Daily Mashriq


مسلم نیٹو!!!حقیقت یا افسانہ؟

مسلم نیٹو!!!حقیقت یا افسانہ؟

سعودی عرب کی میزبانی میں قائم ہونے والا عسکری اتحاد ابھی ایک تصور سے آگے نہیں بڑھا ۔یہ کوئی نیا تصور نہیں ۔مسلمانوں کے خاکستر کی تہہ میں ہمیشہ مشترکہ فوجی طاقت ،مشترکہ نیوز ایجنسی ،مشترکہ سٹاک ایکسچینج کی خواہش اور تمنا کی چنگاری موجودرہی ہے ۔کبھی یہ چنگاری اسلامی کانفرنس تنظیم کی صورت میں شعلے کی صورت بھڑک کر لو اور تمازت وحرارت دئیے بغیر بجھ جاتی رہی ہے اور کبھی عرب لیگ کی صورت میں راکھ کی تہہ میں پڑی پڑی ٹھنڈی ہوتی رہی ہے ۔ایسے میں سعودی عرب کی میزبانی میں مسلمان ملکوں کے نئے عسکری اتحاد کی خبریں سننے کو ملیں تو یہ سوال اُبھرا کہ مرکزیت سے محروم خوفناک سیاسی تقسیم اور کشمکش کا شکار مسلمان آبادی کسی فعال تنظیم کے گرد متحد ہوسکتی ہے ؟اس اتحاد کی سربراہی اور میزبانی کے لئے سعودی عرب کا سامنے آنا اس سوال کی معنویت کو مزید اہم بنا رہا تھا کیونکہ مسلمان دنیا میں سب سے زیادہ کشمکش کے حامل مسلمان ملکوں میں سعودی عرب اور ایران سرفہرست ہیں ۔ یوں لگا کہ اتحاد کاابتدائی اعلان بہت عجلت میں ہوا اور اس کی پہلی وجہ سعودی عرب کی طرف سے خلیج میں ایران کے مقابل طاقت کا توازن بحال کرنا یا ایک نفسیاتی دبائو ڈالتے ہوئے یہ پیغام دینا تھا کہ اگر ایران نے سعودی عرب کے گردوپیش اور اندر تزویزاتی گہرائی تلاش کرنے کی کوشش کی تو اس کا جواب ایک نئے انداز سے اسی لہجے میں دیا جا سکتا ہے ۔اب منظر بدل چکا تھا ۔اسے ابتدا میں ہی عسکری اتحاد کہا گیا اور اس کا مقصد داعش کا مقابلہ کرنا بتایا گیا۔پہلے پہل اس میں چھتیس ملکوں کو شامل کیا گیا بعد میں یہ تعداد انتالیس ہوگئی تاہم ایران ،عراق اور شام کو اس اتحاد میں شامل کرنے کی کوئی کوشش بظاہر دکھائی نہیں دی۔ جب خلیج سے عسکری اتحاد کی خبریں آرہی تھیں تو اس وقت پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف دنیا کے موثر اور طاقتور شخصیت کے طور پراُبھر چکے تھے اور دہشت گردی کے خلاف ان کی جارحانہ حکمت عملی پاکستان کو عراق اور افغانستان بننے سے بچانے میں کامیاب ہورہی تھی۔تاہم وہ اندرون ملک سیاسی منظرنامے میں ایک تنازعے میں الجھائے جارہے تھے ۔ان کی ملازمت میں توسیع اور ریٹائرمنٹ میڈیا ،عوامی حلقوں اور سیاسی تجزیہ نگاروں ،حکومتی ایوانوں میں گرماگرم بحث کا موضوع بنی ہوئی تھی ۔حکومت اس بحث میں خود کو مجبور سمجھ رہی تھی اور جنرل راحیل کا بڑھتا اور پھیلتا ہوا امیج اور عوامی مقبولیت سیاسی حکومت کی نفسیاتی سپیس کم کرنے کا باعث بن رہا تھا ۔پاکستان کے سیاسی تنازعات کو حل کرنے میں سعودی عرب کا سرگرم یاخاموش کردارتاریخ کی ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ حکومت خود عالم پریشانی میں تھی کہ جنرل راحیل کی بے پناہ عوامی مقبولیت کا کیا بندوبست کیا جائے ۔ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اشارتاََ کہا کہ جنرل راحیل کانٹینیو کریں گے ۔پھر خاموشی سی چھا گئی اور انہیں فیلڈ مارشل بنانے کی باتیں گردش کرنے لگیں ۔اسی دوران جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ یا توسیع کی ان خبروں میں ہی مجوزہ عسکری اتحاد کی سربراہی کے لئے ان کانام گردش کرنے لگ گیا۔اس عسکری اتحاد کو اسلامک ملٹری الائنس ٹو فائیٹ ٹیررازم کا نام دیا گیا ۔ کہا گیا کہ اس فوجی اتحاد کے بانی سعودی عرب کے پرنس محمد بن سلمان السعود ہیں اور اس کا ہیڈ کوارٹر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہوگا۔جنرل راحیل شریف ریٹائر ہو گئے توسعودی عرب سے ایک خصوصی طیارہ انہیں لینے کے لئے پاکستان آیا ۔سعودی عرب میں ان کے قیام کے دوران ہی وزیر دفاع خواجہ آصف نے عسکری اتحاد کی سربراہی کے لئے جنرل راحیل شریف کے نام کی تصدیق کی ۔ابھی اس اتحاد کے خدوخال اُبھرنا اوراس کے اصل مقاصدمتعین ہونا باقی تھے ،ابھی سعودی عرب کی رسمی دعوت اور حکومت پاکستان کی قبولیت کے مراحل باقی تھے کہ جنرل راحیل شریف کے خلاف ایک طوفان سا کھڑا ہوگیا۔پہلا تاثر تو یہی ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ کی طرح پاکستان میں ایک سیاسی تنازعے ،جنرل راحیل شریف کی آسمان کو چھوتی ہوئی مقبولیت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کو ان کی شخصیت کے شایان شان انداز میں ''مینج '' کیا ۔اس طریقے سے جہاں حکومت سسٹم کے اندر مقبول عام آرمی چیف کی موجودگی کے نفسیاتی دبائو سے نکل آئی وہیں سعودی عرب کو داخلی مشکلات سے نمٹنے کے لئے جنرل راحیل کے تجربات اور مشاورت کی سہولت بھی حاصل ہو رہی تھی۔ عسکری اتحاد کے پیچھے گردوپیش کے دبائو سے نکلنے کے مقاصد کارفرما ہیں یااپنی روایتی دوست حکومت پاکستان کو ایک طاقتور آرمی چیف کے دبائو سے نکالنا کسی نہ کسی حد تک یہ دونوں مقاصد پورے ہو گئے ہیں ۔ایران خلیج میں طاقت کا توازن درہم برہم کرنے میں محتاط رویہ اپناتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے ۔اس کی بڑی وجہ عسکری اتحاد کا اعلان نہیں بلکہ پاکستان اور ترکی جیسے ملکوں کا غیر جانبدار رہناہے ۔کچھ بعید نہیں کہ کھیل ہی کھیل میں مسلمان دنیا کا ایک عسکری اتحاد تشکیل پائے جس کا اشارہ برطانیہ کے اخبار گارجین نے اس اتحاد کے لئے ''مسلم نیٹو '' کی اصطلاح استعمال کر کے دیا ہے ۔ وقتی ضرورت کے تحت شروع ہونے والی یہ کہانی ایک سنجیدہ رخ بھی اختیار کر سکتی ہے ۔مگر یہ بیل صرف اسی صورت میں منڈے چڑھ سکتی ہے جب یہ مسلکی اتحاد کی بجائے مسلمان ملکوں کا اتحاد ہوگا۔او آئی سی کا خلا پر کرنے کے لئے ایسے کسی بھی مجوزہ اتحاد میں ایران کی موجودگی لازمی ہے ۔ 

متعلقہ خبریں