Daily Mashriq


آپس میں الجھتے ہیں عبث شیخ وبرہمن

آپس میں الجھتے ہیں عبث شیخ وبرہمن

کیااب ہمیں ''انصاف''کونئے معنی پہنانے پڑیں گے؟کیونکہ اب تک تو عمران خان عدل و انصاف کواپنے پیمانے سے ناپتا تھا،اب ایک جانب سراج الحق نے اور دوسری جانب شیخ رشید احمد نے کہہ دیا ہے کہ انصاف نہ ہواتو خانہ جنگی ہو گی۔ان محترم لیڈروں کو اس قسم کے بیانات جاری کرتے ہوئے اتنا احساس بھی نہیں ہوتا کہ خانہ جنگی کیا ہوتی ہے۔دراصل انہیں اس سے کوئی خاص غرض بھی نہیں ہوتی ہے۔یہ تو بس اتنا چاہتے ہیں کسی طور پانامہ کے حوالے سے فیصلہ صرف اورصرف ان ہی کے حق میں آ جائے،اوراگر فیصلہ مخالفت میں آتا ہے تو پھر یہ ''انصاف'' نہ ہو گا،حالانکہ گزشتہ روزکیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ مفروضے پر وزیراعظم کو نا اہل قرار دینا خطرناک ہو گا۔اس سے پہلے عدالت عظمیٰ نے آئین کی شق 62,63کے حوالے سے جو ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ شق لگے توصرف سراج الحق بچیں گے۔اس سے صورت حال کچھ ایسی ہو گئی تھی کہ

سنجنیاں ہوون گلیاں

تے وچ مرزا یار پھرے

مگر اگلے ہی روز فاضل جج نے عظمت کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنے ریمارکس پر معذرت کی بلکہ انہیں واپس لے لیا۔ادھر گزشتہ روز عدالت عظمیٰ نے تحریک کے وکیل نعیم بخاری سے استفسار کیا تھا کہ ان سے جو 16سوالات کئے تھے ان کے جواب ابھی تک نہیں آئے۔ادھر منگل کے روز ایک جانب شیخ رشید نے نعیم بخاری کے دلائل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بڑی دلچسپ بات کر دی ہے۔ خیربات ہو رہی تھی جناب سراج الحق اور فرزند راولپنڈی شیخ رشید کے ان بیانات کی جن میں انہوں نے فیصلہ ''انصاف'' کے مطابق نہ آنے سے خانہ جنگی کے خطرے کا پیغام دیا ہے بلکہ ''دھمکی'' دے کر عدالت کو دبائو میں لانے کی کوشش کی ہے۔حالانکہ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی دبائو میں نہیں آئے گی اور فیصلہ شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر ہی دے گی۔اب شواہد اور ثبوت کیا کہتے ہیں اس بارے میں روزانہ کیس کی سماعت کے بعد دونوں جانب کے ''ترجمان '' اپنے اپنے طور پر کارروائی کے حوالے سے اپنے اپنے مطلب کے نکات لیکر اپنے حق میں میڈیا پر طوفان برپا کر کے مخالفین کے خلاف ثبوتوں کے پہاڑ کھڑے کرتے رہتے ہیں۔اور یہ سمجھتے ہیں کہ پبلک ان کے دلائل سے متاثر ہو رہی ہے مگر ''پبلک جانتی ہے''یعنی جب تک عدالت عظمیٰ کسی نتیجے پر پہنچ کر فیصلہ نہیں سنا دے گی تب تک دونوں جانب دلائل وبراہین سب بے کار و بے سود ہوں گے۔البتہ جس'' خانہ جنگی'' کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں وہ بھی ایک طرح سے لیگ (ن) کے محمد زبیر اور تحریک انصاف کے اسد عمر تک ہی محدود رہے گی جوبھائی ہوتے ہوئے بھی سٹینڈنگ کمیٹی میں الفاظ کی جنگ تک محدود رہی۔اور رہ گئے عوام تو ان کا غم کس کو ہے جو خواہ مخواہ ان سیاسی رہنمائوں کے لئے آپس میں الجھتے رہیں گے۔

