑا جو پاکستان کی تاریخ کا ایک عظیم مقدمہ قرار پایا، ان کے والد کی رہائی کا فیصلہ بھی آیا اس کیساتھ ساتھ مارشل لاء کیخلا ف بھی فیصلہ آیا، اسی فیصلہ میں جسٹس یعقوب علی نے جو بعد ازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی مقرر ہوئے لکھا کہ یحییٰ ایک غاصب تھا یہ سنہری الفاظ آج بھی مقدمے کا حصہ ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کی شخصیت ایک اُلجھاؤ کی کیفیت سے دوچار رہی ہے۔ ان کو مذہب سے لاتعلق جانا جاتا تھا، ان کا رجحان منفرد طرز کا رہا ہے جہاں وہ پاکستان میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کی جدوجہد میں نمایاں رہی ہیں وہاں بعض سرگرمیاں اہل پاکستان کو ناگوار بھی گزری ہیں مثلاً جب وہ بھارت خواتین کا ایک وفد لے کر گئیں تو بھارت کی سڑکوں پر انہوں نے رقص کیا جس کی تصویریں بنوا کر میڈیا کو جاری کیں، بہرحال انسانی حقوق کے معاملے میں ان کے برابر کوئی نہیں آسکتا، انہوں نے حقوق دلانے کیلئے غریبوں کے درجنوں مقدمات مفت لڑے، وہ گزشتہ جمعہ کو آخری مرتبہ سپریم کورٹ میں ایک اے ایس آئی کو اس کی ملازمت کی بحالی اور اس کے حقوق دلانے کیلئے پیش ہوئی تھیں۔ یہ مقدمہ بھی انہوں نے انسانی ہمدردی میں بلامعاوضہ لڑا، عاصمہ جہانگیر کو کئی بین الاقوامی اعزازات بھی حاصل ہیں، انہیں ایشیا کا نوبل پرائز ارامون میگ بھی دیا گیا۔ یونیسکو پرائز، فرنچ لیجن آف آنر اور مارٹن اینیلز ایوارڈ بھی دئیے گئے، انہیں اقوام متحدہ کی جانب سے ایران میں انسانی حقوق کا نمائندہ بھی مقرر کیا گیا تھا، عاصمہ جہانگیر کی بڑائی یہ تھی جو ان کے دل میں ہوتا وہ بیان کر دیتی تھیں چاہے اس سے کسی کو کتنا ہی اختلاف ہو، نواز شریف کی نااہلی کے بارے میں ان کے تبصرے اس بات کا ثبوت ہیں حالانکہ نواز شریف سے ان کی کوئی سیاسی یا ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے ان کو ہمیشہ روشن خیال، آزاد منش اور بائیں بازو کے مکتب سے جانا جاتا رہا ہے۔

یہ اس روز کا واقعہ ہے کہ آصف زرداری کی جانب سے بھٹو مرحوم کو پھانسی کی سزا دیئے جانے کے بارے میں سپریم کورٹ میں دائر ریفرنس کی سماعت تھی، ادھر ایبٹ آباد آپریشن ایک رات قبل ہوا تھا کہ عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ کے احاطہ میں موجود ایک ایک وکیل کے پاس گئیں اور ان سے کہا کہ اُسامہ بن لادن جو بھی تھا لیکن اس کے خاندان کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے، تمام وکلاء کو چاہئے کہ سب مل کر یہ آواز اُٹھائیں کہ اُسامہ بن لادن کی بیوی اور بچوں کو فوری رہا کیا جائے لیکن کسی وکیل نے اس بارے میں کوئی گرم جوشی نہیں دکھائی، عاصمہ کی بات سن کر ادھر ادھر کھسک جاتے، یہ ان کا بڑا پن تھا کہ وہ ان کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ جس لابی سے تعلق رکھتی ہیں وہ انسانی حقوق کے حوالے سے اُسامہ بن لادن کے بچوں کیلئے آواز بلند کرنے کی مہم چلانے کیلئے قانون دانوں کو راغب کریں گی، وہ کیا تھیں اللہ سے بہتر کوئی نہیں جانتا وہ اب اللہ کے پاس پہنچ گئی ہیں اب ان کا اور اللہ کا براہ راست معاملہ ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان کو غریق رحمت کرے۔ سچ ہے کہ ان کے جانے سے انسانی حقوق کا زمانہ چلا گیا، اسی دن کیلئے شوکت واسطی مرحوم نے کہا تھا کہ

شوکت ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوا

ہم تو رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

متعلقہ خبریں