Daily Mashriq


امید کی شمع

امید کی شمع

وطن عزیز کے ہر لمحے بدلتے موسم نے چاروں طرف مختلف رنگ بکھیر رکھے ہیںدوست کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی نازک موڑ سے گزر رہا ہے اب سب کو اس کے بارے میں سوچنا ہے اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر وطن کے مفادات کو مقدم سمجھنا ہے۔پیارے وطن کو چاروں طرف سے سازشوں نے گھیر رکھا ہے اغیار کی نظروں میں کھٹکنے والا اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔سیاست دان بھی بساط پر نظریں جمائے اپنے اپنے مہرے آگے بڑھا رہے ہیں سب کو دعوی حب الوطنی ہے سب اس کے بیٹے ہونے پر فخر کرتے ہیںبس ایک بات دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت اقتدار کے لیے سیاست کرتی ہے اگر اقتدار سے رخ موڑ کر خدمت کی طرف متوجہ ہوجائیں تو عوام کی حالت زار بہتر ہوسکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون مخلص ہے اور کون اپنے مفادات کے حصول کے لیے بلند و بانگ دعوے کر رہا ہے کچھ تو وہ ہیںجنہیں عوام بار بار آزما چکے ہیں جنہوں نے کہا تو بہت کچھ لیکن وہ عوام کی امنگوں پر پورے نہ اتر سکے وجوہات کچھ بھی ہوں عوام کی راہ میں کانٹے ہی اگتے رہے مہنگائی کا عفریت انہیں چاٹتا رہا ان کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی گئی انہیں حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا قربانیوں پر قربانیاں دینا ان کا مقدر ٹھہرا۔مملکت خدادا دمیں امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا چلا گیا۔چند دن پہلے ایک ڈرائیور ہمارے ساتھ اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہہ رہاتھا کہ جناب ہمیں اسلام آباد میں ایسا برگر کھانے کا اتفاق ہوا جس کی قیمت اٹھارہ سو روپے تھی ہم نے آدھا برگر کھایا تھا کہ ہمارا پیٹ بھر گیا ہم نے آدھا برگر اپنے پاس محفوظ کر لیا کہ گھر جاکر اپنے بچوں کو کھلائیں گے۔ پھر حیران ہو کر کہنے لگا کہ اس برگر میں ہوتا کیا ہے جو یہ اٹھارہ سو روپے لیتے ہیں ۔ ہم اس کی باتیں سن کر اس کے بھولپن پر مسکراتے رہے ۔ ہم اسے زیادہ معلومات اس لیے فراہم نہ کرسکے کہ ہم نے بھی ابھی تک وہ برگر نہیں کھایا بس اسے ادھر ادھر کی باتیں سنا کر بہلاتے رہے۔تمہیں اتنا قیمتی برگر کھانے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ ہمارا سوال سن کر بڑے زور سے ہنسا پھر کہنا لگا جناب آپ بھی بڑے بھولے ہیں میں اتنا قیمتی برگر کیسے کھا سکتا ہوں وہ تو دو نیک دل خواتین کے ساتھ میری ڈیوٹی تھی انہوں نے خود برگر کھائے تو ایک برگر مجھے بھی کھلایا۔آپ بھی کمال کرتے ہیں ہم تو دال روٹی کھا کر گزارا کرتے ہیں اور دال بھی کہاں ! دالوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔ہم نے اس کی فریاد سن کر کہا اللہ پاک نے رزق کا وعدہ کررکھا ہے اگر دال رزق حلال کے پیسوں کی ہو تو وہ اٹھارہ سو روپے والے برگر سے بدرجہا بہتر ہے۔ اس نے بڑی دلچسپی کے ساتھ ہماری بات سنی پھر اپنی آنکھوں میں امید کے دیے روشن کرتے ہوئے کہنے لگا کہ میرے ذہن میں اکثر یہ بات آتی ہے کہ پاکستان کے عوام بڑے دل والے ہیں جب بھی وطن عزیز پر کوئی سخت گھڑی آتی ہے تو یہ مردانہ وار آگے بڑھتے ہیں۔ بالاکوٹ میں زلزلہ آیا تو پوری قوم متاثرین زلزلہ کی مدد کرنے کے لیے آگے بڑھی۔ سب نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کی۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ غریب لوگ بھی مدد کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے اپنے پرانے کوٹ سویٹر گرم کپڑے نکال نکال کر کیمپوں میں جمع کرواتے رہے۔ میاںنواز شریف نے جو مہم قرض اتارو ملک سنوارو کے نام سے چلائی تھی اس میں عوام نے دل کھول کر حصہ لیا بعض خواتین نے تو اپنے زیورات تک دے ڈالے۔ یہ اور بات ہے کہ نہ ہی ملک سنور سکااور نہ ہی قرضہ اترا۔ عوام تب بھی پریشان تھے اور اب بھی پریشان ہیں۔عمران خان نے ہسپتا ل کے لیے چندہ مہم چلائی تو پوری قوم نے جی بھر کر چندہ دیا سکولوں کے بچے تک اس نیک کام میں پیچھے نہیں رہے۔ہم نے ڈرائیور صاحب کو روکتے ہوئے کہا جناب آپ عوام کی تعریف کر رہے ہیں ہمیں آپ سے اتفاق ہے کہ ہمارے عوام بڑے دل والے ہیں۔ افغانی ہمارے وطن میں پناہ گزیں ہوئے تو ہم نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایاان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کیا۔آپ کی سب با تیں بجا اور مناسب ہیں لیکن ہمیں یہ الجھن ہو رہی ہے کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔میرا سوال سن کر اس کا چہرہ جذبات سے تمتما اٹھا وہ بڑے جوش وخروش سے کہنے لگا کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ بڑے غور سے سن لیں۔ مجھے یقین ہے کہ اتنے اچھے عوام کو اللہ تعالیٰ کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ ہماری مصیبت کے دن بھی عنقریب ختم ہوں گے اور میرا دل کہتا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ایک ایسا رہنما ضرور دے گا جو ہماری قوم کی ڈولتی نیا کو منزل مقصود تک پہنچا کر رہے گا۔قوموں کی زندگی میں ساٹھ ستر برس کا عرصہ کوئی معنی نہیں رکھتا ہمیں نا امید نہیں ہونا چاہیے۔ آپ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے اللہ کی رحمت جب جوش میں آتی ہے تو پھر وہ انہیں دیانتدار رہنما بخشتا ہے جو اپنی ہمت اور خلوص سے قوم کو ترقی اور عروج کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے۔اللہ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔ ہمارے دل والے عوام کے دن بھی ضرور پھریں گیاانہیں دھوکہ دینے والے خاک چاٹتے نظر آئیں گے ۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب اللہ پاک کی رحمت جوش میں آتی ہے اس کا کرم اپنے بندوں پر ہوتا ہے تو پھر معجزات کا ظہور ہوتا ہے۔پھر ایک آن میں قوم کی کایا پلٹ جایا کرتی ہے ہمیں صرف اپنے رب کریم کو پکارنا چاہیے اور اس یقین کے ساتھ کہ وہ ضرور ہماری مدد کرے گا۔

متعلقہ خبریں