آپس میں الجھتے ہیں عبث شیخ و برہمن

کعبہ نہ کسی کا ہے نہ بت خانہ کسی کا

ادھر بھارت میں کلکتہ جسے اب کولکتہ کہا جانے لگا ہے کی ٹیپو سلطان مسجدکے شاہی امام نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہوئے ان کی داڑھی اور سر کے بال مونڈ کر منہ کالا کرنے والے کو 25لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے،جبکہ بی جے پی نے فتوے کے اجرا پر مولانا نورالرحمن برکاتی کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے۔جہاں تک فتویٰ جاری کرنے کا تعلق ہے اس کا کارن بھارت میں نوٹوں کی تبدیلی قرار دیاگیا ہے۔جس کی وجہ سے مسجد کی شوریٰ کے مطابق عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے تاہم مودی کی درگت بنانے کے حوالے سے جن شرائط کا اعلان کیا گیا ہے اس کا صاف مطلب تو یہ ہے کہ مولانا نورالرحمن برکاتی کی نیت رقم دینے کی ہر گز نہیں ہے کیونکہ اگر بات صرف مودی کے منہ کالا کرنے تک محدود رہتی تو اس حوالے سے ہم بھارتیوں کو پشاورکے خورشید ایڈووکیٹ سے مشورے کا کہتے جنہوں نے چند سال پہلے اس سلسلے میں کامیاب تجربہ کیا تھا اور سپریم کورٹ کے احا طے میں سابق آمر جنرل مشرف کے ایک ساتھی قانون دان کا چہرہ سیاہ کر کے تاریخ میں نام رقم کرا لیا تھا۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مودی کا منہ کالا کرنے سے پہلے اس کے آدھے ٹنڈ کو پورا کر کے مکمل گنجا کرنے اور ساتھ ہی داڑھی کے بال صاف کرنے کی جو شرط رکھی ہے کم از کم وزارت عظمیٰ کی کرسی پر متمکن ہونے تک ایسا ممکن نہیں ہے اوریوں مولانا برکاتی 25لاکھ روپے دینے کی نیت ہی نہیں رکھتے اس لئے انہوں نے صرف میڈیا میں آنے کے لئے ہی یہ حرکت فرمائی ہے ۔ویسے خدا لگتی کیلئے تو مولانا برکاتی کو یہ رقم اس بھارتی فوجی تیج بہادر یادو کو دے دینی چاہئے جس نے صرف مودی نہیں پورے بھارت کے چہرے پرکالک مل کر اسے دنیا کے سامنے رسوا کر دیا ہے اور فیس بک پر ایک پوسٹ اپ لوڈکر کے بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سرحد پر تعینات فوجیوں کو ناشتے پر جلا ہوا پراٹھا ،آدھا کپ چائے، دوپہر کو دو پھلکیاں اور گھی کے بغیر پتلی دال جس میں مصالحے بھی نہیں ہوتے بس ہلدی اور نمک ملا کر دی جاتی ہے اور رات کو بھی روٹی کبھی ملتی ہے اور کبھی بھوکا رہنا پڑتا ہے جبکہ افسر راشن فروخت کر کے پیسے کھرے کر لیتے ہیں۔تیج بہادر یادو کی یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر بھارت کا سیاہ چہرہ دنیا کو دکھا رہی ہے اور اب اس بے چارے کو ڈیوٹی سے ہٹا کر پلمبر کی ڈیوٹی دی گئی ہے جبکہ اس کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔اب دیکھتے ہیں کہ بھارت کی انسانی حقوق کی تنظیمیں تیج بہادر یادو کی مدد کو آتی ہیں یا نہیں۔

متعلقہ خبریں