Daily Mashriq

نریندر مودی کا دورہ فلسطین!

نریندر مودی کا دورہ فلسطین!

عربوں کیساتھ پاکستانیوں کی محبت ضرب المثل بن چکی ہے اور اس پر ایک دنیا گواہ ہے لیکن خود عربوں کی اکثریت پاکستان اور پا کستانیوں کیساتھ اُس محبت کا اظہار نہیں کر پاتی جو پاکستان کے کردار کے سبب ان پر واجب ہے۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے قیام پاکستان سے قبل بھی مسئلہ فلسطین کیلئے جو کردار ادا کیا تھا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد تو مسئلہ فلسطین پر عربوں کے مؤقف کی حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ رہا ہے، الجزائر اور دیگر عرب ممالک جو پاکستان کے قیام کے بعد استعمار سے آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے تھے، تو پاکستان کی ہر حکومت نے دامے، قدمے اور سخنے مدد وحمایت کی ہے، البتہ مصر کے حوالے سے پاکستان کے اُس وقت کے مغرب پرست حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے جذبات کے برعکس سویز کنال مسئلہ پر غیرجانبدارانہ مؤقف اختیار کیا جس کا مصر نے بہت برا منایا اور جمال عبدالناصر کے طویل دور اقتدار میں پاکستان اور مصر کے تعلقات بہت سخت سرد مہری کے شکار رہے۔ اُس زمانے میں فلسطین کے یاسر عرفات مصر کے محتاج اور گرفت میں تھے اور ناصر سے متاثربھی کیونکہ ان کی تعلیم وتربیت مصر میںہوئی تھی۔ اس کے علاوہ جمال عبدالناصر نے عرب نیشنلزم کا جو جادو جگانے کی مہم چلائی تھی اس سے عراق، شام اور فلسطین لیڈر یاسر عرفات بہت متاثر ہوئے تھے۔ یوں اس زمانے سے مصری اور فلسطینی قیادتیں پاکستان کے بجائے پنڈت نہرو اور اندرا گاندھی سے زیادہ متاثر تھیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نہرو کی قیادت اُس وقت کے پاکستانی حکمرانوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ مدبر تھی، اسلئے نہرسویز پر نہرو کے مؤقف نے جمال عبدالناصر اور مصریوں کے دل جیت لئے۔ امریکی صدر آئزن ہاور اور نہرو نے مل کر سویز ایشو کیلئے جو فارمولا پیش کیا اور یواین نے جو قرارداد منظور کی اُسی کے مطابق برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی افواج واپس ہوئیں اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہوا لیکن پاکستان کیلئے قوم پرست عربوں کے دلوں میں کدورت بڑھتی چلی گئی۔ یاسر عرفات اپنے دور میں اندرا گاندھی کے بڑے مداح تھے۔ اندرا کی محبت میں کبھی بھولے سے کشمیریوں کی حمایت نہیں کی۔ یہاں تک کہ رملہ کے اندر سلوپوائزن کے ذریعے دارفانی سے رخصت ہوئے اور اب محمود عباس کو دیکھئے، حال میں فلسطینی سفیر نے لاہور میں ایک ایسے جلسے میں شرکت کی جو یروشلم کے حوالے سے تھا، لیکن وہاں حافظ سعید بھی موجود تھے۔ انڈیا کے اعتراض پر فلسطینی صدر محمود عباس نے ولید ابوعلی کو واپس طلب کیا لیکن اُسی نریندر مودی نے اسرائیل کا صرف علامتی دورہ نہیں کیا بلکہ وہ پہلا بھارتی وزیراعظم ہے جس نے اسرائیل کیساتھ ایک بلین ڈالر سے زیادہ کے ہتھیاروں کا معاہدہ کیا۔ ہاں روایتی ہندووانہ مکاری کیساتھ یو این میں یروشلمکو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کیخلاف ووٹ ضرور دیا لیکن یہودی اور ہندو مکار اور مسلمانوں کے دشمن نیتن یاہو اور نریندری مودی نے اس کے فوراً بعد ایک دوسرے کے ملک کے دورے کر کے بغلگیر ہوتے وقت ایک دوسرے کے کان میںکہا کہ ’’ہم تو جنم جنم کے ساتھی ہیں۔‘‘ کیا گہری چالیں یہ دو مکار اور مسلمانان عالم کے دشمن قوتیں چلا رہی ہیں اور ہم مسلمان اور بالخصوص عرب مسلمان ان دونوں کی آؤ بھگت کرتے نہیں تھکتے۔ بھارت 2012 سے 2016ء کے درمیان اسرائیل کے برآمدکردہ اسلحہ میں سے اکتالیس فیصد کا خریدار رہا ہے۔ کیا عرب عوام بالخصوص فلسطین اتھارٹی یہ سادہ سی بات بھی سمجھنے سے قاصر ہیں یا اپنے آپ کو دیدہ دانستہ دھوکہ دے رہے ہیں کہ جو متعصب وتنگ نظر مودی اسرائیلی وزیراعظم کا لنگوٹیا یار بننے کا دعویدار ہے وہ فلسطین کا بھی ہمدرد ہو سکتا ہے۔ جس آدمی کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے سرخ ہوں، وہ کیسے اہل فلسطین کا اسرائیلی جارحیت اور ظلم واستبداد کی مخالفت کر سکتا ہے لیکن مکاری اور چالاکی تو یہودی اور ہندو ہی سے کوئی سیکھ سکتا ہے۔ اب اسرائیل کیساتھ بلین ڈالرز کا اسلحہ ڈیل اور ثقافتی وسماجی رابطوں ومعاہدوں کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے دارالحکومت رملہ کا دورہ کر رہا ہے اور یہ دورہ فلسطینیوں کو بہکانے کیلئے اُردن کے راستے کر رہا ہے۔ اس سے پہلے جتنے صدور یا وزرائے اعظم رملہ آتے رہے ہیں وہ تل ابیب کے راستے آتے رہے ہیں حالانکہ یہ وہی مودی ہے جس نے دورہ اسرائیل کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کی معیت میں اسرائیل کے قیام کی تجویز اور اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے ان تھک محنت کرنے والے تھیوڈر ہرٹزل کی قبر پر حاضری دے کر اُسے خراج عقیدت پیش کیا۔ ایک میان میں دو تلواروں کا سمانا کوئی مودی سے سیکھے۔ عربوں کو ہوشیار ہونا پڑے گا۔ بھارت مگرمچھ کے انداز میں سعودی عرب میں ثقافتی میلوں اور دبئی میں مندر کی تعمیر اپنی بے حیا فلموں اور لاکھوں خواتین مزدوروں کے ذریعے نقب لگانے میں کامیاب ہوا چاہتا ہے لیکن اُنہیں یاد رکھنا چاہئے کہ بھارت اور اسرائیل سطح زمین پر مسلمانان عالم کے بدترین دشمن ہیں اور وہ پاکستان اور سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کریں گے جبکہ پاکستان سطح زمین پر واحد ملک ہے جس کے سیاستدان، حکمران اور عوام فلسطین کی آزادی اور خودمختاری پر متفق ہیں۔ اسلئے اہل عرب کو بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور کشمیریوں کی بھرپور مدد وحمایت کا اعلان کرنا چاہئے اور ہم رنگ زمین جال بچھانے والوں سے خبردار رہ کر امت کی سطح پر اتفاق والحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کے استحصال کا باب بند کرایا جا سکے ورنہ یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمان جب بھی نقصان کا شکار ہوئے، دشمن نے وار خطا نہ کیا۔

اداریہ