Daily Mashriq


اقلیتوں کا تحفظ

اقلیتوں کا تحفظ

وزیر اعظم محمد نواز شریف کی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور پاکستان کوجلد عالمی سطح پر اقلیت دوست ملک کے طور پر متعارف ہونے کی امید کا اظہار وطن عزیز کی اقلیتوں کے لئے ایک گونا اطمینان کا باعث تو ضرور ہوگا اس کے ساتھ ساتھ اس امر سے عالمی سطح پر پاکستان کے حوالے سے اقلیتوں سے سلوک اور تحفظ کے ضمن میں بھی امور کا ازالہ ہونا چاہیے ۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے جس کے آئین و دستور میں اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی حفاظت کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔ ایک مسلمان ملک ہونے کے ناتے وطن عزیز میں اقلیتوں کو مکمل طور پر تحفظ اور شہری حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت اور ضمانت مسلمہ ہے۔ یوں پاکستان میں اقلیتوں کو دوہرا تحفظ حاصل ہونا چاہیے ۔ ایک ریاست کے برابری کے شہری ہونے کے ناتے اقلیت کا تحفظ اور دوسرا تحفظ دین اسلام کے مطابق جو وطن عزیز کا سر کاری مذہب ہے ۔ پاکستان کے آئین میں اقلیتوں کو جو حقوق دیئے گئے ہیں اگر ان کا موازنہ مسلمانوں سے کیا جائے تو گویا اقلیتوں کو دوہرے تحفظ کے مواقع میسر ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلم حکومتوں اور حکمرانوں نے اپنے قلمرو میں ہمیشہ سے اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کا صرف مسلمانوں کے نہیں سبھی کے وزیر اعظم ہو نے کا بیان ممکن ہے معاشرے کے ایک مخصوص ذہنیت رکھنے والوں کو پسند نہ آئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کے ناتے وہ پاکستان کے ہر شہری کے وزیر اعظم ہیں خواہ وہ پگڑی والے ہوں ، داڑھی رکھتے ہوں یا بغیر داڑھی کے ہوں مسلمان ہو ں یا غیر مسلم وہ پاکستان کے جس شہر اور جس علاقے کے باشندے ہوں ان کا معیار زندگی جو بھی ہو ۔ وزیر اعظم کی تقریر بابا ئے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی وطن عزیز میں اقلیتوں کو تحفظ کی یقین دہانی کی بھی عکاس ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں کسی قسم کے تضاد ات کا نہ ہونا ہی اس کی تعمیر و ترقی کی ضمانت ہے لیکن بد قسمتی سے بعض اوقات وطن عزیز میں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو نہ صرف تکلیف دہ ہوتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی بد نامی کا باعث بنتے ہیں۔ ان واقعات من حیث المجموع ملک کے عوام افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور دکھی ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود اکا دکا واقعات بنا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ سامنے آتا ہے کہ پاکستان اقلیتوں کیلئے محفوظ ملک نہیں ۔ پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر پروپیگنڈہ کرنے اور ملک کو بد نامی کا شکار بنانے والوں کو اس امر کا کوئی موقع نہیں دینا چاہیئے جسے بنیاد بنا کر وہ زہریلا پروپیگنڈہ کر سکیں۔ ہمیں معاشرے میں ایسے کرداروں پر نہ صرف نظر رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ ان کا مقابلہ بھی کیا جائے جو انتہا پسندی پر مائل ہوں اور ان کے قول و فعل سے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر حرف آتا ہو ۔ وطن عزیز کا ایک سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارا معاشرہ فرقوں اور فقوں میں بٹا ہوا ہے۔ غیر مسلم اقلیتوں کو ایک جانب رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو زیادہ مسائل کا باعث فرقہ واریت کا ناسور ہے جس کے باعث نہ صرف معاشرے میں منافرت کی فضا پھیلتی ہے بلکہ فرقہ وارانہ تصادم اور مخالف فرقے کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے من حیث المجموع ملکی فضا متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح کی فضاوقتی نہیں بلکہ کشیدگی تسلسل سے رہتی ہے اور اس میں کمی کا نہ آنا اپنی جگہ مسائل کا باعث ہے ۔ہماری اندرونی صورتحال کو خراب کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی میں دشمن ممالک کی ایجنسیوں اور خفیہ ہاتھوں کی موجود گی کوئی راز کی بات نہیں ہمیں اوروں کو مطعون کرنے کی بجائے اپنے آپ کی اصلاح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔اغیار سے خیر کی توقع کرنا عبث ہوگا البتہ ہمیں خود اپنے اندر اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اندر اس قدربرداشت اور تحمل کا مادہ پیدا کرناہوگا کہ اختلافات اور اختلا ف رائے ایک دائرے کی حد تک ہی ہو۔ ان کا پھیلائو معاشرے تک نہیں ہونے دینا ہوگا۔ جہاں جہاں تضاد ات سامنے آئیں ان کو احسن طریقے سے نمٹا نے کی ذمہ داری کوپورا کرنے کے لئے علماء فضلا ادباء دانشوروں اور میڈیا کو اپنا احسن کردار نبھانے کو ترجیح اول بنانا ہوگا۔ وطن عزیز پاکستان میں اقلیتوں کو مثالی تحفظ حاصل ہے لیکن اکا دکا واقعات کے باعث ان میں عدم تحفظ کی جو فضا جنم لیتی ہے ان اسباب و علل کا بھی سد باب کرنے کے لئے حکمت عملی وضع کرکے اس پر پوری تند ہی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔اقلیتی برادری کی طرف سے بھی بعض اوقات ایسے افعال کا ارتکاب ہوتا ہے جس سے اکثریت کے جذبات مجروح ہوتے ہیں بنا بریں اقلیتی برادری کے عما ئدین کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بھی اکثریت کے جذبات کا احترام کریں اور ان کا خیال رکھیں۔ اگر ہم اپنے عقائد، عقیدتوں اور اطوار کو ہر انسان اور ہر گروہ کی مرضی پر منحصر کرتے ہوئے اس امر پر اتفاق کریں اور اس پر کار بند رہیں کہ ہم سب وطن عزیز پاکستان کے برابر کے شہری ہیں ہمارے حقوق مساوی ہیں ۔ آئین اور دستور میں جن جن کو خصوصی رعایت اور حقوق دیئے گئے ہیں ان کا احترام کرنے اور ان کو یقینی بنانے کے ساتھ ایک دوسرے کے حوالے سے اچھے جذبات کا مظاہرہ کیا جائے تو تضادات کی نوبت نہیں آئے گی ۔ وطن عزیز کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنا اور اس کی خوشحالی کے لئے کمر بستہ ہونا بلا امتیاز ہرپاکستانی کا فرض بھی ہے اور وطن عزیز سے محبت کا تقاضا بھی ، معاشرتی رواداری ہماری ضرورت بھی ہے فریضہ بھی اور بطور مسلمان ہمیں اس کا خاص طورپر حکم دیا گیا ہے ۔ اگر ہم اس پر عمل پیرا رہیں تو کسی عنصر کو محروم رہنے کا شکوہ نہ ہوگا اور نہ ہی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوگی ۔

متعلقہ خبریں