قیام پاکستان کے مقصد سے انحراف کا نتیجہ

قیام پاکستان کے مقصد سے انحراف کا نتیجہ

برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں نے اپنا خون پیش کرکے زمین کا جو ٹکڑا حاصل کیا تھا، کیا یہ وہی پاکستان ہے! کیا یہ وہی پاک سرزمین ہے جس کی سرحد پر پہنچتے ہی لٹے پٹے اور زخموں سے چور قافلے وارفتگی کے عالم میں زمین پر گر کر اسے چومتے اور اس کی مٹی کو مٹھیوں میں بھر کر اپنی آنکھوں سے لگاتے، اپنے معصوم بچوں کے نیزوں پر جھولتے لاشے اور اپنی عزتوں کو بچانے کیلئے دریائوں اور کنوئوں میں چھلانگیں لگاتی بہنیں اور بیٹیاں اور اپنے نوجوان بیٹوں کے خاک اور خون میں تڑپتے لاشے دیکھنے کے بعد جن میں زندہ رہنے کی خواہش دم توڑ چکی تھی اب انہیں زندگی پیاری لگ رہی تھی اور وہ بے ساختہ پکار اٹھتے کہ ہم نے بہت کچھ کھو کر بھی سب کچھ پا لیا ہے، پاکستان مل گیا ہے تو ہمیں اب اپنے پیاروں کے بچھڑنے، گھروں کے اجڑنے اور بستیوں اور شہروں کے جلنے کا کوئی غم نہیں۔پاکستان کے قیام کا مقصد محض ایک ریاست کے حصول تک محدود نہیں تھا بلکہ بقول قائداعظمؒ ’’ہمارے پیش نظر ایک ایسی آزاد اور خود مختار مملکت کا قیام ہے جس میں مسلمان اپنے دین کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں‘‘۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے قریباً114خطابات اور تقریروں میں واشگاف الفاظ میں اس عزم کا اظہار کیا تھاکہ پاکستان کا آئین ودستور قرآن وسنت کے تابع ہوگا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کا دستورکیسا ہوگا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمیں کسی نئے دستور اور آئین کی ضرورت نہیں، ہمارا دستور وہی ہے جو قرآن کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال قبل ہمیں عطا کردیا تھا۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا کہ ہم پاکستان محض ایک خطہ زمین کیلئے نہیں بلکہ اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہم اپنی زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق گزار سکیں اور اسلام کو ایک نظام زندگی کے طور پر اپنا سکیں۔ جب تک قوم بانیٔ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات پر عمل پیرا ہوکر علامہ اقبالؒ کے خواب کی تعبیر حاصل نہیں کر لیتی، قیام پاکستان کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔
دستور پاکستان میںعوام کو بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے اور پسماندہ اور محروم طبقوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے، عام آدمی کے جائز مفادات کا تحفظ، ہر شہری کی فلاح وبہبود اور ہر قسم کے استحصال کی بیخ کنی کیساتھ ساتھ ریاست سے وفاداری کو بڑی اہمیت دی گئی ہے مگر قیام پاکستان کیساتھ ہی ملک پر انگریز کا پروردہ وہی جاگیردار طبقہ اقتدار پر قابض ہوگیا جس سے آزادی کیلئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا اور اسلامیان برصغیر نے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی تھی۔ ملکی اقتدار پر مسلط اشرافیہ عوام کو غلام اور اپنا خدمت گزار بنا کر رکھنا چاہتی ہے، اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے سیاسی وڈیرے اور جاگیردار قانون کی حکمرانی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کی سیاست کا مرکز ومحور ہی اپنی ذات کو ہر قسم کی قانونی پابندیوں سے آزاد رکھنا ہے۔ ملک میں قانون کی بالادستی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک خود صاحب اقتدار طبقہ اس کی پابندی نہیں کرتا اور کوئی بھی ریاست اس وقت تک جمہوری کہلانے کی حقدار نہیں جب تک کہ جمہور کی مرضی کو فائق نہیں سمجھا جاتا۔ آج جب ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کا وزیراعظم کرپشن کے جرم میں نااہل ہو چکا ہے، سیاسی پارٹیوں میں بڑے بڑے مجرموں نے پناہ لے رکھی ہے، سیاسی جماعتیں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں بن گئی ہیں، جس جمہور اور جمہوریت نے پاکستان کو بنایا تھا وہ جمہوریت ا یک مذاق بن چکی ہے اور جمہورکی کوئی سننے والا نہیں۔ ایک ایسے منظر نامے میں جبکہ عوام اپنی تاریخ کی بدترین نفسا نفسی کا شکار ہیں عالمی سطح پر پاکستان کیخلاف سازشوں میں تیزی آرہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے اپنے ملک کے سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان اس امر کا ثبوت ہے کہ ٹرمپ کا دور اقتدار مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں لائے گا۔ مشرق وسطیٰ کے حالات بھی پاکستان پر اثر انداز ہوں گے اور عین ممکن ہے کہ پاکستان کیخلاف محاذ آرائی کا جواز پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو بنایا جائے اور اچانک حالات میں بگاڑ پیدا کر کے کہا جائے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو دہشتگردوں سے خطرہ ہے اسلئے انہیں اقوام متحدہ کی نگرانی میں دیدیا جائے۔ دوسری طرف ہماری سیاسی قیادت کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی روادار نہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مشرق وسطیٰ میں رونما ہونیوالی تبدیلیوں کے باوصف پاکستان کی سیاسی قیادت مل بیٹھ کر مستقبل کا لائحہ عمل تیار کر لیتی لیکن اس کا حال یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ایک دوسرے کو مطعون کرنے کی ایسی روش چل پڑی ہے کہ کسی اور جانب دیکھنے کی فرصت ہے نہ اس بات کی فکر کہ ہمارا ملک بڑے سنجیدہ چیلنجوں میں گھرا ہوا ہے اور اسے اس وقت سیاسی توجہ کی ضرورت ہے۔ ان مسائل سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ فوج، حکومت اور عدلیہ کے نمائندے مل بیٹھ کر ایک ایسا دستور العمل طے کر لیں جس سے ٹکرائو کے تمام امکانات ختم ہو جائیں اور اداروں کے درمیان رسہ کشی ماضی کا حصہ بن جائے ۔

اداریہ