Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

سیدنا حضرت ابراہیمؑ بڑے مہمان نواز تھے۔ ایک مرتبہ ایک مجوسی آیا تو اس سے کہا کہ آئو مسلمان ہوجا‘ تو میں تجھے کھانا کھلائوں گا۔ اس نے جواب دیا کہ میں مذہب نہیں بدلتا اُٹھ کر چل دیا۔ ایک مجوسی کا دل ٹوٹنے اور اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے مارا مارا پھرنے پر اللہ کو بڑا پیار آیا کیونکہ حدیث میں آتا ہے ’’میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتا ہوں‘‘۔ تو مجوسی کی پریشانی کو دور کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیلؑ کو حضرت ابراہیمؑ کے پاس بھیجا اور کہلوایا: ’’اے میرے خلیل! یہ70سال سے میرا نافرمان ہے‘ لیکن میں نے اس کی روٹی پانی بند نہیں کیا۔ اسے کھلایا پلایا۔ اگر آپ بھی ایک وقت کھلا دیتے تو کیا حرج تھا۔ اس کو واپس بلا کر کھانا کھلائیے۔ حضرت ابراہیمؑ بھاگے بھاگے اس مجوسی کے پاس گئے اور کھانا کھانے کی دعوت دی۔ اس نے کہا: ارے ابراہیم! اب کیا ہوگیا؟ پہلے تو نے منع کیا تھا اور اب خود بلا رہے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے وحی جبرائیلؑ کا واقعہ سنایا تو اس مجوسی نے فوراً کہا: ارے ابراہیمؑ! آپ کا رب اتنا مہربان ہے تو میں بھی مسلمان ہوتا ہوں۔حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کے نام سے کون ناواقف ہوگا۔ اپنے دور میں امام المسلمین تھے۔ ان کے زہد و تقویٰ اور دعوت و جہاد کے ولولہ انگیز اور ایمان افروز واقعات پڑھ کر آج بھی آدمی کے ایمان میں تازگی‘ روح میں بالیدگی اور جذبات زندگی میں موجیں مچلنے لگتی ہیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے شام میں کسی سے قلم مستعار لیا۔ واپس کرنا بھول گئے اور ایران کے شہر مرو آگئے۔ یہاں پکر انہیں وہ قلم یاد آیا۔ انہوں نے وہاں سے دوبارہ شام کا سفر کیا اور جاکر قلم اس کے مالک کو لوٹایا۔حضرت ربیع بن خثیمؒ بڑے اللہ والے تھے۔ کچھ حاسدوں نے ایک عورت کو ایک ہزار درہم دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حضرت ربیع بن خثیمؒ کو فتنے میں مبتلا کرے۔ چنانچہ اس نے عمدہ لباس زیب تن کیا‘خوشبو لگائی اور زیور سے آراستہ ہو کر اپنے حسن وجمال کا وار کرنے کیلئے حضرت ربیعؒ کے سامنے آئی۔ اس وقت آپؒ نے صرف تین جملے ایسے ادا کئے کہ اس عورت کی زندگی بدل گئی اور مرنے سے پہلے اللہ نے اس کو عابدہ بنا لیا۔1،آپؒ نے فرمایا: بہن! آج تجھے جس حسن پر ناز ہے‘ اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تیرا چہرہ کسی بیماری کے سبب بگڑ جائے‘ اس کی رونق ختم ہو جائے اور تو ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے۔2،آپؒ نے فرمایا:اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تجھے قبر میں ڈالا جائے گا اور تیرے جسم پر کیڑے چلیں گے‘ جو تیرے گالوں اور تیری ہڈیوں کو نوچ لیں گے اور تو ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جائے گی۔ 3،آپؒ نے فرمایا: وہ دن یاد کر‘ جب قبر میں منکر نکیر آئیں گے اور تجھ سے سوال کریں گے۔آپ نے یہ تین جملے اس درد کیساتھ ادا فرمائے کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑی۔ جب ہوش آیا تو اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی۔ اللہ نے اسے بہت بڑی عابدہ بنا دیا۔ یہاں تک کہ لوگ اس کے پاس دعائیں لینے آتے تھے۔

(سنہرے واقعات)

متعلقہ خبریں