Daily Mashriq


دل کے ارمان آنسوؤںمیں

دل کے ارمان آنسوؤںمیں

معروف گلو کا رہ اور طلا ق فیم سابق اداکا رہ سلمیٰ آغا بھارت پد ھا ر گئیں جہا ں وہ سیا ست میں گھر گئی ہیں اور اترپردیش صوبے میں نریندر مو دی کی سیا سی سفیربن کر سیا سی گہما گہمی کر یں گی ۔انہوں نے اپنا مشن بتا یا ہے کہ وہ بھارت میں چار شادیوں کو غیرقانونی قرا ر دلا ئیں گی اور تین طلا قو ں کا جھنجھٹ بھی ختم کر ائیں گی گویا وہ اسلامی شعا ر کے خلا ف سیاسی مہم چلائیں گی ۔ جب پر ویز مشرف او ر ان کے ساتھی بند و ق کی نو ک پر ایو ان صدر اور گورنر ہا ؤسز میں گھس بیٹھے تھے تو کے پی کے کے گو رنر افتخار حسین شاہ تھے انہو ں نے گورنر ہا ؤس میں یو م آزادی کے مو قعہ پر محفل طر ب کا فیصلہ کیا اور اس کی ذمہ داری پشاور ٹیوی سنٹر کو سونپی گئی۔ یہ سر کا ری ادارے چاپلو سی تو خو ب کرتے ہیں مگر تخلیقی کا م نہیں کرتے ، چنا نچہ ان کی سرشت میں نہیں ہے کہ مقامی فن کا رو ں کی حوصلہ افزائی کر یں اور ان کی سرپر ستی کر یں۔ ابھی حال ہی میں افتخار قیصر کی کسمپرسی کا ذکر اخبارات میں آیا ، اسی طرح معشوق سلطان جن کو بلبل سرحد کہا جا تا تھا جس غربت میں ان کی مو ت واقع ہو ئی وہ بھی میڈیا پر آچکا ہے ، چنا نچہ یو م آزاد ی پا کستان کی گورنر ہا ؤس کی جشن آزادی کی تقریب میں سلمیٰ آغا کو مر کزی فنکا رہ کے طورپر اپنے جلو ئہ دکھا نے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ تب ایک معاصر نے اپنے کا لم میں لکھا کہ سلمیٰ آغا بھارتی باشند ہ ہیں ان کو مقتدر قوتوں کو تقریبات میں نہیں بلا نا چاہیے کیو ں کہ ان کا پا کستان میں قیا م کر نے کا طر ز بھی مشکو ک قر ار پا تا ہے۔ بھارت نے مختلف اند از میں اپنے جا سو س پھیلا رکھے ہیں جو پا کستان کی اہم شخصیات و مقتدر ادارو ں میں پا پو لر کر کے بھارتی عزائم کی تکمیل کر تے ہیں ، جب یہ کا لم شائع ہو ا تو سلمیٰ آغا اور ان کو پروموٹ کرنے والو ں کے گردے سر خ ہوگئے تھے اور انہو ں نے اس اخبار کے خلا ف رائیتہ پھیلانے کے لیے سعی بھی کی۔ مگر بات سچ تھی چنا نچہ سلمیٰ آغانے قانو نی چارہ جو ئی کے لیے وکلا سے مشورے شروع کر دیئے تھے ، تاہم وکلا نے مشورہ دیا کہ اخبا رکے کا لم نو یس نے غلط نہیںلکھا ، اور اپنے کا لم میں ایک ثبوت بھی فراہم کیا ہے کہ سلمیٰ آغا پا کستانی نہیں بھا رتی باشند ہ ہیں اور خاص مقاصد کے حصول کے لیے پا کستان میں قیا م پذیر ہیں ۔بہر حال وہ نامراد پشاور سے واپس چلی گئیں تاہم جا تے جا تے بیان دیا کہ وہ پا کستانی شہر ی ہیں اور ثبوت کے طور پر انہوں نے اپنے اس وقت کے مو جو د شوہر کو پیش کیا کہ وہ پا کستانی ہے اور اسکو اش کا کھلا ڑی ہے ، ان کو پاکستانی ہو نے پر فخر ہے ۔سلمیٰ آغا کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سیا ست میں اپنی بیٹی ساشا آغا کو بھی متعارف کر ارہی ہیں اور ان کی کو شش ہے کہ آئند ہ انتخابات میں ان کو اور ان کی بیٹی کو بی جے پی کا ٹکٹ مل جا ئے چنا نچہ وہ بھا رتی وزیر اعظم نر یند ر مو دی کی سچی ''بھگت'' بن کر دکھا نے کی سعی کر رہی ہیں۔ سلمیٰ آغا کی بھا رتی شہریت کے بارے میں متضاد اطلا عا ت بھی ہیں۔ کہا جا تا ہے کہ فروری 2015ء میں بھا رتی وزیراعظم کی سفا رش پر ان کی بھارتی شہر یت کی تجد ید کی گئی ہے ، حالا نکہ سو ائے پاکستا ن کے جہا ں وہ بھارتی شہر یت کی تر دید کر تی رہی ہیں باقی دنیا جہا ں میں انہو ں نے ہمیشہ اپنے بھا رتی ہونے پر فخر بھی کیا ہے ان کا ایک فلیٹ ممبئی کے پو ش علا قے میں تھا غالباً ہنو ز ہے اس کی ملکیت انہو ں نے قیام پا کستان کے دوران ختم نہیں کی تھی کیو ں کہ بھا رت کے قانون کے مطا بق بھارت میں وہی شخص جائید اد کا مالک بن سکتا ہے جس کی بھارتی شہر یت ہو اور سلمیٰ آغانے اپنی بھارتی شہر یت کی خاطر اس فلیٹ کی ملکیت رکھے رکھی۔ جب پا کستانی معاصر نے پو ل پٹی کھولی تو وہ اپنے گردے چھیلتی رہ گئی تھیں۔واضح رہے کہ گلو گا ر عدنان سمیع جن کاتعلق پشاورسے ہے جب وہ بھارت گئے تو وہیں کے ہو رہے۔ عدنا ن سمیع نے بعد ازاں بھارتی شہر یت کے لیے درخواست دی جو بہت مشکل سے قبول کی گئی ، لیکن سلمیٰ آغاکا معاملہ راتو ں رات حل ہو گیا۔ سلمیٰ آغا جو اس وقت مذہب کو تنقید کا نشانہ بنا ئے ہو ئے ہیں اور مذہبی منا فر ت پھیلا رہی ہیں ادھر بھارت کی سپر یم کو رٹ نے ایک اعلیٰ درجے کامذہب کے بارے میں فیصلہ دیا ہے ، جب بھا رت آزاد ہو ا تھا اس وقت سر دار پٹیل بھارت کے وزیر داخلہ تھے جو ایک متعصب ہندو تھے اور قائد اعظم کے سیا سی حریف بنے رہتے تھے اگر چہ دونو ں کاٹھیا وار کے تھے مگر قائد اعظم مسلما ن رہنما تھے اور یہ چڑپٹیل کو تھی ۔ سردار پٹیل نے تقسیم ہند قبول کی تو با چا خان نے جب گاند ھی جی سے استفسار کیا تو گاندھی جی نے سردارپٹیل کی طر ف اشارہ کیا جن سے با چا خان نے کہا کہ تم نے ہمیں بھیڑیو ں کے حوالے کر دیا ہے۔ آزادی کے بعد سردار پٹیل کی وزیر اعظم ہند بننے کی خواہش گاندھی اور پنڈت جو اہر لعل نہرو نے پوری نہ ہو نے دی البتہ ان کو وزارت داخلہ کا قلمدان سونپا گیا ، اور دلت رہنما امبید کر کو وزیر قانون بنا یا گیا ۔ پٹیل نے فوجد اری قوانین کی ترتیب کی جب کہ امبید کر نے بھا رت کے لیے آئین سازی کی غرض سے آئینی کمیٹی قائم کی اور بھارت کو نیا اور سیکو لر آئین دیا جس کی بنیا د پر بھا رت میں آج مضبو ط آئین اور آزاد عدلیہ کا وجو د ہے۔ اگرچہ عدلیہ کے بعض فیصلے آج بھی حقائق سے بحث رکھتے ہیں مگر ایک مضبوط عدلیہ کو تسلیم کیا جا تا ہے۔ بھارت کی سپر یم کو رٹ نے حال ہی میں فیصلہ دیا ہے کہ بھا رت ایک سیکو لر ملک ہے جہا ں مذہب کی اونچ نیچ نہیں ہے اس لیے آئند ہ سے انتخابات میں مذہب کو بنیا د نہ بنا یا جا ئے اور نہ ا س کو انتخابی مہم کے طورپر استعمال کیا جائے ۔علا وہ ازیں سیا ست میں مذہب کو داخل نہ کیا جا ئے ، ایک سیکو لر ملک کے لحاظ سے یہ فیصلہ سنہر ی کہلا نے کے قابل ہے ، جبکہ سلمیٰ آغا نے اپنی سیاست کو ہی مذہب کی بنیا د بنا دیا ہے ۔ جو لو گ پاکستان میں سلمیٰ آغا کو بھارتی باشند ہ قرا ر دینے پر تلملائے تھے اور حساس مقاما ت تک رسائی فراہم کرتے تھے وہ قوم کو جواب دیں کیا سچ کو مٹایا جا سکتا ہے سچ خود بولا کر تا ہے ۔