Daily Mashriq


فاٹا کی ترقی کا نکتہ آغاز

فاٹا کی ترقی کا نکتہ آغاز

خیبر پختونخوا سے ملحقہ فاٹا کے زیر اہتمام قبائلی علاقوں میں آئل اینڈ گیس کے پندرہ بلاکس کی ٹو ڈی سیّسّمک سروے میں فاٹا میں 20ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے ذخائر کی موجود گی کا انکشاف جہاں ایک گونہ اطمینان اور مسرت و انبساط کا باعث ہے وہاں دوسری جانب قدرتی گیس اور معدنیات سے مالا مال علاقہ ہونے کے باوجود قبائلی عوا م کی پسماندگی اور حالت زار دکھی کر دینے کا باعث امر ہے ۔ ان وسائل سے استفادے کی بہترمنصوبہ بندی اور ان وسائل کو بروئے کار لا کر علاقے کے عوام کو مالا مال کردینے کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی کی راہ پر لا کھڑا کرنے میں حکمرانوں کی ناکامی اور غفلت کا احساس ہوتا ہے لیکن قبائلی علاقے گزشتہ دو دہائی سے جن حالات سے گزر رہے ہیں ان کے تناظر میں بالخصوص اور علاوہ ازیں بھی قبائلی علاقوں کے قبل ازیں کے حالات بھی اس امر کیلئے موزو نیت کے درجے پر نہ تھے کہ حکومت یہاں معدنیات نکالنے اور تیل و گیس کے ذخائر کو بروئے کار لانے کی ٹھوس منصوبہ بندی کرتی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران قبائلی عوام کے متاثر ہونے کے تکلیف دہ عمل کی کوئی توجیہہ مناسب نہیں لیکن ہر برائی کی کوکھ سے اچھائی جنم لینے کا قول یہاں بہر حال صادق آتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب قبائلی علاقوں میں حالات اگر تسلی بخش موڑ پر نہیں بھی آسکے ہیں تب بھی کم از کم اتنا ضرور ہوا ہے کہ قبائلی علاقوں کا امن لوٹ رہا ہے اور حکومت کو اس امر پر متوجہ ہونے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کہ قبائلی علاقوں میں تیل و گیس کی تلاش اور معدنی وسائل کو بروئے کار لا نے کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ 20ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے ذخائر کتنا بڑا ذخیرہ ہے اور یہ ہماری کتنی آبادی کے استفادے اور ضروریات کیلئے کافی ہے۔ اس کا اندازہ تو ماہر ین ہی بخوبی لگا سکتے ہیں فی الوقت اگر ہم قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے ذخائر پر کی دریافت اور ان کو بروئے کار لانے کا اپنی دانست کے مطابق ہی انداز ہ لگائیں تو ہمارے تئیں ان وسائل سے بھر پور استفادہ اور اس سے پیدا ہونے والے روزگار اور کاروبار کے مواقع اس پورے خطے کو ترقی یافتہ اور بہتر شرح آمدنی والے ممالک کی صف میں لا کھڑا کرنے کے لئے کافی ہوں گے ۔ فاٹا میں تیل و گیس کی تلاش کے سروے کے لئے 4.5بلین روپے کی لاگت کا منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد کی خوشحالی کا نکتہ آغاز ہوگا ۔وفاقی حکومت کو دیر آید درست آید کے حامل اس منصوبے پر عملد ر آمد میں اب مزید تا خیر اور کوتاہی سے اجتناب کرنا چاہیے ۔دوسری جانب ہمارے قبائلی بھائیوں اور عوام پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد واتفاق بر قرار رکھیں اپنے علاقوں میں ایسے عناصر کو گھسنے کا کسی طو ر موقع نہ دیں جو خو د ان کے لئے اور ملک و قوم کے لئے مسائل کا باعث بنیں ۔اپنے اپنے علاقوں میں قیام امن کی سعی ہر قبائلی فرد کا فرض ہے اور یہ خود ان کے مفاد میں ہے حکومت کے لئے کسی ایسے علاقے میں تعمیر و ترقی کے کاموں کی انجام دہی ممکن نہیں ہوتی جہاں اس کے عملے اور ماہرین کے تحفظ میں مسائل درپیش ہوں ۔

ہر بار خلاف میرٹ تقر ریاں !

پشاور سمیت صوبے کے 7ثانوی و اعلیٰ تعلیمی بورڈ ز کے مستقل چیئر مینوں کی تعیناتی کے لئے ہونے والے انٹر ویوز کی روشنی میں تیار کردہ فہرستوں میں رد و بدل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے ابتدائی مرحلے میں 21ماہرین تعلیم کے نام فہرست میں شامل کئے تھے جبکہ بعد ازاں اس میں تبدیلی کر کے سات تعلیمی بورڈز کے لئے سات افراد کے نام حتمی منظوری کے لئے بھجوا دیئے گئے ہیں جو رولز آف بزنس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ اس طرح کی صورتحال وائس چانسلروں کی تقرری کے وقت بھی سامنے آئی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہر بارکیوں با اثر او ر پر کشش عہدوں پر تقرری کے وقت میرٹ کو پامال کیا جاتا ہے اور سفار شی عناصر کو اس میں کامیابی ملتی ہے ۔ تعلیمی بورڈ وں کے چیئر مینوں کا تقرر خالصتاً میرٹ پر ہونا اس لئے بھی ضروری ہے کہ میرٹ پر تعینات افراد سے ہی میرٹ کی پابندی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو ا س امر کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے اور مکمل چھان بین کے بعد خالصتاًمیرٹ پر اہل افراد کی تقرری کا فریضہ یقینی بنانا چاہیے ۔

متعلقہ خبریں