Daily Mashriq

’’تیرے ‘‘ پتے سے خلق کو کیوں ’’میرا‘‘ گھر ملے

’’تیرے ‘‘ پتے سے خلق کو کیوں ’’میرا‘‘ گھر ملے

پشاور شہر کے علاقے گل بہار کالونی کے ایک جنرل سٹور پہ کھڑا گھر کیلئے کچھ سودا سلف خرید رہا تھا کہ ایک گاڑی آکر رکی اور ایک صاحب نے اُتر کر جنرل سٹور کے مالک سلام خٹک سے گلی نمبر9کے بارے میں معلومات چاہیں۔ مذکورہ سٹور اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ اکثر لوگوں کے خطوط وغیرہ وہیں آکر لوگ چھوڑ جاتے ہیں۔ پوچھنے والے کو سلام خٹک نے دکان سے باہر نکل کر گلی کی نشاندہی کی بلکہ ان سے پوچھا کہ وہ کسے تلاش کر رہے ہیں اور نام بتانے پر گھر کی نشاندہی بھی کردی۔ واپس آکر مجھ سے کہنے لگا، ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا ، میں نے کہا ہاں یہ بات تو بہت ہی مشہور ہے تو اس نے کہا، میں تویہ کہتا ہوں کہ جس نے پشاور میں گل بہار کالونی نہیں دیکھی وہ پیدا نہیں ہوا، اس کی بات پر میں نے حیرت کا اظہار کیا تو مسکراتے ہوئے کہا، یہ میں نے اسلئے کہا کہ گل بہار کالونی پشاور کا ایسا علاقہ ہے جہاں پشاور کے کئی مشہور اشخاص قیام پذیر رہے ہیں اور جو گزر گئے ان کے اہل خاندان اب بھی یہیں رہتے ہیں جبکہ اس وقت بھی لاتعداد معروف و مقبول شخصیات جتنی بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں اتنے شہر کے کسی اور علاقے میں نہیں ہیں، اب یہی دیکھ لیں کہ جس گلی کے بارے میں اس مہمان نے پوچھا تھا اس میں کسی زمانے میں ایک مشہور شاعر، ادیب اور صحافی خواجہ شمیم بھیروی بھی رہتے تھے ، اب جن کے کئی فرزندان اسی علاقے میں مختلف گلیوں میں رہائش پذیر ہیں۔ اس بات نے مجھے ماضی میں جھانکنے پر مجبور کردیا اور مجھے وہ دن یاد آگئے جب سرکاری سطح پر پشاور شہر کی اندرون آبادی میں اضافے کی وجہ سے گل بہار کالونی کا سنگ بنیاد رکھ کر حکومت نے پلاٹنگ کر کے جہاں عام لوگوں کو یہاں آباد ہونے پر آمادہ کیا، اہل کمال یعنی دانشوروں، صحافیوں، ادباء و شعراء کو نہایت سستے داموں پلاٹ آسان قسطوں پر مہیا کر کے ایک اہم قدم اُٹھایا، پھر گل بہار آباد ہونے لگا۔ پہلی کھیپ کے طور پر شہر کے جو ادباء و شعرا ء یہاں آکر آباد ہوئے ان میں پروفیسر شوکت واسطی، خواجہ شمیم بھیروی اور سید فارغ بخاری شامل تھے۔ پھران کی دیکھا دیکھی اگلے چند برس میں پروفیسر خاطر غزنوی، غلام مصطفی ثاقب حزیں، پروفیسر محمد اشرف خان گمریانی، مولانا سعید الدین شیر کوٹی، پروفیسر شررنعمانی اور مسعود انور شفقی نے پلاٹ حاصل کر کے اپنے لئے گھر بنائے، تاہم خاطر غزنوی چونکہ اس دور میں شعبہ اُردو پشاور یونیورسٹی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی کیمپس ہی میں رہتے تھے اس لئے انہوں نے اپنے پلاٹ پر تعمیرات نہیں کیں اور بہت بعد میں جب ان کی ریٹائرمنٹ قریب تھی، تب اپنا مکان تعمیر کیا تاکہ بعد از ریٹائر منٹ یہاں شفٹ کر جائیں، مولانا سعید الدین شیر کوٹی اور خاطر غزنوی کے مکانوں کی گلیاں ایک ہی لین میں ہیں، بیچ میں صرف مرکزی سڑک گزرتی ہے اور یہ دونوں گلیاں انہی کے ناموں سے منسوب ہیں ۔ پروفیسر محمد اشرف خان گمریانی مرحوم کا گھر مولانا شیرکوٹی والی گلی میں ہے جبکہ خاطر صاحب والی گلی میں کچھ عرصہ پہلے تک پروفیسر اورنگزیب حسام حر رہتا تھا، جہاں شہر کے ادباء و شعراء خاطر غزنوی کی رحلت کے بعد ادبی محافل میں اسی طرح شرکت کرتے تھے جیسے کہ خاطر کی زندگی میں ان کے ہاں یہ محفلیں جمتی تھیں۔ یوں خاطر کی رحلت کے بعد حسام حر نے اپنے گھر میں باقیات خاطر (ادبی محافل) کو زندہ رکھ کر غالب کے اس شعر کی نفی کر دی تھی جسے تھوڑی سی تبدیلی سے یوں پڑھا جا سکتا ہے کہ
اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل
’’تیرے ‘‘ پتے سے خلق کو کیوں ’’میرا ‘‘ گھر ملے
حالانکہ وہ جو خاطر نے اپنی مشہور غزل کو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے میں یہ بھی کہا تھا کہ
میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں
مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے
یہ تمام نابغہ شخصیات ایک عرصے سے گل بہار کالونی میں آباد تھیں اور ان کی بدولت پشاور کیساتھ ساتھ باہر کے اہم ادیب اور شاعر بھی یہاں آتے رہے اور ان کی میزبانی کا لطف اٹھانے کیساتھ ساتھ دیگر اہل قلم سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے، بعد کے برسوں میں پروفیسر سید اشرف بخاری بھی یہاں اٹھ آئے تھے، اسی طرح مشہور صحافی مرحوم شریف فاروق اور ناصر علی سیدنے لکھی ڈھیری روڈ پر، سابق صوبائی وزیر حاجی محمد جاوید نے جاوید ٹائون میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کیں، اسی طرح معروف ٹی وی فنکار پروفیسر محمد خامس نے بھی جاوید ٹائون میں گھر بنوایا، اب کچھ سالوں سے پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم نے بھی شعبہ اُرد و کی سربراہی سے سبکدوش ہونے کے بعد گل بہار ہی میں مستقل رہائش اختیار کر لی ہے، یوسف عزیز زاہد، ملک ارشد حسین اور اُستاد بشیر بھی ایک عرصے سے یہیں سکونت پذیر ہو کر ادب کی خدمت پر کمربستہ ہیں، کالم نگار عتیق صدیقی بھی ایک عرصے تک یہیں مقیم رہے، اب وہ امریکہ منتقل ہو چکے ہیں، سید فارغ بخاری کے دو فرزندان سید قمر عباس سابق صوبائی وزیر کے اہل خانہ اور سید طاہر عباس اب بھی یہیں مقیم ہیں۔ گل بہار کے بغلی علاقے شاہین مسلم ٹائون میں نشاط سرحدی اور پشتو کے شاعر عبدالجبار جبار بھی فکر سخن کے حوالے سے معروف ہیں جبکہ ٹی وی فنکارنثار عادل بھی یہیں رہتا ہے۔ اتنی شخصیات کی موجودگی کی وجہ سے اگر سلام خٹک گل بہار کے حوالے سے لاہور والے مقولے کو یہاں فٹ کرنا چاہتے ہیں تو کیا غلط ہے !!۔

اداریہ