Daily Mashriq


افغانستان میں داعش کا بڑھتا خطرہ اور خطے پر اس کے اثرات

افغانستان میں داعش کا بڑھتا خطرہ اور خطے پر اس کے اثرات

ایک افغان سیکورٹی عہدیدارنے کی جانب سے کابل میں داعش کے بیس سے زائد سیل کے کام کرنے کا اعتراف پڑوسی ملک میں خطرے کی گھنٹی نہیں بلکہ حالات و واقعات کے تناظر میں اسی کے پاکستان پر بھی ممکنہ اثرات سے صرف نظر ممکن نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی افغانستان میں شروع کی گئی لیکن آہستہ آہستہ اس کے اثرات سرحد کے اس پار منتقل ہوئے یا پھر منتقل کئے گئے جس کے بعد پاکستان کو ایک طویل اور صبر آزما حالات سے گزرنا پڑا۔ لیکن بہر حال چونکہ ہماری فوج سول حکومت اور عوام سبھی نے قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کرتے ہوئے ان سنگین حالات سے گزرنے کاتجربہ کرلیا ہے اور خاص طور پر قبائلی علاقوں اور سرحدوں کی نگرانی و تطہیر کا عمل مکمل کرتے ہوئے مختلف قسم کے تجربات سے واسطہ پڑا ہے بنا بریں اس ممکنہ خطے سے نمٹنے بلکہ اس سے ملک کو پیشگی اقدامات کے ذریعے محفوظ بنانے میں زیادہ مشکل کا سامنا دکھائی نہیں دیتا۔ اس خطرے کا سب سے پریشان کن پہلو یہ ہے کہ انتہا پسندی کی نئی لہر میں ان پڑھ اور دیہاتی نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ افراد ملوث ہیں۔ افغان تجزیہ کاروں نے کہاہے کہ مڈل کلاس افغان شہری داعش کو دور دراز کے دیہات سے نکال کر ملکی دارالحکومت کابل تک میں لے آئے ہیں۔ اس طرح دارالحکومت کابل اب ممکنہ طور پر افغانستان کا سب سے پرتشدد شہر بن سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران دارالحکومت کابل میں تقریباً بیس مسلح حملوں کی ذمہ داری جہادی تنظیم داعش قبول کر چکی ہے۔ یہ تمام حملے طالب علموں، پروفیسروں اور ایسے دکانداروں کی مدد سے کئے گئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ داعش کے خطرے کا سامنا افغانستان کا داخلی معاملہ ہے جہاں امریکہ مزید تیرہ ہزار فوجی تعینات کرنے جا رہا ہے۔ اس کے باوجود پڑوسی ریاست ہونے کے ناتے اس کی سرحد کے اس پار کسی نہ کسی طور اثرات خارج از امکان نہیں۔ البتہ اس معاملے میں جو سب سے تشویشناک اور پریشان کن امکان ہے وہ یہ کہ چونکہ داعش کا بنیادی مقصد افغانستان میں بھی عراق اور شام کی طرح شیعہ سنی تفریق پیدا کرنا ہوسکتا ہے اس طرح کی کوشش کے اثرات پاکستان اور ایران پر مرتب ہونے کے خطرات سے صرف نظر ممکن نہیں بلکہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ فرقہ وارانہ عدم ہم آہنگی کا خطرہ سب سے بڑا خطرہ ہوگا۔ ا س سے خطے میں نفرت اور تصادم کی جو راہ ہموار ہوگی اس کے اثرات سے پاکستانی معاشرہ ہی نہیں پاک ایران تعلقات پر بھی اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں جبکہ پہلے سے تباہی کا شکار اور متصادم فریقوں کے ملک افغانستان میں ایک اور نوعیت کے تصادم کی راہ ہموار ہوجائے تو اس کے پاکستان کے سرحدی علاقے کرم ایجنسی اور ڈیرہ اسماعیل خان کی فضا پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں اور من حیث المجموع پاکستانی معاشرے کی خدانخواستہ فرقہ وارانہ تفریق کی خلیج کے وسیع ہونے کا امکان پیدا ہوگا۔ ہمارے تئیں محولہ صورتحال امکانات کی حد تک بھی ممکن ہے اور اس کو حقیقت کا روپ بھی مل سکتا ہے۔ بنا بریں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں سیکورٹی کی صورتحال کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ دی جائے بلکہ سیاسی صورتحال کو بھی اس تناظر میں کشیدگی پر مبنی حد تک نہ لے جایا جائے جبکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خاص طور پر مزید بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔ مقام اطمینان یہ ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی منظم وجود نہیں اور جدید طریقوں کا استعمال کرنے والے عناصر پر اسی طرح کی مہارت سے نظر رکھنے ‘ ان کامقابلہ کرنے اور ان کو ناکام بنانے کا بھی معقول بندوبست موجود ہے اور پاکستان میں اس طرح کے عناصر کے خلاف کامیاب کارروائیوں کی مثالیں موجود ہیں لیکن دوسری جانب اگر افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو افغانستان میں اولاً سیکورٹی سطح پر پورے ملک پر افغان حکومت اور اتحادی امریکی افواج کا کنٹرول نظر نہیں آتا۔ وہاں پر تیس فیصد سے زائد حصے پر افغان حکومت کی عملداری ہی نہیں باقی تیس فیصد پر نیم عملداری کی کیفیت ہے جبکہ باقی ماندہ علاقے میں بھی دن میں جدا اور رات میں جدا معاملہ ہے۔ یہاں تک کہ کابل کے حساس ترین سیکورٹی اور سفارتی زون میں بھی کبھی بھی کسی بھی وقت کسی بڑے واقعے کا امکان رہتا ہے جس سے پورا ملک لرز جاتا ہے۔ یوں افغانستان کا داعش کے لئے بہتر پناہ گاہ اور آماجگاہ بن جانا فطری امر ہے اور اس کیفیت سے داعش پوری طرح فائدہ اٹھا رہی ہے جس کا اعتراف خود افغان تجزیہ کار بھی کر رہے ہیں۔ افغان تجزیہ کاروں نے جن خدشات اور خطرات کا اظہار کیا ہے وہ افغان حکومت ‘ امریکہ اور پوری دنیا کے لئے قابل غور امر ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ عالمی حالات کے باعث اب پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت اعتماد کے اس درجے پر نہیں رہی کہ دونوں کے تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے اس طرح کے خطرے کو کم کرنے کی سعی کی جاسکے۔ ہمارے تئیں یہ افغان طالبان ہی ہیں جن کی طاقت کے سامنے داعش کی افغانستان میں منظم ہونے کی کوششوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ وگرنہ صورتحال مختلف بھی ہوسکتی تھی۔ ان تمام حالات میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورتحال پر نظر ثانی کرنی چاہئے تاکہ داعش کے خطرے سے افغانستان کو بچایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں