Daily Mashriq

درسی کتابوں میں بلاوجہ تبدیلیاں

درسی کتابوں میں بلاوجہ تبدیلیاں

دوسرے مذاہب کے لوگ ہمارے دین کی پیر وی کر رہے ہیں اور اسلام کو قبول کر رہے ہیں۔ دنیا میں اسلام کی شرح نمو میں 21فی صد اضا فہ ہوا۔ اس کے بر عکس عیسائیت میں 33 فی صد اوریہو دیت میں 4 فی صد تک کمی واقع ہوئی۔اسلام آشتی کا دین ہے۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو کسی ذی روح کے لئے تکلیف دہ ہو۔ آج کل معاشرے میں جو بگاڑ ہے اس کی اصل وجہ اسلام سے دوری سے ہے۔ خیبر پختون خوا کے ٹیکسٹ بورڈ نے سرکاری سکولوں میںجماعت اول سے لیکر آٹھویں جماعت تک کتابوں سے دین اسلام، انبیائے کرام ، قُر آنی سورتیں اور آیات ، احادیث، خلفائے راشدین ، صحابہ کرام، مشاہیر اسلام وپاکستان. بانی پاکستان محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے مضامین ختم کر کے کتابوں میں ایسے مضامین شامل کئے جن سے ایک بچے کی کردار سازی نہیں ہو سکتی۔ ایک طرف اگربچوں کو بگا ڑنے میںانٹر نیٹ، کیبل اور موبائل فون کردار ادا کررہا ہے تو دوسری طرف ٹیکسٹ بک والے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑرہے۔بچوں کے لئے سکول ٹیچرز اور تعلیمی سلیبس رول ماڈل ہوتا ہے مگر وہ اس سلیبس سے کیا سیکھیں گے اور ٹیچرز اُسکو کیا پڑھائیں گے۔ علاوہ ازیں دسویں جماعت کی پاکستان سٹڈی کی کتاب کے ٹائٹل صفحے پر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو متنا زعہ علاقہ دکھایا گیا ہے۔ ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ ایک بچے کی کردار سازی میں پہلے 5سے10 سال اہم ہوتے ہیں ۔اس عرصے میں وہ جو کچھ سیکھتا ہے وہ اسکی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ خیبر پختون خوا حکومت کی منفی پالیسی کی وجہ سے پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے 13 ہزار سکولوں نے گورنمنٹ ٹیکسٹ بو رڈ کی کتابوں کو اپنے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانے سے انکار کیا ہے ۔ اور مطالبہ کیا ہے کہ جماعت اول سے لیکر جماعت ہشتم تک نصاب کی کتابوںسے جو مضامین نکالے گئے ہیں اُنکو دوبارہ بحال کیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ ٹیکسٹ بک بو رڈ کس کا ایجنڈا پورا کررہا ہے اور کس کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔ اور تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر تعلیم کیاکر رہے ہیں۔ صوابی اور مضافاتی علاقوں میں بڑے بڑے بورڈ لگے ہوئے ہیں جس پر عمران خان اور اسد قیصر کی قد آور تصاویر لگائی گئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختو ن خوا کے سکول اور کالج کے نصاب میں کئی اسلامی اور ختم نبوت ۖکے شامل کئے گئے ۔ کیا موجودہ حکومت کے نصاب میں یہی اسلامی مضامین تھے۔ اگر ہم جماعت اول کی اُر دو کی پرانی کتاب اور2016-17 کی کتاب کا تقابلی جائزہ لیں۔ پرانی کتاب میں ''آپ ۖ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا لکھا گیا ہے''۔ جبکہ 016-17کی کتاب میں'' آپ ۖکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا'' حذف کیا گیا ہے اس کتاب میںکچھمضامین مثلاً'' قُر آن'' ،''ایک ہے نام اللہ کا''،''نماز پڑھو''کے عنوان سے نظم حذف کئے گئے ہیں۔ اسی طرح کلاس دوئم کی پُرانی کتاب سے کچھ مضامین مثلاً "ہمارے پیارے نبی ۖ کی پیاری باتیں"،"حضرت ابو بکر صدیق"،"ہمارے قائد اور پاکستان"، "حج کا سفر"، "حضرت عمر فا روق " اور " دعا" کی جگہ سال 2016-17ء کے نصاب کی نئی کتاب میں فضول قسم کے مضامین مثلاً "بنیادی پیشے"،" کھیلوں کی اہمیت"، "ریل گا ڑی کی کہانی"، "نینو کی کہانی"، "یا دگار سفر" اور" تصویری کہانی "شامل کئے گئے ہیں۔اسی طرح سال سوئم کی پرانی کتاب میں" آئیں نماز پڑھیں"،" مل جُل کر رہنا ہے" ،" اللہ کی آخری کتاب"، "حضرت علی مُرتضی "،" ہمیشہ سچ بولو ( عبد القادر جیلانی)" اورعلامہ اقبال کی مشہور ترین دعا" لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" کونکال کر اسکی جگہ" تصویری کہانی"، "لچو خرگوش"، "خط"، "سُنتی آنکھیں بولتے ہاتھ" اور"پولو "شامل کئے گئے ہیں۔اسی طرح جماعت چہارم کی اردو کی کتاب میں "حضرت عائشہ صدیقہ"،" علامہ اقبال"،" ٹیپو سلطان "،" قائد اعظم "، "مینار پاکستان "، "حضرت فاطمہ "، "امام ابوحنیفہ" اور" دعا "کے مضامین تبدیل کرکے اس کی جگہ" صحت صفائی"، "ہمارا ما حول" ، "ٹوٹ بٹوٹ کے مُر غے " اور" تصویری "مضامین شامل کئے گئے ہیں۔اسی جماعت پنجم کی اُر دو کتاب میں "حضرت عائشہ "،" درگزر" ،" حضرت بلال "،" قائد اعظم "، "میرا خدا" ، "رابعہ بصری"،"مجاہدہ اسلام حضرت خولہ "، "میجر عزیز بھٹی"،" دو کم سن مجاہد" ، "محمد بن بختیار خلجی" ،" دعا لب پہ آتی ہے" کے عنوان سے مضامین تبدیل کرکے سال 2016-17ء کے کتاب میں" ہمارے پیشے "،" مُددوں کا نیلا"، "پاکستانی مسیحا" ،"ماحول کی آلودگی" جیسے بے مقصد مضامین شامل کئے گئے ہیں۔ اسی طرح جماعت ششم کی عربی کی کتاب میں" حضرت محمد ۖ "سے متعلق اسباق ،" سورة فا تحہ" اور" سورة البقرة" کی پو ری سورتیں ختم کر کے اسکی جگہ" ڈاک خانہ"،" با غیچہ"،" شالیمار باغ"، "دستر خوان"، انسانی اعضاء "با رش، "صفائی"، "درہ خیبر "، "صبح کاترانہ "اور" مکالمہ" جیسے کم اہمیت کے مضامین شامل کئے گئے ہیں۔

اداریہ