وزیراعظم عدلیہ کے فیصلے آپ کو کیوں قبول نہیں

وزیراعظم عدلیہ کے فیصلے آپ کو کیوں قبول نہیں

آج کل میاں نواز شریف، ان کی صا حبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن صفدر اور اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) اور سیکولر اور لبرل سیاسی پارٹیوں کے دیگر لیڈران مختلف مقامات پر جلسے جلوسوں اور پبلک میٹنگز میں مسلح افواج اور اعلیٰ عدلیہ کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ ان کے خیال میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے پانامہ کیس میں نوازشریف کی نااہلی کا جو فیصلہ دیا ہے وہ غلط ہے اور اسی تناظر میں نواز شریف نے کئی پبلک میٹنگز میں یہ صدا بھی بلند کی ہے کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘۔ بقول ان کے وہ پاکستان میں انصاف کی بحالی کیلئے مہم چلا رہے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو اسی عدلیہ نے مختلف اوقات میں مختلف سیاسی قائدین جس میں جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید مودودی، جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا مفتی محمود، خدائی خدمتگار کے بانی خان عبدالغفار خان، ان کے فرزند خان عبدالولی خان، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو، ان کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹو، ان کے شوہر آصف علی زرداری، بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان، مولانا عبدالستار نیازی، پاکستان پیپلز پارٹی کے دو وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، عوامی مسلم لیگ کے قائد شیخ رشید احمد اور اسی طرح دیگر چھوٹے اور بڑے سیاسی لیڈروں کیخلاف فیصلے سنائے اور ان میں اکثر کو پابند سلاسل بھی کیا گیا۔ مولانا مودودی کو تو قادیانیوں کیخلاف تحریک چلانے پر سزائے موت بھی سنائی گئی تھی۔ ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تو موت کوگلے سے لگا لیا۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو وطن عزیز کے لاکھوں لوگوں کے مختلف نوعیت کے کیسز مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان میں اکثر کو سزائے موت ہوئی، عمر قید کی سزائیں ہوئیں اور کئی لوگوںکو چھوٹی موٹی سزائیں ہوئی۔ جہاں تک نواز شریف کے پانامہ کیس کا تعلق ہے تو اعلیٰ عدلیہ نے جو فیصلہ دیا ہے معزول وزیراعظم کو یہ سزا تسلیم کرنی چاہئے کیونکہ اس سے پہلے پاکستان کے سینکڑوں سیاستدان اور پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام انہی عدالتوں سے سزا پاچکے ہیں یا ان کے کیسز چل رہے ہیں۔ اگر بالفرض محال عدالتیں اور یا عدالتی نظام ٹھیک نہیں یا اس میں کوئی سقم موجود ہے تو سوال یہ ہے کہ نواز شریف نے اپنے ادوار حکومت میں اس کو ٹھیک کیوں نہیں کیا۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو شریف خاندان 1985 یعنی گزشتہ 33 سال سے اقتدار میں ہے تو عدالتی نظام میں بہتری کیوں نہیں لے لاسکے۔ اگر ہم شریف خاندان کے اقتدار کا پس منظر دیکھیں تو نواز شریف بذات خود تین دفعہ وزیراعظم اور ایک دفعہ پنجاب کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں جبکہ ان کے بھائی شہباز شریف چار دفعہ پنجاب کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ایک دفعہ تو نواز شریف کو دو تہائی اکثریت سے کامیابی حا صل ہوئی تھی۔ بہرکیف شریف خاندان گزشتہ 33 سال سے کسی نہ کسی صورت اقتدار میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ شریف برادران نے اس نظام کو ٹھیک کیوں نہیں کیا۔ ابھی اقتدار میں رہ کر بھی اگر عدلیہ نے نواز شریف کیخلاف فیصلہ دیا ہے تو میں اس سلسلے میں اعلیٰ عدلیہ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں عدلیہ اور فوج کے کردار کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں مگر راحیل شریف کے چیف آف آرمی سٹاف بننے کے بعد ملکی حالات میں زیادہ حد تک تبدیلی آئی۔ مسلح افواج اور قانون نافذکرنیوالے ادارے دہشتگردی اور انتہا پسندی کیخلاف برسر پیکار ہیں اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ قانون نا فذ کرنیوالے ادارے زیادہ حد تک ملک میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کا ناسور ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ نواز شریف کو فوج اور اعلیٰ عدلیہ کیخلاف ہرزہ سرائی نہیں کرنی چاہئے تھی بلکہ ان کو چاہئے تھا کہ عدلیہ کے نظام میں مناسب تبدیلیاں لے آتے۔ عدالتوں میں چھوٹے چھوٹے کیسوں کے فیصلے کیلئے کئی دہائیوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے مگر شریف برادران اور مسلم لیگ نے تو کبھی غریبوں کی تکالیف کو محسوس نہیں کیا اور اب جب ان پر خود آن پڑی تو وہ شور مچا رہے ہیں۔ اگر مسلح افواج اور عدلیہ ٹھیک نہیں تو پھر کون ٹھیک ہے اور ٹھیک کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نومبر 2017 تک اعلیٰ عدلیہ اور ملک کی تمام عدالتوں میں1873085کیسز زیر التوا تھے۔ کچھ عرصہ پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ کو اکیلے تیز اور سستے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پر موردالزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ عام لوگ اس وقت تک تیز انصاف حاصل نہیں کر سکیں گے جب تک صدیوں پرانا اور فرسودہ نظام عدل پارلیمنٹ اپ ڈیٹ نہیں کریں گے یا اس میں ترامیم نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ نہ قوانین بنا سکتی ہے اور نہ قانون سازوں کی حد عبور کر سکتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے لیڈران ملکی قوانین میں لوپ ہول یعنی سقم قصداً چھوڑتے ہیں تاکہ کسی وقت کرپشن، بدعنوانی یا دوسرے سنگین نوعیت کے کیسوں میں ہمارے یہی سیاستدان قانون کو اپنی لونڈی بنالیں۔ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام اور ان کو تسلیم کرنا سب پر لازم ہے ۔

اداریہ